

محمود احمد, October05,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
الاسکا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر ایران کے کردار کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 بدھ 30 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تل ابیب کے بین گورین ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پرواز کے دوران طیارے کے کاک پٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آیا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق طیارہ چند لمحوں میں تقریباً 14 ہزار فٹ سے زیادہ نیچے آگیا۔ واقعے کے دوران مسافروں اور عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ طیارے کے کپتان زخمی ہوگئے۔
تحقیقات کے مطابق طیارے کے معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا اور مبینہ طور پر طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کپتان زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد مسافروں، عملے اور دیگر پائلٹس نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد دی۔
طیارے نے بعد ازاں سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی، جہاں دونوں پائلٹس کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعے کے محرکات اور ممکنہ دہشت گردی یا کسی بیرونی ہدایت سے تعلق کی تحقیقات مختلف حکام کی جانب سے جاری ہیں۔
ایران کے ممکنہ کردار کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی اور امریکی حکام نے واقعے کے پس منظر اور ممکنہ محرکات کی مختلف جہتوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تاہم امریکی نائب صدر کے تازہ بیان کے مطابق ایران کو واقعے سے جوڑنے والا کوئی حتمی ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات اور فضائی سفر سے متعلق احتیاطی اقدامات پر بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
فلائی دبئی پرواز کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس کے محرکات سے متعلق مختلف امکانات زیرِ غور رہے ہیں۔ ایران کے ملوث ہونے کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی ثبوت سامنے نہ آنے کی بات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی ہے، اس لیے ایران کے کردار سے متعلق کسی دعوے کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ماخذ: جے ڈی وینس کا بیان، فلائی دبئی، ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز