

محمود احمد (نیوز اینڈ نیوز) 04 مئی 2026
چار میزائل فائر کرنے کا دعویٰ، تین تباہ، ایک سمندر میں
ابوظہبی ، متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اس کی سمت چار کروز میزائل فائر کیے گئے، جن میں سے تین کو فضائی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا جبکہ ایک میزائل سمندر میں جا گرا۔
اماراتی حکام کے مطابق دفاعی نظام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ خطرے کو ناکام بنایا، اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
🛡️ فضائی دفاع اور سیکیورٹی صورتحال
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنائی دینے والی آوازیں دراصل میزائل اور ڈرون خطرات کو ختم کرنے کے دوران پیدا ہوئیں۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام مسلسل الرٹ ہے اور ہر قسم کے خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا افواہ سے گریز کریں۔
⚠️ ہنگامی الرٹس اور علاقائی کشیدگی
رپورٹس کے مطابق یو اے ای کے مختلف علاقوں میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے، جو جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کے پہلے الرٹس قرار دیے جا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے اور سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
🚢 تیل بردار جہاز پر مبینہ حملہ
اس سے قبل اماراتی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ جہاز ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) سے منسلک تھا۔ اماراتی حکام نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارت اور سمندری قوانین کے لیے خطرہ ہیں۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور عملہ محفوظ رہا۔
🌍 عالمی اثرات اور خدشات
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی تو اس کے بین الاقوامی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔




























