انتخابات میں حصہ نہ لینا کوئی عارضی تزویراتی چال نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور حقِ خودارادیت سے یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری عوامی دھرنوں اور پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف سخت مقتدر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وہاں کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، تحریکِ انصاف کا یہ فیصلہ کسی عارضی تزویراتی جوڑ توڑ یا سیاسی نفع نقصان کا حساب نہیں، بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق، ان کے حقِ خودارادیت اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب کشمیری عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے خود سڑکوں پر ہوں، تو پی ٹی آئی اقتدار کی روایتی سیاست کے لیے کسی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جو زمینی حقائق سے عاری ہو۔

اعلامیے میں آزاد کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید مقتدر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر اہم ترین علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے بنیادی معاشی و سیاسی مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر مقتدرہ کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس نے وہاں ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مخدوش حالات میں الیکشن کا انعقاد کشمیری عوام کو مزید سیاسی و انتظامی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے موجودہ مقتدر حلقوں کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخی، آئینی اور جمہوری شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، اور دانستہ طور پر ایسا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی روایتی اور مقتدر کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور تزویراتی طور پر نقصان دہ ہے۔ قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں، میڈیا پر سخت ترین قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر جاری جبر کے سائے میں انتخابی عمل اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے۔

اعلامیے کے آخر میں پی ٹی آئی نے اپنی مقتدر شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات افہام و تفہیم سے تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ مزید برآں، موجودہ یکطرفہ انتخابی شیڈول پر نظرثانی کر کے تمام سیاسی قوتوں کو مساوی، آزادانہ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا لازم ہوگا۔ پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کو جاری کردہ یا تجویز کردہ ٹکٹوں کی سفارشات کو فی الفور معطل کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی ہیں، اور اب تحریکِ انصاف کی مہم کا بنیادی مرکز و محور الیکشن لڑنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 02,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر پاکستان کا مقتدر تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ اپنے مقتدر خطاب میں انہوں نے فن لینڈ اور مراکش کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نویں جائزہ عمل کی مشترکہ سہولت کاری کی، جبکہ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے اصولی بیان کی مکمل تائید کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری کی توثیق کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور ہمارے خطے میں موجود بدخواہ مخالف عناصر، تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ان سے وابستہ دیگر خطرناک پراکسی نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال بارہ سو سے زائد معصوم پاکستانیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود نویں جائزے کے عمل میں عالمی حکمتِ عملی کی خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکا اور او آئی سی کے ان جائز خدشات کو شامل کرنے میں ناکامی ہوئی جن کے ارکان اس ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک جامع اور مقتدر گیارہ (11) نکاتی تزویراتی ایجنڈا پیش کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اول، جسمانی اور ورچوئل دونوں شعبوں میں ابھرنے والے نئے خطرات اور رجحانات کا جامع جائزہ لیا جائے؛ دوم، طویل عرصے سے حل طلب علاقائی تنازعات کے پائیدار اور حقیقت پسندانہ حل کے لیے قابلِ عمل راستے تجویز کیے جائیں؛ سوم، غیر ملکی ناجائز قبضے کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے؛ چہارم، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق عوام کے حقِ خودارادیت کے جائز حق کی توثیق کی جائے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کی ہر کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے؛ پنجم، ان ظالم ریاستوں کی سخت مذمت کی جائے جو غیر ملکی قبضے کا شکار مظلوم عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

ششم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں؛ ہفتم، پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند، نو فاشسٹ اور مساجد کو نشانہ بنانے والے و قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے والے بالادست نظریاتی گروہوں کا مؤثر مقابلہ کیا جائے؛ ہشتم، اسلاموفوبک بیانیوں اور متعصبانہ اصطلاحات جیسے کہ “اسلامک ٹیررازم” اور “ریڈیکل اسلام” کے امتیازی استعمال کو فوری ختم کر کے مسلمانوں کی بدنامی کا سدِباب کیا جائے؛ نہم، اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں؛ دہم، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ منظم کیا جائے تاکہ آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کا مقابلہ ہو سکے؛ اور گیارہویں، ڈیجیٹل مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے مؤثر تزویراتی ضابطے کو یقینی بنایا جائے۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے ایف اے ٹی ایفجیسے بین الحکومتی اداروں کے نظام پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان اداروں کو ہر صورت جامع، منصفانہ، شفاف اور مکمل غیر سیاسی ہونا چاہیے اور کسی بھی ملک کو یہ ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان تکنیکی فورمز کو اپنے داخلی یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہونا افسوسناک ہے اور اگرچہ اس تعطل کو ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ عالمی برادری کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام بھی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا مقتدر کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کل سے ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز یہاں پریس بریفنگ کے دوران اس تزویراتی دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور مقتدر سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے تہران جائیں گے، جہاں وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کریں گے اور اس گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے مابین برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی جس میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں رہنما خطے کے امن و سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ استنبول میں قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اہم بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، متبادل توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے موجود شاندار مواقع کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس کانفرنس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، مقتدر سرمایہ کار اور اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکیہ کے یہ دورے دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، تزویراتی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عکاس ہیں۔

محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی مختلف اضلاع میں کامیاب کارروائیاں، اکتیس کلو گرام سے زائد منشیات برآمد، متعدد اسمگلر گرفتار

کاشف عباسی , JULY 02,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے عملے نے صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی خصوصی ہدایات کے تحت پشاور، نوشہرہ، خیبر، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں منشیات کے خلاف مقتدر تزویراتی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 31.493 کلو گرام منشیات برآمد کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کے ترجمان کے مطابق، گرفتار اسمگلروں کے خلاف متعلقہ ایکسائز تھانوں میں مقدمات درج کر کے مقتدر سطح پر مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے جی ٹی روڈ عجب باغ ایکسائز چیک پوسٹ پر ناکہ بندی کے دوران موٹر سائیکل کے ذریعے بھاری مقدار میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 18,000 گرام چرس برآمد کی، جبکہ پشاور میں ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن اسکواڈ نے سروس روڈ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار سے 6,000 گرام چرس برآمد کر کے ملزم کو دھر لیا۔ اسی طرح تھانہ ایکسائز خیبر نے جمرود بائی پاس کے قریب انٹیلیجنس رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے ایک خاتون اسمگلر کے قبضے سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے حراست میں لے لیا، جبکہ حال ہی میں قائم ہونے والے مقتدر تھانہ ایکسائز ضلع کوہاٹ نے ایک کامیاب کارروائی میں اسمگلر شاکر اللہ سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کیا۔ مزید برآں، ہزارہ اسکواڈ B-7 نے حویلیاں انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ملزم نوید کے قبضے سے 293 گرام فائن کوالٹی ہیروئن برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مقتدر حکام نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور بین الاضلاعی اسمگلروں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی غفلت یا رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔

شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی تصدیق

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ یہ اہم تزویراتی فیصلے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی کے مقتدر قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکراؤ اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی اصل وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو مقتدر حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں سنگین غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کرے۔

اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی جامع تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی قومی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ مقتدر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

مسافر نجی پرواز سے باکو جا رہے تھے، اٹلی کے غیر قانونی روٹ کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا معاہدہ ہوا تھا؛ ویزے اور ڈیجیٹل شواہد برآمد

محمود احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مقتدر کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ کی ایک منظم اور تزویراتی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے باپ اور ان کے دو بیٹوں کو مشکوک پائے جانے پر پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ تینوں مسافر نجی ایئرلائن کی پرواز پی اے-468 کے ذریعے لاہور سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ تاہم، امیگریشن کلیئرنس کے عمل کے دوران ان کی مشکوک صورتحال اور سفری دستاویزات پر شبہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر سیکنڈری ویری فیکیشن کاؤنٹر منتقل کیا گیا۔ تلاشی اور ابتدائی تزویراتی تفتیش کے دوران مسافروں کے قبضے سے البانیہ کے ویزے اور سربیا کے غیر قانونی روٹ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے، جبکہ ان کے موبائل فونز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے دوران مشتبہ بین الاقوامی ٹریول ایجنٹس کے ساتھ رابطوں اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ملا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ایک انسانی سمگلر (ایجنٹ) نے انہیں سنہری مستقبل کے جھانسے میں رکھ کر غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچانے کے لیے سربیا اور آذربائیجان کا ٹرانزٹ روٹ تیار کیا تھا۔ اس خطرناک مقصد کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا بھاری مالی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے چوتیس لاکھ روپے فی مسافر ایجنٹ کو پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں افراد کو حراست میں لے کر مزید تادیبی قانونی کارروائی اور تفتیش کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کا اعادہ ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ، قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کا ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث ملک بھر میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے مقتدر مون سون صورتحال کے تحت ملک گیر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این آئی ایچ کے حکام کے مطابق، مون سون کی حالیہ طوفانی بارشیں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی خطرناک وباؤں کے اچانک پھوٹنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مختلف مقامات پر کھڑا پانی مچھروں کی تیز رفتار افزائش کا باعث بنتا ہے جس سے ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی میں سیلابی آلودگی شامل ہونے سے ہیضہ اور دیگر آنتوں کے جان لیوا امراض پھیل سکتے ہیں۔

ادارے نے تزویراتی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے اور ڈوبنے کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی بجلی گرنے، کچی دیواروں اور بوسیدہ چھتوں کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ سیلابی پانی کے طویل عرصے تک جمع رہنے کے باعث لیپٹوسپائروسس سمیت دیگر خطرناک انفیکشنز کے پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ این آئی ایچ نے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات، طبی آکسیجن، او آر ایس اور اینٹی سنیک وینم (سانپ کے کاٹنے کی ویکسین) کے وافر ذخائر کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

وفاقی ادارے کی جانب سے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مچھروں کی افزائش کے خاتمے کے لیے مچھر مار سپرے مہمات کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں وبائی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس مقتدر موقع پر عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیلابی پانی اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے مکمل دور رہیں، بچوں کو گندے نالوں، نہروں، تالابوں اور سیلابی پانی میں جانے سے سختی سے روکیں، اور تیز ہواؤں یا بارش کے دوران کمزور دیواروں، پرانی عمارتوں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے بالکل گریز کریں۔ این آئی ایچ کے حکام کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران بیماریوں کی بروقت نشاندہی، فوری رپورٹنگ اور قومی سطح پر نگرانی کے تزویراتی نظام کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی وبائی صورتحال پر فوری قابو پایا جا سکے۔

پاکستان کی تاریخ کا بڑا توسیعی منصوبہ؛ مالی سال 27-2026 میں پندرہ ہزار سے زائد دیہات کی برق کاری اور سولہ لاکھ نئے کنکشنز کا ہدف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا دائرہ کار غیر معمولی حد تک بڑھانے کے لیے پندرہ ہزار تین سو ستائیس (15,327) دیہات کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے اور سولہ لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو انچاس (1,689,849) نئے صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کا ایک مقتدر تزویراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت دیہی علاقوں تک بجلی کی پائیدار رسائی اور صارفین کی مجموعی تعداد میں ریکارڈ اضافہ تقسیمی شعبے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ’ویلتھ پاکستان‘ کو دستیاب پاور ڈویژن کی ایک باضابطہ دستاویز کے مطابق، یہ خطیر سرمایہ کاری اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی، جس کا تعلق بجلی تک رسائی رکھنے والی ملکی آبادی کے تناسب سے ہے۔ ان مقتدر اقدامات سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور وولٹیج کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

دستاویز کے تزویراتی متن کے مطابق، دیہات کو بجلی فراہم کرنے کی اس مہم میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو سب سے بڑا ہدف سونپا گیا ہے، جس کے تحت مالی سال کے دوران آٹھ ہزار آٹھ سو چھہتر (8,876) دیہات کو بجلی سے منسلک کیا جائے گا۔ دیگر کمپنیوں کے اہداف درج ذیل جدول میں تفصیلاً دیکھے جا سکتے ہیں:

دستاویز کے مطابق، ملک کے مجموعی تقسیمی نظام کو تزویراتی طور پر مزید لچکدار اور مضبوط بنانے کے لیے 132 کے وی کی 799.5 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی، جبکہ 132 کے وی نظام میں 2 ہزار 87 ایم وی اے کی اضافی ٹرانسفارمر استعداد شامل کی جائے گی۔ اس گرینڈ منصوبے کے تحت 11 کے وی نظام میں بھی 1 ہزار 321.15 ایم وی اے کی اضافی استعداد پیدا کی جائے گی، جبکہ ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن فیڈرز کو بہتر بنانے کے لیے 11 کے وی کی 4 ہزار 134 کلومیٹر اور 400 وولٹ کی 1 ہزار 742 کلومیٹر طویل نئی بجلی کی لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعی منصوبہ اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت ایک جانب بڑے شہروں میں صارفین کی صنعتی و خانگی مانگ کو پورا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دور دراز کے پسماندہ دیہی علاقوں تک بجلی کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے جہاں اب تک یہ بنیادی سہولت محدود یا یکسر ناپید تھی۔

عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج؛ ملزم چودہ سال قید کاٹ کر اور صدارتی معافی کے بعد رہا ہو چکا، سزا میں اضافے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، ریمارکس

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ ملک کا آئین صدرِ مملکت کو کسی بھی ملزم کی سزا میں کمی یا مکمل معافی دینے کا مقتدر اختیار دیتا ہے، اور جب یہ آئینی اختیار ایک بار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں دوبارہ اضافے کے لیے انتہائی ٹھوس اور مضبوط قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق دائر اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم اپنی قانونی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہو چکا ہے۔

سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ جیل رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ ملزم نے چودہ (14) سال قید کاٹنے کے بعد باقی ماندہ سزا پر صدرِ مملکت کی جانب سے عام معافی حاصل کی، لہٰذا یہ بتایا جائے کہ عمر قید کے قیدی کے لیے چودہ سال کی مدت کس قانون کے تحت مقرر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے کہ عدالت کے علم اور سابقہ فیصلوں کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے جیل میں کم از کم سترہ (17) سال قید کاٹنے کا اصول موجود ہے، تاہم چونکہ متعلقہ ملزم رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس اہم قانونی سوال کا گہرا جائزہ کسی دوسرے مناسب اور متعلقہ مقدمے میں لیا جائے گا۔

دورانِ سماعت مقتدر عدالت نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قتل ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے ایک بار فیصلہ دیا اور اس فیصلے پر باقاعدہ عملدرآمد بھی ہو چکا، اب اتنے عرصے بعد سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط ترین قانونی وجہ پیش کی جائے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ صدرِ مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا وسیع اختیار حاصل ہے اور اس مخصوص مقدمے میں یہ اختیار قانونی طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا مکمل ہونے کے بعد بھی اس میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی سزا بڑھانے کی اپیل کو خارج کر دیا۔

اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی

کاشف عباسی , JULY 02,026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

اسرائیلی بربریت پر مجرمانہ خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر خالصتاً مفاد پرستی پر مبنی بھارتی مودی حکومت کی منافقانہ خارجہ پالیسی عالمی سطح پر ایک بار پھر بری طرح عیاں ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملے سے محض دو روز قبل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا ایک مقتدر دورہ کیا اور پھر مابعد جنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی؛ تہران پر حملوں کے دوران بھارت کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج اپنے توانائی و تجارتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے دوبارہ ایران سے عارضی قربت اختیار کر رہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں نریندر مودی نے علاقائی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر منافقانہ زور دیا ہے، حالانکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی جیسے اہم نکات پہلے ہی حالیہ ’ایران امریکا چودہ (14) نکاتی معاہدے‘ میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ اس گفتگو میں مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بحالی اور تجارتی آزادی کے تحفظ کو عالمی و بھارتی مفاد قرار دے کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی و دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی پر بار بار زور دینا درحقیقت ایران کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حمایت نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً بھارتی تجارت، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی بلا تعطل رسد اور اپنے معاشی مفادات کا تزویراتی تحفظ ہے۔ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری یکسر ترک کر چکا تھا، جس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

بھارت نے عالمی اصولوں کے برعکس ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح الفاظ میں کوئی مذمت نہیں کی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع میں بھی مودی سرکار نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ معتبر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، دورانِ جنگ سفارتی میدان میں مکمل خاموشی اور جنگ بندی کے فوری بعد ایران سے دوبارہ تیل کی خاطر دوستی کا راگ الاپنا مودی حکومت کی موقع پرستی، تضاد اور بدترین خارجہ منافقت کی واضح علامت ہے۔

ایکواڈور کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا کی انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ

محمود احمد, JULY 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایکواڈور کی فٹبال تاریخ میں سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے والے چھتیس سالہ مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا نے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس سے اپنی ٹیم کے باہر ہونے کے فوری بعد انٹرنیشنل فٹبال سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، وہ ٹورنامنٹ سے قبل ہی یہ تزویراتی اعلان کر چکے تھے کہ وہ ایکواڈور کی اگلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اینر ویلنسیا نے میکسیکو سٹی میں صحافیوں سے انتہائی جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ کھیل چکے ہیں؛ انہوں نے انتہائی اداس دل کے ساتھ تمام ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو الوداع کہا، کیونکہ وہ ایکواڈور کی جرسی میں اپنی رخصتی اس شکست خوردہ انداز میں نہیں چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے ایک سنسنی خیز اور آخری میچ میں جرمنی جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف تھرٹی ٹو (32) میں جگہ بنانے والی ایکواڈور کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے اہم میچ میں میکسیکو کے خلاف صفر کے مقابلے میں دو (0-2) کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی، جو ویلنسیا کا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا۔ ویسٹ ہیم اور ایورٹن جیسے مقتدر انگلش کلبز کے سابق فارورڈ نے سال دو ہزار بارہ میں اپنے انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے ایکواڈور کے لیے اب تک ریکارڈ ایک سو نو (109) میچوں میں انچاس (49) شاندار گول کیے۔ انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ میکسیکو کے مقتدر کلب پاچوکا کے ساتھ اپنے کلب کیریئر کو باقاعدہ جاری رکھیں گے، جہاں ان کا پیشہ ورانہ معاہدہ دسمبر دو ہزار ستائیس تک برقرار ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین کرکٹ کے فروغ کا تاریخی معاہدہ، جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا

منصور احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک مقتدر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید ترین کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ ترجمان پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس تاریخی معاہدے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے دستخط کیے۔ اس تزویراتی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جدہ میں تعمیر ہونے والا جدید کرکٹ سٹیڈیم بین الاقوامی مقابلوں کے تمام جدید ترین تقاضوں پر پورا اترے گا اور وہاں اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کرکٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، آپریشنل معیارات اور کھیل کے فروغ کے مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ ان کے مطابق پی سی بی سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی میں اپنا تزویراتی کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں برادر ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی تعاون کے تحت جدید اور مربوط کرکٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ اور کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے، جس سے وہاں کے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب، چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری صرف ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ سعودی عرب میں کرکٹ کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم اور تزویراتی پیش رفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی سی بی کے وسیع تجربے اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب جلد کرکٹ کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین کھیلوں کے سفارتی روابط میں ایک نئے اور خوش آئند باب کا اضافہ ہے۔

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس: ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی میں ناکامی کے باوجود ایرانی فٹبال ٹیم کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال

محمود احمد, JULY 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے باوجود، ایرانی قومی فٹبال ٹیم کا بدھ کے روز وطن واپسی پر تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سیکڑوں شائقین، بچوں اور اہل خانہ نے انتہائی پرتپاک اور تاریخی استقبال کیا ہے۔ ایئرپورٹ پر موجود مداحوں نے “ایران، ایران” کے فلک شگاف نعرے لگائے، قومی پرچم لہرائے اور ٹیم کی آفیشل جرسی پہن کر کھلاڑیوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی۔ ایرانی فٹبال ٹیم ترکی کے راستے میکسیکو سے تہران پہنچی، جہاں ورلڈ کپ کے دوران تزویراتی مشکلات کے باعث اس کا عارضی بیس کیمپ قائم کیا گیا تھا۔

کھلاڑیوں کے طیارے سے اترنے پر ایئرپورٹ پر موجود فوجی بینڈ نے قومی ترانہ پیش کر کے ان کا استقبال کیا، جبکہ متعدد شائقین نے مقتدر گول کیپر علی رضا بیرانوند کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جنہوں نے بیلجیم کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے علی رضا بیرانوند نے شائقین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کرنے پر قوم سے معذرت خواہ ہیں اور انہیں مطلوبہ خوشی نہ دے سکے جس کا پوری ٹیم کو گہرا افسوس ہے۔ ٹیم کے دفاعی کھلاڑی رامین رضائیان نے واضح کیا کہ ان کی ٹیم تکنیکی طور پر مزید آگے جانے کی مستحق تھی، تاہم ٹورنامنٹ کے دوران امریکی امیگریشن پابندیوں نے ان کے لیے حالات کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ایک خاتون مداح، مونا بنی صفا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کھلاڑیوں نے نامساعد حالات میں بھی اپنی بھرپور کوشش کی اور وہ صرف ان کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں ایران اپنے گروپ میں تینوں میچ برابر کھیلنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا، تاہم بہتر گول فرق نہ ہونے کے باعث وہ ٹورنامنٹ کی بہترین آٹھ تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ بنانے میں ناکام رہا اور یوں ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹورنامنٹ کے دوران ایران کی اسپورٹس مہم پر شدید سفری اور انتظامی مسائل اثرانداز رہے۔ ایرانی وفد کے متعدد مقتدر ارکان اور آفیشلز کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے کے باعث ٹیم کو اپنا مرکزی بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنا پڑا تھا، جس پر ایرانی حکام نے بین الاقوامی سطح پر امریکی انتظامیہ کی عائد کردہ سفری پابندیوں اور امتیازی سلوک کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا غلط اندازہ آرائی کا ہماری مسلح افواج سخت ترین جواب دیں گی، کمانڈر علی عبداللہی؛ قم میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انتظامات مکمل

کاشف عباسی , JULY 02,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایران نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے قبل اپنے روایتی حریفوں امریکا اور اسرائیل کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے یا تزویراتی جارحیت سے مکمل گریز کریں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر علی عبداللہی نے ایک تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ہم ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ وہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی سے باز رہیں اور یہ بات اپنے ذہن نشین رکھیں کہ ہمارے ملک کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا ہماری مسلح افواج انتہائی سخت اور دندان شکن جواب دیں گی۔

ایرانی حکام کی جانب سے یہ مقتدر بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں اور خطے میں تزویراتی کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ کے انتظامات سے متعلق حتمی صورتحال غیر معمولی ہجوم کے باعث اب بھی واضح نہیں ہے۔ ایران کے مقتدر صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی منصوبہ بندی تو مکمل کر لی گئی ہے، تاہم لاکھوں کی تعداد میں متوقع ہجوم اور سیکیورٹی خدشات کے باعث حتمی طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام انتظامات سو فیصد منصوبے کے عین مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر کمانڈر فتح اللّٰہ جمیری نے روٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ نمازِ جنازہ کا مرکزی جلوس مسجدِ جمکران سے شروع ہو کر حضرت فاطمہ معصومہ کے روضہ مبارک تک جانے کا تزویراتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سیکیورٹی فورسز کی مدد سے نمازِ جنازہ کے جلوس کا مکمل روٹ اور متبادل راستے موجود ہیں، لیکن عوام کی ریکارڈ توڑ تعداد، بیرونی شرکاء کی آمد اور ٹریفک کی غیر معمولی صورتحال کے باعث ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ عملی طور پر زمینی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ تہران اور قم سمیت پورے ایران میں اس وقت سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

صرف ڈی ایچ اے کراچی کی زمینوں کی مجموعی مالیت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تمام کمپنیوں کے برابر ہے؛ پراپرٹی کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو چھت سے محروم کر چکا

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات اور نیکسٹ کیپیٹل کے ڈائریکٹر نجم علی نے ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور مجموعی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تلخ حقیقت پر مبنی تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں پراپرٹی کی قیمتوں کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں چھت کی نعمت سے محروم کر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہاورڈ بزنس اسکول اور یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلیم یافتہ نجم علی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک چونکا دینے والا موازنہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے اندازے کے مطابق صرف ڈی ایچ اے کراچی کی رئیل اسٹیٹ اور زمینوں کی مجموعی مالیت تقریباً اتنی ہی ہے جتنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج ملک کی تمام بڑی کمپنیوں کی مجموعی مالیت ہے۔

پاکستان کی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہر نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ پیداواری شعبوں کے بجائے ملک کا سارا سرمایہ زمینوں کے ڈھیر میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا حالیہ برسوں میں آنے والا عروج کبھی بھی کسی حقیقی معاشی ترقی یا ‘ویلیو کریئشن’ یعنی قومی پیداوار میں اضافے کا مرہونِ منت نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ غیرٹیکس شدہ پیسہ یا کالا دھن تھا جو حکومت اور اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں تھا، اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے اسے یہ موقع فراہم کیا۔

نجم علی نے اس کے بھیانک نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اندھی سرمایہ کاری اور مصنوعی مہنگائی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو ہوا ہے۔ نتیجہ یہ نکل چکا ہے کہ اب ملک کی اکثریت، خصوصاً مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ، پاکستان کے اندر اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر یا پلاٹ خریدنے کی سکت بھی مکمل طور پر کھو چکا ہے، کیونکہ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ نجم علی پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کا ایک بڑا نام ہیں، وہ جے ایس انویسٹمنٹس کے سی ای او رہنے کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ان انگلینڈ اینڈ ویلز سے بھی وابستہ ہیں، اور ان کے اس بیان کو معاشی حلقوں میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ ڈھانچے پر ایک کڑی چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمنی کے شہر لودوِگس لسٹ میں ہسپتال کے اندر خوفناک آتشزدگی، دو افراد ہلاک اور چونتیس زخمی

محمود احمد, JULY 02,2026

برلن/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

جرمنی کے شمال مشرقی شہر لودوِگس لسٹ میں ایک ہسپتال میں اچانک خوفناک آگ لگنے کے باعث دو افراد ہلاک اور چونتیس دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، مقامی حکام نے مقتدر ذرائع سے بتایا ہے کہ آگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے چار بجے ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کی چھت میں لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے دیگر حصوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر تزویراتی کارروائی کی اور انتھک کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا، تاہم مقامی انتظامیہ اور فائر حکام ابھی تک آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین نہیں کر سکے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق، کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے اور احتیاطی تدابیر کے تحت ہسپتال اور اس سے ملحقہ دیگر تمام عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرایا جا رہا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں محبوس تمام مریضوں کو بحفاظت نکال کر ہسپتال کے احاطے میں ہی قائم ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز اور طبی عملہ انہیں فوری طبی امداد اور ضروری دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔ جرمن سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آتشزدگی کی اصل وجوہات کا سراغ لگایا جا سکے۔

سال دو ہزار تئیس سے اب تک چودہ خاندانوں کو اٹھارہ کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کے گھر فراہم کیے جا چکے؛ بچوں کو اسکالرشپ اور بیٹیوں کی شادی کے لیے جہیز فنڈز بھی جاری

کاشف عباسی , JULY 02,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

شہدا کے لواحقین کو گھروں کی فراہمی، بچوں کو معیاری تعلیم اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔ سربراہ لاہور پولیس (سی سی پی او) بلال صدیق کمیانہ نے جمعرات کے روز یہاں جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں کہا کہ شہدائے پولیس کے خاندانوں کی ویلفیئر محکمہ پولیس کا اولین ایجنڈا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس فورس اپنے ان ہیروز کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور محکمہ زندگی کے ہر موڑ پر ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ سی سی پی او نے کہا کہ فرض کی راہ میں جانیں قربان کرنے والے پولیس کے عظیم شہدا کے اہل خانہ کے لیے تاریخی ویلفیئر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت شہدا پیکیج کے تحت سال دو ہزار تئیس سے لے کر اب تک چودہ خاندانوں کو اٹھارہ کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کے مکانات فراہم کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ مالی مراعات کی تزویراتی مد میں شہدا کے چودہ خاندانوں کو سات کروڑ بیس لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں باوقار انداز میں زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ تعلیم اور سماجی ضروریات کے شعبے میں بھی لاہور پولیس نے ریکارڈ اقدامات کیے ہیں؛ پولیس ملازمین کے بچوں کے لیے اسکالرشپ کی مد میں ایک سو ستاسی خاندانوں میں چار کروڑ پچانوے لاکھ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کی شادیوں کے اخراجات میں معاونت کے لیے جہیز فنڈ کے تحت شہدا کے اکتیس خاندانوں کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے۔

سی سی پی او لاہور کے مطابق، سترہ خاندانوں کو گزارہ الائنس کی مد میں ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی ہے، جبکہ گروپ انشورنس کے تحت شہدا کے پندرہ خاندانوں کو انتیس لاکھ اکیالیس ہزار روپے سے زائد رقم دی گئی ہے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں اور باوقار انداز میں اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ شہدا کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال جاری رہے گا۔

پاکستان ریلوے میں ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن، راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز‘ قائم کرنے کا فیصلہ

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ریلوے اور آئی ٹی ٹیم نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان ریلوے کو جدید اور محفوظ بنانے کے لیے تمام جاری اور مجوزہ ڈیجیٹل منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے، عوام کی سہولت کے لیے تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر و تیز رفتار بنانے اور راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز‘ قائم کرنے کے اہم تزویراتی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق جاری منصوبوں اور آئندہ سال کے اہداف کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان ریلوے اپنی اٹھتر سالہ تاریخ کی ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کر رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے میدان میں تمام سرکاری اداروں سے سب سے آگے ہے۔

اجلاس میں مسافروں کو فراہم کی جانے والی جدید سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ رابطہ ایپ پر اس وقت سو سے زائد ٹرینیں دستیاب ہیں اور اب تک ریلوے کے ساٹھ بڑے اسٹیشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ مسافروں کی فوری معاونت کے لیے ریلوے ہیلپ لائن ایک سو سترہ کو چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کے لیے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں تربیت یافتہ آئی ٹی ایجنٹس ہر وقت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جس سے اب تک ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے تقریباً ستر فیصد مسافروں کی آمدورفت کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ راولپنڈی میں ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشن‘ کا کامیابی سے افتتاح کیا جا چکا ہے اور اب کیے گئے فیصلے کے تحت دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد اس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

حکام نے اجلاس کو مال برداری اور انتظامی امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران فریٹ مینجمنٹ سسٹم، رولنگ اسٹاک ٹریکنگ، ڈیجیٹل ویٹ برجز، ای انسپیکشن رجیم اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے ان تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کی خصوصی ہدایت جاری کیں۔ اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے دوران شروع کیے جانے والے متعدد بڑے ڈیجیٹل منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ان منصوبوں میں سترہ سو کلومیٹر طویل فائبر آپٹک بیسڈ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کا قیام اور ایک مکمل ’فریٹ ڈیجیٹلائزیشن ایکو سسٹم‘ کی تشکیل شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جی پی ایس بیسڈ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مسافروں کو جدید ترین سفری سہولیات فراہم کرنے اور جدید سگنلنگ سسٹم کے نفاذ کے ذریعے ٹرین آپریشنز، حفاظت اور محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے منصوبے بھی زیرِ غور آئے۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر ریلوے نے تمام جاری اور مجوزہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ادارہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ریاض میں مقتدر ملاقات؛ ریاض کے جدید ترین یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر نائن ون ون کا تفصیلی دورہ

محمود احمد, JULY 02,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں برادر ممالک کے مابین دیرینہ تزویراتی شراکت داری اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سیکیورٹی کے شعبے میں ایک مقتدر مفاہمت کی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں بتایا کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ قیادت کی خصوصی ہدایات کے تحت پاکستانی ہم منصب، وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی سے ریاض میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس اہم بیٹھک کے دوران دونوں مقتدر رہنماؤں نے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو فول پروف بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس دستخط شدہ معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور مستحکم تعلقات کا عکاس قرار دیا۔

اپنے اس مقتدر دورے کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریاض ریجن میں واقع جدید ترین “یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر” (نائن ون ون) کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے سنٹر کے مختلف اہم شعبوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تمام متعلقہ سیکیورٹی اور سروسز کے اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی، روابط اور انضمام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں تزویراتی بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے شہریوں، مقامی مقیم افراد اور زائرین کے لیے ہنگامی رپورٹس پر انتہائی تیز رفتار اور درست ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کی انتھک کوششوں اور جدید ترین تکنیکی نظام کو خاص طور پر سراہا۔

واضح رہے کہ ریاض ریجن کا یہ مرکزی آپریشنز سنٹر (نائن ون ون) سعودی عرب کے اہم ترین سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں شمار ہوتا ہے، جو ریاض شہر کے علاوہ خطے کی بائیس گورنریٹس کو اپنی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ایک ہی چھت تلے قائم اس جدید ترین کنٹرول روم میں باسٹھ آپریشنل ورکنگ یونٹس چوبیس گھنٹے متحرک رہتے ہیں، جو تمام ہنگامی نوعیت کی کالز کو موصول کر کے فوری کارروائی کو یقینی بناتے ہیں۔ سیکیورٹی اور ہنگامی خدمات کا یہ مربوط نظام سعودی عرب کے تاریخی “وژن بیس تیس” اور “کوالٹی آف لائف پروگرام” کے اعلیٰ اہداف کے تحت کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

عوام کی خدمت اور ان کے بنیادی مسائل کا فوری حل پاکستان پیپلز پارٹی کا اولین منشور ہے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی گفتگو

منصور احمد, JULY 02,2026

سکھر/خیرپور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کوٹ ڈیجی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ریجنل دفتر کا ایک مقتدر دورہ کیا اور وہاں علاقہ معززین و پارٹی کارکنان سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ اپنے انتخابی حلقے میں واقع پیپلز پارٹی کمب آفس پہنچیں، جہاں انہوں نے پارٹی کے مقامی رہنماؤں، خواتین ورکرز، مقتدر کارکنوں اور معززینِ علاقہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس تزویراتی موقع پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے علاقے کی خواتین سمیت عام عوام کے درپیش مسائل انتہائی تفصیل سے سنے اور ان کے فوری اور پائیدار حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ سرکاری افسران کو سخت احکامات جاری کیے۔

ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے شرکاء کو پختہ یقین دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ بلاامتیاز عوام کی خدمت اور ان کے سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی و تزویراتی اقدامات کرتی رہے گی، کیونکہ یہی پارٹی قیادت کا اصل مشن ہے۔ اس مقتدر موقع پر پی پی پی تحصیل کوٹ ڈیجی کے سینئر رہنما، بلدیاتی نمائندے اور دیگر معززینِ علاقہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جنہوں نے اپنے مقتدر حلقے میں عوامی روابط مہم کو تیز کرنے پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔