تارکینِ وطن ملک کا قیمتی اثاثہ، سفری دستاویزات کی فوری تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل قائم کرنے کی ہدایت: سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔

وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی سے ہی پاکستان کا دفاع و استحکام ممکن ہے: یومِ دفاع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کے شہداء، غازیوں اور موجودہ عسکری قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی و سیکیورٹی تاریخ کا وہ سنہری اور یادگار دن ہے جب پوری قوم نے سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر غیر متزلزل قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، اپنے ایک اہم اور تفصیلی قومی بیان میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں نے دشمن کی عددی برتری کے مقابلے میں جس غیر معمولی جرات، پیش ورانہ عزم اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ملکی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی پاکیزہ قربانیاں اور غازیوں کا جذبہ آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر نے شہداء کے سوگوار اہل خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کے بعد بے مثال صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے قوم کے سر کو فخر سے بلند رکھا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک امن پسند ملک ہے جو خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع پر کامل یقین رکھتا ہے؛ تاہم ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری قوم ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہم متحد اور پرعزم ہے۔

وزیرِ قانون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، جمہوری اقدار کی پاسداری، آئین و قانون کی حکمرانی اور مضبوط ریاستی ادارے ہی کسی بھی ملک کی حقیقی دفاعی اور معاشی خودمختاری کی بنیادی ضمانت ہوتے ہیں۔ انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ ہم شہداء کی قربانیوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک پرامن، قانون کی بالادستی پر مبنی اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فعال قومی کردار ادا کریں۔

اقلیتوں کے حقوق اور کرسچن پرسنل لاء پر پیش رفت جاری رہے گی: وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے تمام قانونی و پالیسی امور پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔

نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد سے ملاقات کے دوران کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل، کرسچن پرسنل لاء، تعلیمی و روزگار کے مساوی مواقع، اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے مسیحی خواتین کے شادی و طلاق سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس پر وفاقی وزیر نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو ‘نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس’ کے قیام سے متعلق جاری قانون سازی اور پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام نمائندگان کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

حنا جاوید قتل کیس: قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا ایوان کو یقین دہانی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کے واقعے پر قومی اسمبلی میں اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دلا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور حکومت اس کیس کی قانونی پیروی خود کرے گی۔

قومی اسمبلی میں تفصیلی بیان دیتے ہوئے وزیرِ قانون نے بتایا کہ مقتولہ حنا جاوید قومی اسمبلی میں فرائض انجام دیتی رہی ہیں، اس لیے اس دلخراش واقعے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پنجاب حکومت، ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اور سی پی او راولپنڈی سے فوری رابطہ قائم کیا گیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو بنیادی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جو فی الوقت تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل کو خصوصی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جنہوں نے کیس کی شفاف اور مضبوط تفتیش کے لیے ایک مخصوص پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی ہے جو معاملے کی خود نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور ویمن کاکس کو وزارتِ قانون و انسانی حقوق کی جانب سے تمام تر مطلوبہ قانونی و انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ مظلوم خاندان کو بلا تاخیر انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

دہشت گردی کے متاثرین کے عالمی دن پر وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام: شہدا اور ان کے اہل خانہ کے حقوق و وقار کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے تمام متاثرین اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق، انصاف اور وقار کا تحفظ ریاست کی اولین اور اہم ذمہ داری ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے “دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن” کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں شہدا کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے بسالت مند اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو قوم قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف اور قانونی معاونت کی بروقت فراہمی ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے، اور انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی اور متاثرین کی بحالی کا مؤثر نظام حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان امن، انسانی حقوق اور آئین کی پاسداری کے عزم پر قائم ہے۔

انسانی ہمدردی کے عالمی دن پر دنیا بھر کے امدادی کارکنان کو خراجِ تحسین: وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا اہم پیغام

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ سخت، مشکل اور انتہائی خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارکنان کی خدمات بلا شبہ قابلِ تحسین ہیں، جو دنیا بھر میں انسانیت، باہمی ہمدردی اور بے لوث خدمت کی روشن ترین مثال قائم کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف کسی آفت کے وقت فوری امدادی سامان کی فراہمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ متاثرین کے وقار، مکمل تحفظ اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا بنیادی تقاضا بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دیگر نادیدہ بحرانوں کے دوران متاثرہ افراد، بالخصوص خواتین، بچوں، معذور افراد اور دیگر معاشی یا سماجی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کو بلا کسی امتیاز کے مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میں ریاستی اداروں، سول سوسائٹی کے تنظیموں، طبی عملے اور ہر سطح کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں کوئی بھی انسان بے یارومددگار نہ رہے، یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے انسانی حقوق، احترامِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مؤثر انسانی ہمدردی کے نظام میں محض فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی مکمل بحالی، انہیں عدل و انصاف اور تمام بنیادی زندگی کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی عالمی سطح پر آپسی تعاون اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں تمام ضرورت مند انسانوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔

سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں: قانون دان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق اجلاس کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء، سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء، متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء اور بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے تمام سرکاری تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت پر زور دیا جبکہ پی پی آر اے کے اختیارات میں اضافے اور ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خریداری میں شکایات کے آزادانہ ازالے، تھرڈ پارٹی جائزے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کے لیے ایک جامع اور موثر نظام بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔

ہر قیدی کے لیے قانون ایک ہونا چاہیے، کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا: وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں ملک کا ہر شہری اور قیدی برابر ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی خصوصی سہولت یا الگ قانون کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا نظام قانون اور ضابطے کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے لیے الگ سے قوانین وضع نہیں کیے جا سکتے۔

وزیرِ قانون نے پارلیمانی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں اور دیگر سہولیات کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اوپن کورٹ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے معاون کے طور پر جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں جیل کے اندر خوراک، صفائی، ورزش کے اوقات اور سیل کی سہولیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو پھر کسی ایک قیدی کو ایسی خصوصی سہولتیں کیسے دی جا سکتی ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے ڈاکٹر سے علاج یا دیگر انفرادی مراعات دی گئیں تو یہی حق ملک کی جیلوں میں بند ہر عام قیدی کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اصول اور قوانین عمران خان کے لیے ہیں، وہی نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر سیاسی رہنما اور عام شہری کے لیے بھی یکساں ہیں۔ انہوں نے سینیٹرز اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پہلے قوانین کا جائزہ لیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں۔

جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے زبردست موقع، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی ترجیح ہے: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک زبردست اور اہم موقع ہے، پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے جاری ہے۔

بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے وفد کے ہمراہ ہونے والی اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور سیکریٹری وزارت انسانی حقوق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق سے متعلق ترجیحات، قومی ایکشن پلان 2026ء پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے وفد کو بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن کو بھی جلد مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد، زیادتی کے کیسز اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے حکومت انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور جی ایس پی پلس کی ترجیحات پر مزید مؤثر پیش رفت کی جائے گی۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے انسانی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی شناخت اور حقوق کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا؛ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، منفرد شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی و انسانی پہلوؤں کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کا دن پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بے پناہ مشکلات، شدید غیر یقینی صورتحال اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی امن، انصاف اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی مسلسل خواہشات عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پختہ یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، اور دنیا کے ہر فرد کو بلاامتیاز عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے اس اصولی اور قانونی مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا دائمی، منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام مناسب بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یومِ استحصالِ کشمیر پر ہم انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب جموں و کشمیر کے عوام مکمل امن، آزادی اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔

مستونگ: سیشن جج پر حملہ ریاست اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے، ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا؛ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس بزدلانہ واقعے میں ملوث ہر کردار کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ قانون نے دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے باڈی گارڈ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واقعے میں شدید زخمی ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ حکومت صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں ہر صورت پوری کرے گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران ملاخیل سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جنہوں نے تحقیقات اور قانونی کارروائی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیازی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عدلیہ پر حملہ درحقیقت ریاست، آئین اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے۔ حکومت ملک میں عدلیہ کے تحفظ اور انصاف کی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کرے گی اور امن دشمن عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔