بلوچستان اسمبلی میں تیزاب گردی کے خلاف سخت قانون سازی کی متفقہ قرارداد منظور

Spread the love

محمود احمد, August 31,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

بلوچستان صوبائی اسمبلی نے صوبے بھر میں تیزاب پھینکنے کے دلخراش واقعات کی روک تھام اور ملزمان کو کڑی سزائیں دینے کے لیے مؤثر و جامع قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی، جسے تمام حکمران و اپوزیشن ارکان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی شاہدہ رؤف نے حال ہی میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کے بہیمانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک فرد یا خاتون پر حملہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین اور ناقابلِ برداشت حملہ ہے۔

قرارداد کے متن میں نشاندہی کی گئی کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب گردی جیسے سنگین اور روح فرسا جرائم وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کے مکمل سدباب اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر فی الوقت کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ شاہدہ رؤف نے ایوان کو بتایا کہ یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزاب حملے متاثرہ افراد کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور نجی زندگی پر بھی ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے فوری بنیادوں پر سخت قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

قرارداد کے ذریعے بلوچستان حکومت سے باقاعدہ سفارش کی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کرے یا تیزاب حملوں کی مکمل روک تھام کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک نیا اور جامع قانون متعارف کرائے۔