Latest news

حوثی رہنما کا سعودی اتحادی افواج کی پیش قدمی کے دعووں کو مسترد کرنے کا دعویٰ

Spread the love

محمود احمد, October05,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء

یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے یمن میں حالیہ فوجی کارروائی اور پیش رفت سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف فریق کی فوجی کامیابیاں زمینی حقیقت کے بجائے میڈیا اور سوشل میڈیا تک محدود ہیں۔

بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو کرتے ہوئے حزام الاسد نے سعودی فریق کے دعووں کو ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ زمینی صورتحال ان دعووں کے برعکس ہے۔ ان کے بقول مخالف فورسز مسلسل پسپائی اختیار کر رہی ہیں۔

حوثی رہنما کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی فضائی معاونت کے ساتھ حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

یمنی حکومت نے اس کارروائی کو ’فجر الیمن‘ کا نام دیا ہے، جس کا مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور اہم علاقوں میں حکومتی کنٹرول بحال کرنا بتایا گیا ہے۔ حالیہ لڑائی میں باب المندب آبنائے اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 324 اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق اتحادی فضائیہ باب المندب کی فضائی حفاظت بھی یقینی بنا رہی ہے جبکہ زمینی فورسز کی معاونت کے لیے فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب حوثی تحریک نے اتحادی افواج کے فوجی دعووں کو مسترد کیا ہے۔ حزام الاسد کا کہنا ہے کہ زمینی محاذ پر صورتحال ایسی نہیں جیسا کہ سعودی قیادت میں اتحادی فورسز کی جانب سے بیان کیا جا رہا ہے۔

یمن میں تازہ لڑائی کئی برس کی نسبتاً کم شدت والی صورتحال کے بعد ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر کشیدگی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ پیش رفت میں باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یمن میں جاری فوجی کارروائی کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہ سکتے اور بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں بحری سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حوثی رہنما حزام الاسد نے اتحادی افواج کی فوجی کامیابیوں کے دعووں کو مسترد کیا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے اس کے برعکس بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی اور 324 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں فریقوں کے متضاد دعووں کے باعث زمینی صورتحال سے متعلق تمام تفصیلات کو حتمی طور پر آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ماخذ: سعودی قیادت میں اتحادی افواج کا بیان، ایسوسی ایٹڈ پریس، فنانشل ٹائمز