

منصور احمد, August 04,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں ملک میں سولر پاور کی مجموعی پیداواری استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب جا پہنچی ہے۔
سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے واضح کیا کہ پاکستان میں اب بجلی کی پیداوار کی کمی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سب سے بڑا چیلنج پیدا ہونے والی بجلی کا مؤثر استعمال اور اسے ذخیرہ (اسٹوریج) کرنا ہے۔ انہوں نے بتایاک ہ دن کے اوقات میں سولر کی وجہ سے بجلی کی اضافی پیداوار میسر ہوتی ہے جبکہ شام ہوتے ہی طلب میں یکدم نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے گرڈ پر دباؤ بڑھتا ہے۔
اویس لغاری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری اور گرڈ کے استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی ملکی توانائی کی خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار پاکستان کی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ حال ہی میں قطر سے آر ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے پر ملک کو رات کے اوقات میں مجبورا ًلوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دن کے وقت سولر کی وافر دستیابی کی وجہ سے صورتحال نسبتاً بہتر اور قابو میں رہی۔
وزیر توانائی نے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار میں صاف ستھری توانائی (کلین انرجی) کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت نے سال 2035ء تک اس حصے کو 90 فیصد تک لے جانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف سولر اور ونڈ پاور کے ذریعے یہ 90 فیصد کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ جدید بیٹری اسٹوریج کا نظام موجود نہ ہو۔
حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ پاکستان میں باہر سے بیٹریوں کی صرف درآمد پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، اور ان پائلٹ پروجیکٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور نتائج مستقبل کی قومی ریگولیٹری پالیسی کی بنیادی بنیاد بنیں گے۔
تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر توانائی نے عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کھلی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی تمام عملی سفارشات کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا۔