ایران کا بڑا عسکری و بحری اقدام: ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی حدود خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب تک بڑھانے کا اعلان

محمود احمد, September 09,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے طے کردہ ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی جغرافیائی حدود کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس میں اب خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے انتہائی اہم اور حساس حصے بھی شامل ہوں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے باضابطہ ترجمان حسین محبی نے تہران میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے اور جدید توسیع شدہ ممنوعہ علاقے سے ایرانی حکومت یا بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے والے تمام ملکی و غیر ملکی تجارتی اور آئل ٹینکرز کے خلاف سخت ترین تعزیری ‘پابندیاں’ نافذ کی جائیں گی۔

ایرانی عسکری ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس توسیع شدہ ممنوعہ علاقے کی دقیق جغرافیائی حدود اور اس سے متعلقہ بین الاقوامی کوآرڈینیٹس کا باقاعدہ نقشہ اور تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم ابتدائی طور پر یہ سمندری حد بندرگاہ چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہے۔

حسین محبی نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کی جانب سے مقررہ اور واضح کی گئی ممنوعہ حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوں گے، انہیں بعد میں عالمی توانائی کی شاہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بین الاقوامی قانونی، لاجسٹک، تکنیکی اور انشورنس کی خدمات کی فراہمی بھی روک دی جائے گی تاکہ ان کی آزادانہ آمدورفت ناممکن بنائی جا سکے۔

ایران کی جانب سے یہ غیر معمولی اور خطرناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد عسکری و بحری محاذ آرائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازرانی اور خام تیل و ایل این جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے محدود سمندری زونز کی توسیع کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے باہر بحری حدود میں ایک نیا ‘محدود سمندری زون’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے، جس کا حتمی مقصد ان بین الاقوامی جہازوں کو روکنا اور تحویل میں لینا تھا جو ایرانی نگرانی، جانچ اور تجارتی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تہران کے اس تازہ ترین اعلان کے بعد خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو ہونے والی توانائی کی فراہمی پر بلاواسطہ منفی اثرات اور معاشی خطرات کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

بلوچستان میں خواتین اور کمسن بچیوں پر تشدد، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات پر شدید تشویش: حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف مبینہ تشدد، بدترین قتل، تیزاب گردی، اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ہونے والے خطرناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں دونوں معتبر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے کچلاک میں 15 سالہ کمسن لڑکی کے مبینہ قتل، مستونگ کے علاقے کلی ببری میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے اور شدید تشدد، تربت کے علاقے سے ایک خاتون کی لاوارث لاش ملنے، اور ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ معصوم بچی کے مبینہ جنسی استحصال، بے دردی سے قتل اور لاش چھپانے کے دلخراش واقعات کو معاشرے اور ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے سفاکانہ مظالم کا بڑھنا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے صرف ابتدائی اطلاع یعنی مقدمات (ایف آئی آر) کا درج کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری، سائنسی و جدید بنیادوں پر تفتیش، تیز ترین عدالت انصاف اور متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور قائم بالذات نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات کا سخت نوٹس لے کر ملزمان کو فوری کٹہرے میں لایا جائے۔

طبی اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں بنیادی طبی اور فرانزک سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال نوشکی میں ضروری پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی سرجن یا ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور بلوچستان کے تمام دیگر اضلاع میں پولیس سرجنز کی شدید قلت ایسے حساس ترین اور سنگین مقدمات کی سائنسی تحقیقات اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے۔

متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط نظام کی ضرورت

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خلاف ایک ایسا جامع قانونی و انتظامی ردِعمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں متاثرین کا مکمل تحفظ، ان کی رازداری، مفت طبی علاج، نفسیاتی علاج، اور مکمل قانونی امداد شامل ہو۔ دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پولیس، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، محکمہ سماجی بہبود، اور محکمہ حقوقِ نسواں کے درمیان ایک ایسا مضبوط آن لائن اور عملی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ حساس مقدمات کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ پریس ریلیز کے اختتام میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین پر بغیر کسی سیاسی و قبائلی مراعات کے، بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل: کئی اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

محمود احمد, September 09,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور احتجاجی تحریک کو مسلسل تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تحریک کے نوے دن پورے ہونے پر خطے کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس سے عوامی و تجارتی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے رواں برس 9 جون کو بھمبر کے مقام سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جسے آج 9 ستمبر کو پورے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

اس طویل احتجاجی سلسلے کو مزید تیز کرنے کے لیے تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو اپنے مطالبات کے حق میں پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا نیا اعلان کیا تھا۔

اس ہڑتال کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے پلیٹ اپر اڈہ میں واقع تمام بڑی مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ دوسری جانب بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس ضلع باغ اور ضلع کوٹلی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جہاں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

احتجاج اور ہڑتال کے باعث خطے بھر میں سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی روانی معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہریوں اور مسافروں کو شديد دشواری کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع باغ میں مقامی ضلعی انتظامیہ نے ہڑتال کرنے اور دکانیں بند رکھنے والے متعدد تاجروں کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں انتظامیہ اور تاجروں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ: پٹرول پر 134 روپے اور ڈیزل پر 118 روپے سے زائد کے ٹیکس عائد ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں ایندھن کی حتمی قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیوی، کسٹم ڈیوٹیز اور تجارتی مارجنز پر مشتمل ہونے کی تحریری دستاویزات سامنے آئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر پاکستانی عوام مجموعی طور پر 134 روپے 60 پیسے کا بھاری ٹیکس اور اضافی اخراجات ادا کر رہے ہیں، جبکہ فی الوقت پٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔

دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور تقریباً 3 روپے پریمیم بھی فی لیٹر قیمت میں پہلے سے شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں پٹرول کی حتمی فروخت کی رقم میں 7 روپے 60 پیسے ریفائنری و فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مقررہ منافع اور 9 روپے 98 پیسے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔

دوسری جانب معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے ڈائریکٹ ڈیزل کی بات کی جائے تو ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکسز اور اخراجات کی رقم 118 روپے 55 پیسے بتائی گئی ہے، جو کہ ڈیزل کی کل فروخت کی قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ڈیزل کی اصل بنیادی قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور ایک روپیہ پریمیم کی مد میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 2 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل کمپنیوں کا منافع اور 9 روپے 98 پیسے ڈیلرز کا کمیشن و مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین اور رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی، کسٹم ڈیوٹیز، کمپنیوں کے منافع اور دیگر اخراجات ہی عوام کے لیے ایندھن کی حتمی مہنگی قیمت اور ملک میں افراطِ زر کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔

ٹیلی میڈیسن عوامی صحت کا اہم انقلابی منصوبہ، شہریوں کو علاج کی سہولیات دہلیز کے قریب ملیں گی: وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن کا قیام ایک انتہائی اہم اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جس کے زبردست ثمرات کے ذریعے عام شہریوں کو ان کے گھروں اور دہلیز کے بالکل قریب جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور معمولی عوارض یا بیماریوں کے علاج کے لیے انہیں دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے عام شہریوں کو ماہر ترین ڈاکٹروں اور طبی معالجین کی فوری مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیرضروری بوجھ اور رش بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے تمام والدین سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کے لیے ہر مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر نونہال کو پولیو سے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے بچوں کو 13 دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی مفت اور موثر سہولت قائم کر رکھی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کسی بچے کا بھی کوئی حفاظتی ٹیکہ کورس سے چھوٹ نہ جائے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریاں پھیلنے سے قبل ہی اگر بروقت، مناسب اور سائنسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچوں کو بعد میں شدید بیمار ہونے، ڈسپنسریوں یا ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کا رخ کرنے کی ضرورت کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ ایک صحتمند اور فعال معاشرے کی تعمیر کے لیے بیماریوں سے پہلے ہی بچاؤ، باقاعدہ ویکسینیشن اور بروقت تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے پہلے مرحلے کے آخری اور مرکزی ہیلتھ سینٹر کے باضابطہ افتتاح اور اس ابتدائی فیز کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر سارہ، ان کی پوری تکنیکی ٹیم، ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ انجم اور تمام متعلقہ انتظامی افسران اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز سے فائدہ اٹھانے والے غریب و مستحق مریضوں کی خدمت کرنا ایک عظیم انسانی اور دینی عمل ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی بہبود اور بلا معاوضہ علاج کے اس سلسلے کو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا کر مزید موثر اور وسیع بنایا جائے گا۔

برطانیہ کی پابندیوں پر اسرائیل کا شدید جوابی ایکشن: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 09,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مکمل درآمدی قدغن کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے انتہائی سخت اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکومت کا تاریخی فیصلہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیائے صرف اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے تحت بستیوں کی تعمیری سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، مالیاتی معاونت اور رئیل اسٹیٹ میں سہولت کاری فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی سخت مالی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا تھا کہ یہ جامع فیصلہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس سے جڑے معاشی تعلقات کے حوالے سے برطانوی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ سمیت 12 اتحادی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی مسلسل توسیع بند کرے اور دو ریاستی حل کے تمام سفارتی راستے مسدود کرنے سے گریز کرے۔

برطانیہ کے ان اقتصادی و سفارتی اقدامات پر اسرائیل نے نپٹا ہوا اور سخت ترین جوابی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ پر عالمی برادری میں “سنگین اور من گھڑت جھوٹ” پھیلانے کا براہِ راست الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے ردِعمل کے طور پر مشرقی یروشلم میں سالہا سال سے قائم برطانوی قونصل خانے کے دفتری آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے اور سفارتی عملے کی سہولیات محدود کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

دوطرفہ سفارتی کشیدگی کا یہ نیا اور خوفناک دور ایک ایسے نازک لمحے پر شروع ہوا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقے ای 1 میں نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے باضابطہ ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ای 1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اسرائیل کے اس تازہ ترین جوابی قدم کے بعد برطانیہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات بدترین تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان دو روزہ مذاکرات

محمود احمد, September 09,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر طویل عرصے سے جاری شدید عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے تناظر میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اروناچل پردیش کے حساس سرحدی علاقے میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دو دور کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اعلیٰ عسکری سطح کی پہلی فلیگ میٹنگ 6 ستمبر کو اروناچل پردیش میں بھارت کی جانب واقع واچا کے مقام پر ہوئی، جبکہ مذاکرات کی دوسری اہم ملاقات 7 ستمبر کو چین کی حدود میں واقع دامائی میں منعقد کی گئی۔ یہ مشرقی سیکٹر کی سرحد پر دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ کور کمانڈر سطح کی عسکری و سفارتی ملاقات تھی۔

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک کے کمانڈروں کے درمیان یہ اہم مذاکرات اپر سبانسری کے متنازع ٹاکسنگ علاقے میں حال ہی میں پیدا ہونے والی عسکری کشیدگی کے پس منظر میں منعقد کیے گئے۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ملاقاتیں اگست 2025 اور اگست 2026 میں دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کے درمیان طے پانے والی اعلیٰ سطحی مفاہمت، نیز مئی اور اگست 2026 میں بیجنگ اور نئی دہلی میں منعقدہ ورکنک میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے فیصلوں کے تسلسل کے طور پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس کے دوران دو روزہ مذاکرات کے حتمی نتائج یا تفصیلی معاہدے کی فوری معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیکٹر میں بھی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اسی نوعیت کا فعال اور مربوط رابطہ موجود ہے، جو سال 2020 میں وادیٔ گلوان میں ہونے والی خونریز عسکری جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

بھارت اور چین کے درمیان طویل مشترکہ سرحد پر سرحدی تنازع کے باعث ایل اے سی کے متعدد حساس حصوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک نے باہمی عسکری و سفارتی رابطوں کو تیز کر کے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی تعلقات کو استوار کرنے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں۔ بھارتی ترجمان کے مطابق دوطرفہ تعلقات بتدریج مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ تازہ اور اہم دور چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت میں متوقع برکس سربراہی اجلاس کے اہم دورے سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں انتہائی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

ستمبر کی ملک گیر ذیلی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؛ ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات مکمل

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ستمبر میں منعقد ہونے والی آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے قبل ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد کا بڑا اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

حکومتی شیڈول کے مطابق یہ اہم ذیلی مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران بلوچستان، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے 115 مخصوص و حساس اضلاع میں پولیو ٹیمیں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام ملک بھر میں قطرے پلانے والی فرنٹ لائن ورک فورس کے لیے انتظامی و مالی معاونت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا یہ اہم ترین فیصلہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کے ساتھ منعقد کیے گئے معلوماتی لسننگ سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ورکرز نے پروگرام کی مرکزی قیادت سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے فیلڈ کے تجربات، درپیش چیلنجز اور اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔

پروگرام کی جانب سے پولیو ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے متعدد بنیاد کاری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں منتخب علاقوں میں قائم فرنٹ لائن ورکرز سپورٹ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی بہتری، تمام ورکرز کو باضابطہ شناختی کارڈز کا اجراء، اور فیلڈ میں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئی آپریشنل سیفٹی گائیڈ لائنز کی تیاری شامل ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کی جا رہی ہے تاکہ پولیو ورکرز کی قربانیوں کا اعتراف کیا جا سکے۔

محترمہ عائشہ رضا فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز ہر بچے تک پہنچنے اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ ورکرز کی انتھک محنت، لگن اور عظیم خدمات کا اعتراف ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر ورکر فیلڈ میں خود کو محفوظ اور معزز محسوس کرے۔

فرنٹ لائن ورکرز کی انتھک خدمات اور سائنسی حکمتِ عملی کی بدولت پاکستان نے پولیو کے خاتمے میں تاریخی پیش رفت کی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں جہاں سالانہ اندازاً 20,000 پولیو کیسز سامنے آتے تھے، وہیں ملک میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ کیسز کی تعداد کم ہو کر سال 2025 میں 31 اور سال 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک محدود رہ گئی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے تمام والدین، سرپرستوں، دینی علماء، اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ ستمبر کی مہم میں ان پولیو ٹیموں کا اپنے گھروں میں احترام کے ساتھ استقبال کریں اور پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔ پولیو پروگرام نے اس مشن میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کے شراکت داروں کے مسلسل تعاون پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی اور فراڈ کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے کا بڑا اقدام: غیر فعال سمز پر چلنے والے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور مالیاتی و ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام کے لیے غیر فعال، منسوخ شدہ اور طویل عرصے سے زیرِ استعمال نہ رہنے والی سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

پی ٹی اے کے اعلیٰ حکام کے مطابق، موبائل آپریٹرز کی جانب سے منسوخ یا بند کی جانے والی سمز کے نمبرز پر پہلے سے بنے ہوئے واٹس ایپ اکاؤنٹس اکثر ناپسندیدہ اور غیر قانونی سرگرمیوں، آن لائن مالیاتی فراڈ، اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سیکیورٹی روزن کو بند کرنے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی اے نے ان تمام اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی پالیسی مرتب کی ہے۔

پی ٹی اے حکام نے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کسی بھی وقت بلاکنگ کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام موبائل صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر اپنے موجودہ، فعال اور ذاتی نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبرز کے ساتھ منسلک کریں تاکہ ان کا اکاؤنٹ بغیر کسی پریشانی کے فعال رہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق جو صارفین اپنا پرانا موبائل نمبر تبدیل کر چکے ہیں یا ان کی سم غیر فعال ہو چکی ہے، وہ واٹس ایپ کی ترتیبات میں جا کر “چینج نمبر” کا آپشن فوری استعمال کریں۔ بروقت نمبر تبدیل کرنے سے صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کا کنٹرول بحال رکھ سکیں گے اور ان کے ڈیٹا کا تحفظ بھی یقینی ہو سکے گا۔

پی ٹی اے نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نام پر درج سمز کی موجودہ حیثیت کی باقاعدگی سے تصدیق کریں اور غیر فعال نمبرز کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر ضروری قانونی و انتظامی اقدامات مکمل کریں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور حتمی مقصد سائبر کرائمز پر قابو پانا، جعلی و گمراہ کن پیغامات کا سدباب کرنا اور ملکی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

دفترِ خارجہ کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار: یمن تنازع کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے خطرہ قرار

منصور احمد,September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں آبادی اور اہم اقتصادی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے متواتر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام یمن تنازع کے پُرامن، سیاسی اور دیرپا حل کے لیے کی جانے والی عالمی و علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے یہ بزدلانہ حملے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدام پوری مشرقِ وسطیٰ کے امن، توازن اور پائیدار استحکام کے لیے گہرا خطرہ بن رہے ہیں۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی سیکورٹی و سلامتی کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر (منشور) اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں سعودی عرب کے اپنے علاقے، عوام اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر ضروری اقدامات اور اس کے جائز عسکری و دفاعی حق کی مکمل طور پر پرزور حمایت کرتا ہے۔

ترجمانِ دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، پائیدار امن کی بحالی اور دیرپا استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں اور اپنا کلیدی کردار مسلسل جاری رکھے گی تاکہ خطہ مزید تصادم اور بے چینی سے محفوظ رہ سکے۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی کا تاریخی اعلان

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات اور اشیائے صرف کی درامد پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور پھیلاؤ کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خطاط کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک انتہائی جامع اور سخت پابندیوں کا بین الاقوامی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی کا بنیادی ہدف صرف غیر قانونی طور پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیاں اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجموعی یا عمومی دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے سخت ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانوی عوام یہ پسند کریں گے کہ ملک کی مارکیٹوں اور دکانوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات بیچ کر فلسطینی سرزمین پر قبضے اور تسلط کی مالی حمایت کی جائے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی مشترکہ اور قومی سطح پر مغربی کنارے کی ان بستیوں کی اشیا پر پابندیاں نافذ کرنے کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ان نئے قانونی اقدامات میں مناسب اور مخصوص مذہبی استثنا بھی شامل رکھا جائے گا، تاہم جو افراد، کمپنیاں یا ادارے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت کاری فراہم کریں گے، انہیں برطانیہ کی جانب سے انتہائی شدید اقتصادی و سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اندر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور ان سے منسلک کاروباری اشتہارات کی نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے سمیت بستیوں کی یہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے تمام سفارتی امکانات کو تباہ کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان میں برطانوی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور خطے کے بگڑتے حالات کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف سمجھتی ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر تل ابیب کے حکام کی جانب سے شدید اور تلخ ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی برطانوی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حتمی فیصلے کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ اور شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں


Brent oil prices rise

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی انتہائی حساس توانائی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے تباہ کن ڈرون و میزائل حملوں اور خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ‘اقتصادی اور عسکری جنگ’ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں متعدد ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس شدید جیو پولیٹیکل بحران کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خطرات گہرے ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کو تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کے بین الاقوامی سودے 1.39 ڈالر یعنی 1.43 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد 98.39 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.25 ڈالر یعنی 2.46 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اور یہ 93.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

اس سے قبل منڈی میں خرید و فروخت کے دوران برینٹ خام تیل کی اعلیٰ ترین قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جو کہ 24 جولائی کے بعد سے اب تک کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت دورانِ تجارت بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو 8 جون کے بعد کی بلند ترین قیمت شمار کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اس بڑے اور غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے مربوط عسکری حملے ہیں۔ سعودی حکومت کے باضابطہ بیانات کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں بنیادی انفراسٹرکچر اور اہم توانائی کی تنصیبات ان حملوں کی زد میں آئی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے کے کئی پیدواری یونٹس اور توانائی کی تنصیبات کی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل یا متاثر ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی باہمی عسکری و معاشی محاذ آرائی نے عالمی تیل کی مارکیٹ کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تہران کی طرف سے امریکی بحری ناکہ بندی اور کارروائیوں کے جواب میں شدید ردِعمل دینے اور خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کی دھمکی سے عالمی سرمایہ کاروں میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل بند ہونے کا شدید خوف پیدا ہو چکا ہے۔

عالمی ایندھن کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری راستے سے اِس وقت آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معمول کے حجم سے کافی کم ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز کے بحری راستے سے ہو کر دنیا بھر کے ممالک تک پہنچتا ہے۔ پینٹاگون کی سینٹرل کمانڈ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں اور عسکری ہدف پر حملوں نے حالات کو بے حد سنجیدہ بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ عسکری ٹکراؤ اور کشیدگی طویل ہوئی تو خام تیل کی فی بیرل قیمت بہت جلد 100 ڈالر کا ہدف عبور کر جائے گی، جس سے عالمی معیشت اور افراطِ زر پر شدید دباؤ آئے گا۔

پاکستان کی سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: وزیراعظم شہباز شریف کا کامل یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان نے سعودی عرب کی حدود میں شہری علاقوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے حالیہ ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نازک امن اور سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی رابطے کی بین الاقوامی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری کردہ اپنے خاص اور باضابطہ بیان میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شریر حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پرتشدد عسکری کارروائیاں عام انسانی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توازن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

شہباز شریف نے پرزور انداز میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، ملک گیر سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے مضبوط، تاریخی اور اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اور خصوصی دعا بھی کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ اہم سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں کیے گئے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں سے کچھ توانائی کی تنصیبات کا آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔

دوسری طرف حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن پر ہونے والے حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اقتصادی و عسکری مراکز پر جوابی حملہ کیا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی اس شدید عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی سلامتی پر شدید تشویش کے بادل پھیلا دیے ہیں۔

یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر آئس لینڈ سمیت گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکی پرچم میں لپٹا دکھانے کا معاملہ؛ ریکیاوک انتظامیہ نے پوسٹ کو مکمل طور پر نامناسب قرار دے دیا

محمود احمد, September 08,2026

کوپن ہیگن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یورپی ملک آئس لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع اور اشتعال انگیز نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد ریکیاوک میں تعینات امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ نقشے میں آئس لینڈ سمیت خطے کے کئی آزاد اور خود مختار ممالک کو امریکی پرچم کے نیچے دکھایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بغیر کسی تحریری وضاحت کے ایک نقشہ شائع کیا، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو، وسطی امریکہ اور کیریبین کے تمام تر جغرافیائی علاقوں کو امریکی پرچم کے اندر ڈھکا ہوا دکھایا گیا تھا، جبکہ اس پورے خطے کو مجموعی طور پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ” کا لیبل دیا گیا تھا۔

اس غیر معمولی واقعے کے بعد آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈور کترین گُنّارسڈوتیر نے نو تعینات شدہ امریکی سفیر بلی لانگ کو ہنگامی بنیادوں پر وزارتِ خارجہ طلب کیا۔ واضح رہے کہ سفیر بلی لانگ نے گزشتہ ماہ ہی آئس لینڈ میں بحیثیت امریکی سفیر اپنی باضابطہ سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

آئس لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے مقامی میڈیا اور نشریاتی اداروں کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ آئس لینڈ جیسے خود مختار ملک کو امریکہ کے نقشے اور پرچم میں دکھانا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی یہ پوسٹ سفارتی آداب کے منافی اور “مکمل طور پر نامناسب” تھی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ، کوپن ہیگن اور ریکیاوک میں قائم امریکی سفارت خانوں، نیز نوک میں واقع امریکی قونصل خانے نے آئس لینڈ کے اس احتجاج اور طلبی پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی یہ تنازع سے بھرپور تصویر ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے حساس معاشی و تزویراتی خطے سے متعلق امریکی صدر کے سابقہ بیانات اور علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنے والے خدشات پر پہلے ہی یورپی و سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا عالمی قوانین، آزادانہ نگرانی اور اے آئی کی سخت ریگولیشن کا فوری مطالبات کے ساتھ زور

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو موثر کنٹرول میں لانے کے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کی پرزور حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ بالآخر “انسانیت کے وجود کے لیے تباہ کن خطرہ” ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح بین الاقوامی حدود کے بغیر مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کے قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین خدشے کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بنانے والے (ڈویلپرز) بھی ان پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔

وولکر ترک نے سائنسی امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ای آئی ٹیکنالوجی جو اپنے تجرباتی اور آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ہی ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے لگے، انتہائی خطرناک اور حد سے زیادہ طاقتور صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

انہوں نے اے آئی کی ہوسٹنگ کرنے والے اور اس کی عالمی سپلائی چین سے منسلک تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح اور سخت حدود مقرر کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں مٹھی بھر افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت اور وسیع ڈیٹا جمع ہو چکا ہے، جو کہ طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بنیں۔ انہوں نے اے آئی کے روزگار، جمہوریت، ماحولیات اور انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متفقہ عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

عالمی یومِ خواندگی پر اہم پیغام؛ بلوچستان کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کے لیے 23 ہزار سے زائد اسکالرشپس کی فراہمی مکمل

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بی ای ای ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی اور معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سماجی استحکام کی بنیاد ہیں۔

خالد ماندائی نے واضح کیا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بنیادی مقصد صوبے کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو مالی مشکلات سے بالاتر ہو کر تعلیم کے حصول اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ای ای ایف حکومتِ بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کا ایک انتہائی مؤثر، شفاف اور جامع نظام فراہم کر رہا ہے۔ میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے تحت فراہم کی جانے والی ان اسکالرشپس کا مقصد نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینا اور انہیں مستقبل کا خودمختار و ذمہ دار شہری بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت صوبے میں تعلیم کو ترقی کے بنیادی محرک کے طور پر خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں یہ امر نمایاں ہے کہ صوبے کا کوئی بھی باصلاحیت بچہ محض مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ ادارہ اسی وژن کے تحت اسکول سے لے کر اعلیٰ ترین تعلیمی سطح تک اسکالرشپ اسکیمز کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سی ای او بی ای ای ایف نے بتایا کہ ادارے کے مختلف پروگرامز کے تحت اب تک 23 ہزار 520 اسکالرشپس طلبہ و طالبات کو فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان میں بی ایس، یونیورسٹی و کالج کی جزوی اسکالرشپس، اے ڈی پی، اے ڈی ای، انٹرمیڈیٹ، ڈی اے ای، میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز، کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام، خصوصی طبقات کے لیے اسکالرشپس، بیرونِ صوبہ تعلیم، آکسفرڈ پاکستان پروگرام اور فارن پی ایچ ڈی پروگرامز شامل ہیں۔

خالد ماندائی نے زور دے کر کہا کہ اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ بلوچستان کے انسانی سرمائے میں ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ ایک طالب علم کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا دراصل ایک پورے خاندان کو مضبوط بنانے اور صوبے کے مستقبل کو روشن کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرے گا تاکہ کوئی بھی طالب علم مالی مجبوری کے باعث تعلیم سے دور نہ رہے۔

واپڈا کی جانب سے ملک کے اہم دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی روزانہ رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے منگل کے روز ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی مجموعی آمد، اخراج اور ریزروائر میں ذخیرہ شدہ پانی کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

واپڈا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک اور اخراج بھی 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد اور اخراج 23 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 37 ہزار 400 کیوسک درج کیا گیا ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 12 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 9 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 42 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 700 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 1 لاکھ 93 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک، اور تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 16 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 800 کیوسک رہا۔ جنوبی حصوں میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 2 لاکھ 65 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 34 ہزار 500 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 3 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 50 ہزار 500 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 87 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ تریموں بیراج پر آمد 27 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 200 کیوسک، اور پنجند بیراج پر آمد 27 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 200 کیوسک رہا۔

آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال سے متعلق بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح بھی 1550 فٹ ہی ہے اور اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ تربیلا میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 1222.35 فٹ، انتہائی گنجائش 1242 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 5.755 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح چشمہ میں کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 648.30 فٹ، انتہائی گنجائش 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.274 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

ایف بی آئی ایس ای کا ایچ ایس ایس سی پارٹ اول اور دوم کے سالانہ نتائج 9 ستمبر کو جاری کرنے کا اعلان

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) اسلام آباد ایچ ایس ایس سی (انٹرمیڈیٹ) پارٹ اول اور پارٹ دوم کے فرسٹ اینول امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان 9 ستمبر بروز بدھ کو کرے گا۔

فیڈرل بورڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، امتحانات کے نتائج کا باضابطہ اعلان صبح 11:30 بجے بورڈ کے مرکزی دفتر میں ایک پروقار تقریب کے دوران کیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ تمام طلبہ و طالبات، والدین اور اساتذہ نتائج کے اعلان کے فوری بعد فیڈرل بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر اپنے رول نمبرز کی مدد سے آن لائن رزلٹ چیک کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی رہنمائی، معلومات یا شکایت کی صورت میں بورڈ کی مخصوص ہیلپ لائن UAN: 051-111-473-032 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی بورڈ کے تحت ہر سال ہزاروں طلبہ و طالبات ایچ ایس ایس سی کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، اور نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ اور پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا بھی باضابطہ اجرا کیا جائے گا۔