مستونگ: سیشن جج پر حملہ ریاست اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے، ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا؛ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس بزدلانہ واقعے میں ملوث ہر کردار کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ قانون نے دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے باڈی گارڈ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واقعے میں شدید زخمی ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ حکومت صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں ہر صورت پوری کرے گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران ملاخیل سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جنہوں نے تحقیقات اور قانونی کارروائی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیازی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عدلیہ پر حملہ درحقیقت ریاست، آئین اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے۔ حکومت ملک میں عدلیہ کے تحفظ اور انصاف کی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کرے گی اور امن دشمن عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔