دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں کا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی اتحاد کی اہم خصوصیات

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

دنیا کی تین بڑی اور اہم مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ‘مکہ معاہدے’ کے تحت ایک جدید اور تاریخی مشترکہ دفاعی اتحاد وجود میں آ گیا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ عالمی جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کو عالمی و علاقائی سیاست کے ماہرین خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اپنی اپنی منفرد خصوصیات اور اعلیٰ صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق اس معاہدے کی بنیادی اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی مانی ہوئی جوہری و ملٹری صلاحیت، سعودی عرب کی بے پناہ توانائی، مالیاتی وسائل و معاشی طاقت اور ترکی کی جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی و ٹیکنالوجیکل صنعت ایک ساتھ مجتمع ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ تینوں مسلم ممالک مختلف بلاکس یا معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں طاقتور ممالک نے ایک مشترکہ چھتری تلے جمع ہو کر دفاعی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔

اگرچہ مکہ معاہدے کا پورا باضابطہ متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی قیادت کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق اس باہمی معاہدے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے مشہور زمانہ ‘آرٹیکل 5’ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اہم شق کا سیدھا اور واضح مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ دشمن یا جارح قوت کو حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت دینا ہے۔

دفاعی و سٹریٹیجک تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کے مسلح تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی دفاعی مدد، لاجسٹکس اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح اگر مشرقِ وسطیٰ، شام یا مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ساتھ ترکی یا سعودی عرب کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستانی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

تاہم دیگر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کو کسی تنازع کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دیگر دو ممالک کا فوری اور راست طور پر جنگ میں کود پڑنا واحد راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے معاہدے کی شرائط کے تحت متاثرہ ملک کو اعلیٰ درجے کا جدید ترین اسلحہ، دفاعی ڈرونز، مشترکہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی و معاشی تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی جارحیت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں، جنگی سامان کی باہمی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری حاصل ہوگی اور مغربی یا بیرونی ممالک پر فوجی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔

صنعتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کی حفاظت، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن، سعودی عرب کے مالیاتی وسائل اور ترکی کی صنعتی طاقت کا یہ ملاپ ایک ایسا نیا معاشی و دفاعی بلاک تشکیل دے رہا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

عالمی طاقتوں کی جانب سے اس نئے اتحاد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند اور مسلم امہ کے اتحاد کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری جانب روایتی حریف ممالک اور عالمی سیاسی کھلاڑی اس نئے طاقت کے مرکز کی تشکیل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دور میں علاقائی خود مختاری اور باہمی دفاعی تعاون ہی کسی بھی ملک کی سلامتی کی حتمی ضمانت بن کر سامنے آئے گا۔

ایتھوپیا اور پاکستان کا زراعت، لائیو سٹاک اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پیش رفت کے لیے زراعت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان علم اور تجربات کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک جامع زرعی معاہدے کی تجویز سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سفیرِ ایتھوپیا نے اپنے ملک کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومتِ ایتھوپیا کی جانب سے اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایتھوپیا کے “گرین لیگیسی انیشی ایٹو” کو پائیدار ترقی، زرعی نمو اور غذائی تحفظ کا جامع پروگرام قرار دیتے ہوئے اس کا تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور پاکستانی زرعی کاروباری شخصیات کو ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وفاقی وزیر کو 2027ء میں ادیس ابابا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس “کوپ 32” کی میزبانی سے متعلق تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی تحقیق، جدید کاشتکاری کی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو سٹاک اور ایگرو پروسیسنگ کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے مکمل تکنیکی معاونت کی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فصلوں کی پیداواری صلاحیت، معیاری بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے محفوظ زراعت اور مشینی کاشتکاری میں تعاون کو نمایاں وسعت دے سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا لیبیا کے زیرِ قیادت سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کے لیے حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 19,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کے اندر پائیدار امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی یکجہتی کے لیے مسلسل مذاکرات، حقیقی یکجہتی اور قومی مفاہمت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع، لیبیا کے اپنے زیرِ قیادت اور ان کی اپنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور آگے بڑھانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے لیبیا کے حوالے سے منعقدہ اہم بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے لیبیا کے سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سفیر عاصم نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی معاونت سے جاری اس سیاسی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے لیبیا کے تمام اندرونی اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مضبوط سیاسی عزم اور باہمی تعاون کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان نے یو این ایس ایم آئی ایل کے سیاسی روڈ میپ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کے بورڈ کے چیئرپرسن کی تقرری کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق بھی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے اختتام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس گفتگو کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات جلد ہی ادارہ جاتی یکجہتی اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی شکل اختیار کریں گی۔

امورِ سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے فوجی و سکیورٹی اداروں کے درمیان قائم ہونے والے رابطوں، بالخصوص فائیو پلس فائیو جوائنٹ ملٹری کمیشن کے ذریعے ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر متحد اور ایک ہی فریم ورک کے تحت کام کرنے والے سکیورٹی اداروں کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات مسلسل جاری رہنے چاہئیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں 2026ء کے یونیفائیڈ اسپینڈنگ فریم ورک کے ذریعے مالیاتی ہم آہنگی میں سامنے آنے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور ملکی سطح پر اقتصادی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کی تمام علاقوں میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے اندر عدالتی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم نے کہا کہ سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور عدالتی شعبوں میں متوازن پیش رفت ہی قومی مفاہمت اور ایک مضبوط و متحد حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گی، جو لیبیا کے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ان تمام مقاصد اور کوششوں کے لیے پاکستان کی طرف سے مسلسل اور مکمل حمایت فراہم کرنے کا عزم دہرايا۔

پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس: خدمات کے شعبے میں تجارتی معاہدے اور میڈیا شراکت داری پر اتفاق

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے قومی میڈیا اداروں کے درمیان نشریاتی تعاون اور مواد کے تبادلے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

وزارت اقتصادی امور ڈویژن سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا دو روزہ 9 واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے کی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ وزارتی کمیشن کے متفقہ پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن اور بیلاروس کے نیشنل سٹیٹ ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کے درمیان باہمی تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط عمل میں آئے۔

صنعتی اور زرعی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ زراعت کے شعبے میں سی فوڈ، پھلوں، بیجوں اور ڈیری پروڈکٹس کے لیے آن لائن بزنس ٹو بزنس اجلاسوں اور نمائشوں کے انعقاد پر فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کوالٹی کنٹرول معیارات کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ بیلاروس نے پانی کے تحفظ اور فضلے کے انتظام کی جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔

پاکستانی جانب سے بیلاروس کی معیشت کے لیے ماہر اور غیر ماہر افرادی قوت کی منظم فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے چیئرمینوں نے اجلاس کے نتائج اور فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا بڑا اعلان: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو جیسا اتحاد ہے، مصر بھی جلد شامل ہوگا

محمود احمد, August 09,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خطے میں جاری جنگ، بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو کہ نیٹو کی طرز کا ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ایران یا کوئی اور ملک اس دفاعی معاہدے کا براہِ راست ہدف نہیں ہے، اور جب تک اس اتحاد کے کسی رکن پر حملہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے ملک کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا، کیونکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پہلے ہی مصر کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہے ہیں جیسے وہ اس باقاعدہ دفاعی اتحاد کے رکن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی شمولیت میں چند تکنیکی اور انتظامی امور باقی ہیں جن کے حل ہوتے ہی مصر اس معاہدے میں باقاعدہ شامل ہو جائے گا۔

ہاکان فیدان نے مزید بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا، بلکہ صدر رجب طیب اردگان کی سوچ کے مطابق اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی دفاعی چھتری کے نیچے لایا جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں اس تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر عسکری یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی و بحری آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی مؤثر حکمتِ عملی: 8 ماہ میں ڈینگی کے صرف 3 کیسز رپورٹ، انسدادِ ڈینگی کارروائیاں تیز

کاشف عباسی , August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت میں ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے مؤثر اقدامات اور لاروا کنٹرول آپریشنز کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال یکم جنوری سے 6 اگست تک اسلام آباد بھر میں ڈینگی کے صرف 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔

یہ پیش رفت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت سمیت لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال اور سال 2024، 2025 اور 2026 کے اعداد و شمار کا تفصیلی تقابلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی اور لاروا کی افزائش کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اس دوران 170 افراد کو گرفتار، 35 مقامات کو سیل، 70 مقدمات درج اور 21 لاکھ روپے سے زائد کے بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

بریفنگ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران مختلف ہاٹ سپاٹس سے 7,066 مثبت اور 499 منفی لاروا پوائنٹس رپورٹ ہوئے، جبکہ ‘انڈور ویکٹر سرویلنس’ مہم کے تحت اسلام آباد کے 1 لاکھ سے زائد گھروں کی تفصیلی انسپکشن مکمل کر لی گئی ہے۔

اجلاس میں سی ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے تمام اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی صحت کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ڈینگی کی روک تھام کے لیے تمام تر وسائل کا استعمال جاری رہے گا۔

یوم استحصالِ کشمیر: مقبوضہ وادی پر بھارتی تسلط کے خلاف ملک گیر ریلیاں اور مظاہرے

کاشف عباسی , August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیر قانونی بھارتی تسلط اور 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں، سیمینارز اور آگہی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں شرکا نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اور جابرانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مظلوم کشمیریوں سے کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔

آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں میں اس روز کے حوالے سے بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ مظفر آباد میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا جبکہ میرپور میں چوک شہیداں تک ایک شاندار اور بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بیت المکرم سے شروع ہونے والی ریلی میں نوجوانوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کی، جبکہ لاہور میں بھی سیمینارز اور ریلیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔

پنجاب کے دیگر اضلاع بالخصوص ڈسکہ اور حافظ آباد میں سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے زیراہتمام ریلیاں نکالی گئیں جن میں شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ خیبرپختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں مظاہرین نے عالمی برادری سے مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان بھر میں بھی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا گہرا اثر دیکھا گیا۔ واشک، جعفر آباد، ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور حب کے غیور عوام سڑکوں پر نکل آئے اور کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان ملک گیر مظاہروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔