چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایم بی سومرو کی خوش دامن کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) کے صدر ایم بی سومرو کی خوش دامن کے انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کے روز سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پی آر اے کے صدر ایم بی سومرو اور ان کے تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس انتہائی کٹھن گھڑی میں وہ غمزدہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے التجا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ جگہ عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب کرے اور تمام سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔

کارگل جنگ کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، ملک بھر میں خصوصی دعائیں

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

کارگل جنگ کے عظیم ہیرو اور نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت، مقتدر احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس اہم موقع پر ملک بھر کی مساجد میں شہدائے وطن کے بلندیِ درجات، مغفرت اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، بقا اور تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ مساجد اور مقتدر فورمز پر علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور دیگر شہداء کی دفاعِ وطن کے لیے پیش کی جانے والی لازوال قربانیوں پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

علماء کرام نے اپنے خطبات اور بیانات میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ وطنِ عزیز کی حفاظت اور جغرافیائی حدود کے دفاع کے لیے اپنی معزز جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء پوری قوم کا حقیقی سرمایۂ افتخار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہداء کی یہ عظیم قربانیاں قوم کی اجتماعی ذمہ داری اور ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی دانشوروں کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان کی ان بے مثال قربانیوں نے ہی وطن کے امن، بقا، آزادی اور ملکی استحکام کو ہمیشہ کے لیے مضبوط اور مقتدر بنیادیں فراہم کی ہیں، کیونکہ زندہ اور باوقار قومیں اپنے مقتدر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کے لہو اور ان کی تزویراتی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، وہ دنیا میں ہمیشہ عزت، اتحاد اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی پاک فوج میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جرات، بے پناہ بہادری اور حب الوطنی کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی ہے جو ہماری آنے والی تمام نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ علماء نے عزم ظاہر کیا کہ شہداء کی یہ لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور بلند قومی وقار کی سب سے مضبوط اور پُرعزم علامت ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نشانِ حیدر پانے والے قوم کے عظیم ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو ان کے یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وطنِ عزیز کے اس عظیم اور بہادر بیٹے کو پوری قوم کا سلام ہو، کیونکہ معرکہ کارگل کے فلک بوس پہاڑ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی لازوال بہادری اور شجاعت کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے کارگل کے محاذ پر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے مقتدر جرات کے ساتھ دشمن کی فوج پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شہید کے پُرعزم کردار کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن کا ہراول دستوں کی طرح بھرپور مقابلہ کرنے والا قوم کا یہ دلیر سپاہی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے بے مثال جرات سے لڑتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور جوانمردی و ملکی دفاع کی ایک ایسی مقتدر تاریخ رقم کی جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ وزیرِ داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید جیسے بہادر اور پُرعزم جوانوں کی موجودگی میں کوئی بھی دشمن وطنِ عزیز پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا، اور پوری قوم اپنے ان مقتدر شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات؛ باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, JULY 04,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، روابط، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ تاریخی شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ان کے لیے باعثِ مسرت اور بڑا اعزاز تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا گیا کہ مختلف علاقائی و عالمی اختلافات کے پائیدار حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر اور دیرپا راستہ ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک نے اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کے حجم کو پانچ ارب امریکی ڈالر کے متفقہ ہدف تک پہنچانے کے پُرعزم عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔

اپنے دورے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے استنبول میں منعقدہ پاکستان–ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہیں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے ترک تاجروں کے پُرعزم جذبے، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ان کے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی شراکت داری اب ایک نئے، مضبوط اور روشن دور میں داخل ہو رہی ہے۔

اوگرا نے جون دو ہزار چھبیس کے لیے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، قیمتوں میں اضافہ

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق جون دو ہزار چھبیس کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکوئڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی نئی قیمتوں کا تعین کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ اطلاق یکم جون دو ہزار چھبیس سے ہوگا۔ جمعہ کے روز اوگرا کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفیکیشن کے مطابق، جون دو ہزار چھبیس سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ٹرانسمیشن ریٹ سترہ اعشاریہ نو تین نو چار (17.9394) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن ریٹ انیس اعشاریہ پانچ دو دو آٹھ (19.5228) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ٹرانسمیشن ریٹ سولہ اعشاریہ تین چھ سات نو (16.3679) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن ریٹ اٹھارہ اعشاریہ چھ تین چھ صفر (18.6360) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو طے کیے گئے ہیں۔

نوٹیفیکیشن کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، مئی دو ہزار چھبیس کے مقابلے میں جون کے مہینے کے لیے ایس این جی پی ایل کے ٹرانسمیشن ریٹ میں دو اعشاریہ تین ایک پانچ سات (2.3157) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 14.82 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن ریٹ میں دو اعشاریہ پانچ تین آٹھ ایک (2.5381) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 14.94 فیصد) کا مقتدر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح، ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسمیشن ریٹ میں دو اعشاریہ دو سات چار آٹھ (2.2748) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 16.14 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن ریٹ میں دو اعشاریہ پانچ نو تین چار (2.5934) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 16.17 فیصد) اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

ترجمان اوگرا نے اس مقتدر مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جون دو ہزار چھبیس کے لیے آر ایل این جی کی ان قیمتوں کا حتمی تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے تین کارگو اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ایک اسپاٹ کارگو کی قیمتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اوگرا حکام کے مطابق، آر ایل این جی کی قیمتوں کا یہ تفصیلی نوٹیفیکیشن عوامی معلومات کے لیے اوگرا کی باقاعدہ ویب سائٹ پر بھی آن لائن فراہم کر دیا گیا ہے۔

راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، کمشنر، ڈی سی اور سی پی او سمیت پانچ اعلیٰ افسران تبدیل

منصور احمد, JULY 03,2026

راولپنڈی/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

حکومتِ پنجاب نے صوبائی انتظامیہ اور امن و امان کے نظام میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے راولپنڈی ڈویژن، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مجموعی طور پر پانچ اعلیٰ ترین افسران کو فوری طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ نوٹیفیکیشنز کے مطابق، ان تبادلوں میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سٹی پولیس آفیسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑنے اور نئی تعیناتی کے مقامات پر رپورٹ کرنے کے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ گورنر پنجاب کی حتمی منظوری سے جاری ہونے والے ان تمام احکامات پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مندرجات کے مطابق، کمشنر راولپنڈی ڈویژن محمد عبدالحکیم خٹک کا راولپنڈی سے تبادلہ کر دیا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جہاں بعد میں ان کی اگلی پوسٹنگ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کی سطح پر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر سروسز ڈیپارٹمنٹ لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ اب فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ریٹائرڈ) ندیم ناصر کو راولپنڈی کا نیا ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا ہے۔

ضلعی بیوروکریسی میں مزید اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) راولپنڈی کیپٹن (ریٹائرڈ) شہریار شیرازی کا بھی تبادلہ کر کے انہیں لاہور رپورٹ کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ ان کی خالی ہونے والی نشست پر کیپٹن (ریٹائرڈ) طیب سمیع خان کو راولپنڈی کا نیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مقرر کیا گیا ہے جو اس سے قبل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) لاہور میں بطور ڈائریکٹر جنرل خدمات انجام دے رہے تھے۔ پولیس انتظامیہ اور تحصیل کی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جہاں امن و امان کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کو فوری طور پر تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس پنجاب، لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی (صدر) حاکم خان کو تبدیل کر کے ایڈمنسٹریشن ونگ سروسز ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان کی جگہ کوٹ مومن کے اسسٹنٹ کمشنر محمد اختر کو راولپنڈی کا نیا اسسٹنٹ کمشنر صدر تعینات کر دیا گیا ہے۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ؛ رضا ڈار پر سنگین الزامات کے بعد تندوتیز تنقید، پاکستان کو فیملی کارپوریشن کی طرح چلانے کا الزام

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

ممتاز سیاستدان اور سینیٹر فیصل واوڈا نے رضا ڈار پر لگنے والے شرمناک الزامات کے بعد مقتدر نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے فوری طور پر عہدے سے استعفیٰ دینے کا مقتدر مطالبہ کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک تندوتیز اور مقتدر بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے سخت سوال اٹھایا کہ ان انتہائی سنگین الزامات کے سامنے آنے کے بعد اب کون اسحاق ڈار کے ساتھ پاکستان کے مقتدر پرچم تلے کھڑا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار اس وقت ملک کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ بھی ہیں، اور اس وقت پورے پاکستان کو ایک فیملی کارپوریشن کی طرح چلایا جا رہا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ اسحاق ڈار کے مبینہ قریبی رشتے دار پر غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی، ہولناک تشدد اور بھتہ خوری جیسے مقتدر الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم مبینہ طور پر غیر ملکی خواتین کو بلا کر ان کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کرتا تھا، اور ایک غیر ملکی سفارت خانے کی براہِ راست اور تزویراتی مداخلت کے بعد ہی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ فیصل واوڈا نے سنگین خدشہ ظاہر کیا کہ اب اس ہائی پروفائل کیس کو مبینہ زیادتی کے بجائے محض بھتہ خوری کے معمولی کیس تک محدود کرنے کی مقتدر کوششیں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ مظلوم غیر ملکی خواتین کو جلد از جلد ملک سے واپس بھیجنے کی تزویراتی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ اس مقتدر اسکینڈل کو دبایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حساس کیس میں دفعہ ایک سو چونسٹھ کا اہم قانونی بیان اب تک دانستہ طور پر سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا کہ ماضی کے مقتدر ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کیس میں بھی من پسند میڈیکل رپورٹس حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے جمہوریت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے نام پر پانچ سو افراد کی ایک مخصوص ایلیٹ کلاس نے پورے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ طویل عرصے سے ان جمہوری جماعتوں اور جمہوری جنازوں کو بے نقاب کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ عوام خود دیکھ لے کہ اس مقتدر واقعے پر حکومت ہو یا اپوزیشن، کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے لیڈر کا کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ کچھ مقتدر پاکستانیوں کے انٹرنیشنل اسکینڈلز اور مخصوص ویڈیوز جلد منظرِ عام پر آئیں گی۔

تہران: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 03,2026

تہران/راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمد کے موقع پر ایران کے وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے پاکستانی وفد کا پرتپاک اور مقتدر استقبال کیا۔

اس مقتدر دورے کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ایرانی قیادت، مقتدرہ کے ارکان اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور ملک کے غیور عوام کی جانب سے برادر ملک ایران کو اس گہرے صدمے پر تعزیت کا مقتدر پیغام پہنچائیں گے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی جانب سے مکمل تزویراتی یکجہتی اور مقتدر حمایت کا اعادہ کریں گے۔ یہ دورہ پاک ایران تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کے مشترکہ وفد کا تاریخی دورہ؛ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

کاشف عباسی , JULY 03,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر پر مشتمل مشترکہ وفد نے پاکستان کے ممتاز ترین دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا ہے جہاں انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے وفد کا والہانہ اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ کی قیادت نے اس دورے کو قومی اتحاد اور مقتدر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک انتہائی مثبت اور تاریخی تزویراتی اقدام قرار دیا ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں آنے والے اس اعلیٰ سطحی وفد میں مسیحی، ہندو، شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز ترین نمائندے شامل تھے۔ وفد میں بشپ کامران، رمیش کمار، بھگت لال کھوکھر، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف واحدی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا انوارالحق، مولانا یوسف کشمیری، انجینئر عثمان، مولانا زاہد محمود، حافظ مقبول احمد، علامہ توقیر عباس، علامہ سلمان نقوی، اور مولانا اکبر آصف میر سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، مذہبی رہنما اور مقتدر دانشور بڑی تعداد میں شریک تھے۔ دورے کے دوران وفد اور جامعہ اشرفیہ کی مقتدر قیادت کے درمیان بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، باہمی احترام، قومی اتحاد اور معاشرتی استحکام کے فروغ سے متعلق تفصیلی اور تعمیری تبادلۂ خیال کیا گیا، اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن، بھائی چارے، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام مذہبی و سماجی طبقات باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے اس مشترکہ دورے کو قومی ہم آہنگی کی تاریخ کا ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کا ایک ہی مقتدر پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ملک کے اتنے بڑے دینی ادارے کا دورہ کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام مذہبی طبقات امن، رواداری اور ملکی اتحاد کے مشترکہ تزویراتی ایجنڈے پر مکمل متفق ہیں۔ انہوں نے پُرعزم امید کا اظہار کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے تحت اس نوعیت کے مقتدر مشترکہ اقدامات نہ صرف بین المذاہب اور بین المسالک روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ ملک بھر میں مستقل امن، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مقتدر تاریخ میں یہ پہلا منفرد موقع ہے کہ جب تمام مسالک و مذاہب کی اعلیٰ قیادت ایک دینی ادارے میں مشترکہ وفد کی صورت میں پہنچی اور ان کا بھرپور استقبال کیا گیا، جس پر قومی پیغامِ امن کمیٹی بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی فیکلٹی کے لیے جنوبی کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ 2027 کے لیے درخواستیں طلب کر لیں

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی جامعات کے تدریسی و فیکلٹی اراکین کے لیے جنوبی کوریا کی ممتاز سیول نیشنل یونیورسٹی کے مقتدر “پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ پروگرام” برائے اسپرنگ دو ہزار ستائیس کے تحت باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق، یہ تزویراتی اسکالرشپ جمہوریہ کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے، جس کے لیے صرف پاکستانی جامعات کے فیکلٹی ممبران ہی درخواست دینے کے مقتدر اہل ہوں گے۔ خواہشمند اور اہل فیکلٹی اراکین کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی مدت چھ جولائی سے نو جولائی دو ہزار چھبیس تک مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد پورٹل بند کر دیا جائے گا۔

ایچ ای سی نے اپنے مقتدر اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ وہ اس اسکالرشپ کی معلومات صرف سرکاری سفارتی ذرائع سے موصول ہونے کے بعد عام کر رہا ہے، جبکہ امیدواروں کے حتمی انتخاب، داخلے اور اسکالرشپ کی منظوری کا مکمل تزویراتی اختیار صرف سیول نیشنل یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہوگا۔ اعلان کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت ترقی پذیر ممالک کی جامعات میں خدمات انجام دینے والے ایسے تدریسی و تحقیقی فیکلٹی اراکین درخواست دے سکتے ہیں جو ابھی پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں رکھتے اور سیول نیشنل یونیورسٹی میں اسپرنگ دو ہزار ستائیس سیشن کے لیے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ حاصل کرنے کی تمام مطلوبہ مقتدر شرائط پوری کرتے ہوں۔

اس مقتدر فیلوشپ کے تحت منتخب ہونے والے خوش نصیب امیدواروں کو یونیورسٹی کی جانب سے مکمل ٹیوشن فیس، معقول ماہانہ وظیفہ، بین الاقوامی فضائی سفر کا ٹکٹ اور دیگر تمام مقتدر سفری و تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دلچسپی رکھنے والے تمام ملکی امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن درخواست دینے سے قبل اسکالرشپ کی اہلیت، شرائط اور درخواست کے پیچیدہ طریقہ کار کا بغور مطالعہ کر لیں اور کسی بھی تزویراتی غلطی سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی درخواستیں کامیابی سے جمع کرائیں۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت کی ملاقات، صحت کے شعبے میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

جنیوا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ایک اہم تزویراتی ملاقات کی ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، جنہیں اب صحت کے شعبے میں مقتدر تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ویکسین سازی کی قومی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے عملی اور تزویراتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک کلیدی اور قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار ہے، اور پاکستان انڈونیشیا کی جدید طبی ٹیکنالوجی اور وسیع تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں جاری حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کے مقتدر عزم کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی، جدید طبی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے ہر ممکن تزویراتی تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں وزرائے صحت نے اس پُرعزم عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ مشترکہ مہم اور تزویراتی شراکت داری مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے گی۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر کے وفد کی ملاقات، کارگو سروسز کو مؤثر بنانے اور صنعتکاروں کو بہترین لاجسٹکس سہولیات کی فراہمی پر تبادلہ خیال

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مٹو کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے مقتدر وفد نے وزارتِ ریلوے میں اہم تزویراتی ملاقات کی ہے۔ ریلوے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وفد میں سابق ایم پی اے و سابق میئر گجرات حاجی ناصر محمود، سابق صدر گجرات چیمبر باؤ منیر احمد، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چوہدری عمران وڑائچ، عادل اشرف بھٹہ، عمران عباس، معصوم قمر، عبدالرحمن، عاقف سعید، عباس بٹ، قیصر لطیف، راجہ آصف، چیئرمین کمیٹی سرفراز نذر، سابق چیئرمین پولٹری ایسوسی ایشن حاجی زاہد محمود، حاجی جاوید اقبال اور چوہدری عدیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت کے فروغ، کارگو سروسز کو جدید بنیادوں پر مزید مؤثر بنانے، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو بہتر سہولیات کی فراہمی، لاجسٹکس کے نظام میں انقلابی بہتری اور گجرات سمیت مختلف صنعتی علاقوں کو ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ فعال انداز میں منسلک کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران چیمبر کے وفد نے وفاقی وزیر کو کاروباری برادری کو درپیش مختلف مسائل اور اہم تجاویز سے آگاہ کیا اور ریلوے کارگو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سامان کی بروقت ترسیل اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو قومی معیشت کا مؤثر اور تزویراتی ستون بنانے اور ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارگو آپریشنز کی استعداد بڑھانے، جدید سہولیات کی فراہمی اور کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ریلوے کو ملکی تجارت کے لیے ایک قابلِ اعتماد، تیز رفتار اور کم لاگت ذریعہ بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ گجرات کی صنعتی برادری کی تمام قابلِ عمل تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا اور پاکستان ریلوے کی کارکردگی، کارگو سہولیات اور تجارتی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام مقتدر اقدامات اٹھائے جائیں گے، جس پر وفد نے وزیر ریلوے کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کو سراہا۔

زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً چار ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ، حجم بائیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مقتدر اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں مجموعی طور پر 3.954 ارب ڈالر کا نمایاں اور تزویراتی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جون دو ہزار پچیس کے اختتام پر زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کا کل حجم 18.091 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں سے مرکزی بینک کے پاس 12.728 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.363 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جو اس وقت ڈھائی ماہ کی ملکی درآمدات کے لیے کافی تھے۔ چوبیس جون دو ہزار چھبیس کو اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی ہفتے تک زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کی مجموعی مالیت بڑھ کر 22.045 ارب ڈالر کی مقتدر سطح تک پہنچ چکی ہے، جس میں اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 16.527 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.517 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس مالیاتی سفر کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طور پر 3.799 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ہوا جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 154 ملین ڈالر تک بہتر ہوئے۔ مالیاتی ماہرین اور مرکزی بینک کے حکام کے مطابق زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر ملکی معاشی استحکام کے لیے انتہائی خوش آئند ہیں جو اب 2.91 ماہ کی ملکی درآمدات کی ضروریات کو باآسانی پورا کرنے کے لیے مؤثر اور کافی ہیں۔ اس مثبت تزویراتی ترقی سے ملکی کرنسی پر دباؤ میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

آن لائن حج رجسٹریشن نظام کی ریکارڈ پذیرائی، پہلے گیارہ دنوں میں دو لاکھ سے زائد عازمین نے گھر بیٹھے رجسٹریشن مکمل کر لی

محمود احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے متعارف کردہ آن لائن حج رجسٹریشن نظام کو ملک بھر میں ریکارڈ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت پہلے گیارہ دنوں کے مختصر ترین عرصے میں دو لاکھ تین ہزار سات سو بائیس (2,03,722) عازمینِ حج نے گھر بیٹھے کامیابی سے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نے جمعہ کے روز اپنے ایک مقتدر بیان میں اس ڈیجیٹل کامیابی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید نظام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ اسی ہزار عازمین نے باقاعدہ ویب پورٹل کا استعمال کیا، جبکہ چوبیس ہزار سے زائد عازمین نے مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

ترجمان کے مطابق، اس سال عازمین کی بڑی تعداد نے سرکاری اسکیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ چوون ہزار سے زائد عازمین نے سرکاری جبکہ انچاس ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج اسکیم کا انتخاب کیا ہے۔ صوبائی بریک ڈاؤن کے تزویراتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب پچانوے ہزار عازمین کے ساتھ رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ سندھ سے تریسٹھ ہزار، خیبرپختونخوا سے اٹھائیس ہزار، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نو ہزار، بلوچستان سے پچپن سو، آزاد جموں و کشمیر سے بارہ سو اور گلگت بلتستان سے چھ سو عازمین نے اس جدید ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے پُرعزم سفری ارادے کو پایا۔

وزارتِ مذہبی امور نے اس نئے نظام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سال دو ہزار اٹھائیس کے حج کے لیے چودہ سو، سال دو ہزار انتیس کے لیے ڈھائی سو، اور سال دو ہزار تیس کے طویل مدتی ارادے کے لیے ساڑھے تین سو عازمین نے ابھی سے اپنی دلچسپی کا مقتدر اظہار کر دیا ہے۔ ترجمان عمر بٹ نے مزید بتایا کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کل عازمینِ حج میں مردوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار جبکہ خواتین کی تعداد چوراسی ہزار پانچ سو ہے، اور یہ ڈیجیٹل عمل بغیر کسی تعطل کے انتہائی شفاف انداز میں جاری ہے۔

مالی وفاقیت کی مضبوطی سے پاکستان کا معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک کی نئی رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔

رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی تزویراتی دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر مقتدر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں قیام کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے گہری تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ اس مشکل اور گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم اور مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی مکمل تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران کا یہ مقتدر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تزویراتی بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس مقتدر تقریب میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، بڑے سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا عالمی ترقیاتی اقدام کے تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب؛ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تجربات کی پیشکش

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کی لائیو نشریات میں بھی بڑی سائبر دراندازی

منصور احمد, JULY 03,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور اب پاکستان مخالفت میں ہر صحافتی حد پار کر جانے والے معروف اینکر ارنب گوسوامی کے چینل “ریپبلک ٹی وی” کی لائیو نشریات میں بھی ایک بڑی اور حیران کن سائبر دراندازی سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دو جولائی کو لائیو اسٹریم کے دوران نامعلوم ہیکرز نے ارنب گوسوامی کے لائیو پروگرام کی اسکرین پر اپنے بینرز اور ویڈیوز چلا دیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق، یہ حملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور براہِ راست چینل کے براڈکاسٹ مینجمنٹ سسٹم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث نشریات پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

مسلسل کامیاب ہونے والے ان سائبر حملوں نے بھارت کی مجموعی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر دفاع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے متعدد بڑے میڈیا نیٹ ورکس ہیکرز کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سن ٹی وی نیٹ ورک، ٹی وی نو تیلگو، فریڈم ٹی وی لائیو اور فریڈم ٹی وی کنڑا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے بی پی لائیو کو بھی حالیہ دنوں میں شدید سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی ویورشپ رکھنے والے ان مقتدر بھارتی چینلز کا سائبر حملوں سے محفوظ نہ رہ سکنا انتہائی تشویشناک ہے اور ان پے در پے واقعات نے بھارتی ڈیجیٹل دفاع کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

بیجنگ: چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کا دوسرا اجلاس رواں سال خزاں میں ہوگا؛ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات میں کمی کے فریم ورک پر اتفاق

محمود احمد, JULY 02,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

چینی وزارتِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ چین اور یورپی یونین اپنے نو تشکیل شدہ “تجارت و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم” کا دوسرا وزارتی اجلاس رواں سال خزاں میں بیجنگ میں منعقد کریں گے۔ سی جی ٹی این کے مطابق، چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان حہ یادونگ نے جمعرات کو بیجنگ میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ میکانزم دونوں اہم ترین معاشی شراکت داروں کے درمیان مستقل رابطہ برقرار رکھنے اور تجارتی برآمدات و درآمدات کو متوازن بنانے کے لیے ایک کلیدی مستقل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں فریقین نے سال میں ایک سے دو بار وزارتی سطح پر ملاقاتیں کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ چینی ترجمان نے مزید بتایا کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے تجارتی سربراہ (ماروش شیفکووچ) کو اس دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے باضابطہ طور پر چین کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترجمان حہ یادونگ نے واضح کیا کہ حال ہی میں برسلز میں منعقد ہونے والے افتتاحی اجلاس میں دونوں اقتصادی قوتوں نے باہمی تجارتی حجم کو کم کرنے کے بجائے، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھا کر تجارتی توازن قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس ضمن میں مصنوعی ذہانت ، گرین ٹرانزیشن (سبز توانائی کی منتقلی)، اور خدمات کی تجارت جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جبکہ دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی کے تحفظات کو بھی مرحلہ وار مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نئے معاشی پوزیشننگ سے نہ صرف چینی اور یورپی کمپنیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک مثبت اور مستحکم محرک ملے گا۔

دوسری جانب، امریکا کی زرعی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چینی ترجمان نے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ پاکٹ معاشی و تجارتی مذاکرات کے بعد چین اور امریکہ نے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص رہنما اہداف مقرر کیے ہیں۔ اس بات پر بھی اصولی اتفاق ہوا ہے کہ متعلقہ زرعی مصنوعات کو مساوی بنیادوں پر محصولات میں کمی کے طے شدہ فریم ورک کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے کسان اور کاروباری برادری اس تجارتی سہولت کاری سے یکساں فائدہ اٹھا سکیں۔