

محمود احمد, September 20,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے سات بنیادی شرائط مقرر کی ہیں اور یہ تمام شرائط باضابطہ طور پر واشنگٹن کو پہنچا دی گئی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محسن رضائی نے واضح کیا کہ اگر امریکی انتظامیہ موجودہ بحران سے نکلنا چاہتی ہے اور صورتحال کو مزید پیچیدہ ہونے سے بچانا چاہتی ہے تو اسے ایران کے حقوق اور ان پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا، کیونکہ مستقبل میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کا انحصار انہی مطالبات کی منظوری پر ہے۔
اگرچہ محسن رضائی نے ان ساتوں شرائط کی تفصیلی فہرست اپنے بیان میں پبلک نہیں کی، تاہم ان کے اس اعلان سے قبل سامنے آنے والے بیانات میں ایران کی جانب سے تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی فوری واگزاری اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے جیسے نکات شامل رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ شرائط قطر اور پاکستان کے سفارتی ذرائع اور وساطت سے امریکہ تک پہنچائی گئی ہیں اور تہران اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
اس اہم سفارتی پیش رفت کی تائید ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اپنے خطابات میں کی ہے، جنہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، ایرانی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک واشنگٹن ان کی پیشگی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو معمول کی آمدورفت کے لیے کھولنے یا مذاکرات کی پرانی صورتحال بحال کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ فی الحال امریکہ کی جانب سے ان شرائط کی قبولیت یا باضابطہ مذاکرات پر کوئی حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
امریکہ کو سات شرائط کی منتقلی کا دعویٰ ایرانی عہدیدار کے بیان پر مبنی ہے۔ ان تمام شرائط کی مکمل تفصیلات اور امریکی انتظامیہ کا باضابطہ موقف سامنے آنا باقی ہے، اس لیے موجودہ مرحلے کو حتمی پیش رفت کی بجائے سفارتی رابطوں کا سلسلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماخذ: مڈل ایسٹ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز تہران / واشنگٹن۔