Latest news

نورستان میں مسلح گروہوں کی دراندازی کا الزام، افغان طالبان نے پاکستانی سفارت کار کو طلب کر لیا

Spread the love

روزینہ اسماعیل, September 29,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 29 ستمبر 2026ء

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے نورستان میں مبینہ سرحد پار دراندازی کے معاملے پر احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ہے۔ افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ تخریبی مسلح عناصر ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغان صوبے نورستان میں داخل ہوئے۔

افغان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے اس واقعے پر افغان حکومت کا مؤقف پہنچایا گیا۔ وزارت نے اپنے بیان میں مسلح عناصر کی جانب سے سرحد عبور کرنے کے معاملے پر احتجاج کیا، تاہم فراہم کردہ معلومات میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اس مخصوص احتجاجی مراسلے پر باضابطہ ردعمل کی تفصیل موجود نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سکیورٹی، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور ایک دوسرے پر عسکریت پسندوں کی حمایت کے الزامات کے باعث کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

نورستان اور کنڑ میں جھڑپوں کی اطلاعات

حالیہ دنوں میں پاکستان سے متصل افغان صوبوں نورستان اور کنڑ میں طالبان حکومت کی فورسز اور مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

طالبان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلح جنگجو ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں داخل ہوئے اور انہیں پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی اور پاکستان کی جانب سے اس مخصوص واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔

طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نورستان کے ضلع کامدیش میں ڈیورنڈ لائن کے قریب شرپیٹ اور لنڈی پیٹ کے علاقوں میں خصوصی فورسز اور پاکستانی ملیشیاؤں، داعش اور ایک دوسرے مسلح گروہ کے درمیان جھڑپ ہوئی۔

ذریعے کے مطابق ان جھڑپوں میں مبینہ طور پر 10 سے زائد جنگجو ہلاک جبکہ چھ دیگر کو زندہ گرفتار کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار افغان ذریعے سے منسوب ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی

پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سرحدی سلامتی کے معاملات گزشتہ عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم مسلح گروہ پاکستانی علاقوں میں حملوں میں ملوث ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے سرحد پار حملوں اور اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزیوں پر احتجاج کرتی رہی ہے۔

27 ستمبر کو پاکستان کی وزارت اطلاعات نے نورستان میں مبینہ جھڑپوں سے متعلق پاکستان پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز یا انٹیلیجنس اداروں کا ان واقعات سے تعلق نہیں۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کے ملوث ہونے کے دعوؤں کے حق میں قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئےدونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی کشیدگی میں سرحدی واقعات اور عسکری کارروائیوں کے الزامات نمایاں رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سفارتی رابطے اور واقعات کی غیر جانب دارانہ تصدیق خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

افغان وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستانی سفارت کار کو طلب کرنے اور احتجاجی مراسلہ دینے کی اطلاع افغان حکام کے بیان پر مبنی ہے۔ نورستان میں جھڑپوں، ہلاکتوں اور پاکستان کی مبینہ معاونت سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ پاکستان نے 27 ستمبر کو نورستان کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کیے تھے۔

ماخذ: افغان وزارت خارجہ، پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات، بی بی سی سے منسوب افغان ذریعے کی فراہم کردہ تفصیلات۔