ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے: امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا عزم

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں باضابطہ شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنے دورے کے دوران برکس کے مرکزی سربراہی اجلاس، بین الاقوامی اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ایرانی صدارتی دفتر نے بتایا کہ مسعود پزشکیان کے ان تمام خطابات کا بنیادی موضوع جامع عالمی طرزِ حکمرانی کی تشکیل، منصفانہ اقتصادی نظام کا فروغ اور کثیرالجہتی (ملٹی لیٹرل) بین الاقوامی نظام کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہوگا۔

بھارت کی میزبان حکومت کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کیے جانے والے اس اہم برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممتاز عالمی رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں، جس کے باعث اس عالمی فورم کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

نئی دہلی روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ برکس بلاک میں ایران کی فعال شمولیت اور شرکت کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امریکہ کی یکطرفہ اور جارحانہ معاشی و سیاسی پالیسیوں کا موثر انداز میں مقابلہ کرنا اور ایک متوازن عالمی نظام قائم کرنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق، نئے برکس بینک (نیو ڈویلپمنٹ بینک) کے دائرہ کار کے تحت آئندہ تمام تر مشترکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی مالیات کو امریکی ڈالر پر کسی بھی قسم کا انحصار کیے بغیر فروغ دیا جائے گا، تاکہ رکن ممالک کے اقتصادی و تجارتی مفادات کو عالمی معاشی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

نئی دہلی میں 5 منزلہ ہاسٹل کی عمارت زمین بوس: درجنوں طلبہ ملبے تلے دب گئے، ایک ہلاک اور متعدد زخمی

کاشف عباسی , September 06,2026

نئی دہلی / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مغربی علاقے ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دہلی یونیورسٹی کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ رہائشی ہاسٹل کی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں طلبہ اور مزدور موجود تھے، جن میں سے متعدد کے ملبے تلے دبے ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ ‘ہاسٹل ڈیز’ نامی اس عمارت کے گرنے کے وقت اس میں اندازً 50 کے قریب افراد موجود تھے۔ چونکہ اتوار کے روز دہلی یونیورسٹی میں تعطیل تھی، اس لیے زیادہ تر طلبہ اپنے کمروں میں ہی موجود تھے۔

مقامی پولیس اور این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم 1 شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 6 افراد کو شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ موقع پر موجود ایک مقامی رکنِ اسمبلی نے میڈیا کو بتایا کہ ملبے تلے محصور بعض طلبہ فون کالز کے ذریعے اپنی موجودگی اور مدد کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کے گرنے کی بنیادی وجہ اس کے تہہ خانے میں جاری تعمیراتی اور کھدائی کا کام بنا۔ عمارت کے قریب موجود ایک دکاندار نے بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ عمارت کی آمدنی بڑھانے کے لیے لیز ہولڈر نے نیچے ستونوں کے پاس کھدائی کروائی تھی، جس سے بنیادیں کمزور ہو گئیں اور پوری عمارت بیٹھ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں متصل واقع ایک اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں اور این ڈی آر ایف ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر آس پاس کی دیگر تمام عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حادثے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ دار بلڈنگ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 40 سے 50 سال پرانی اس عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

بھارت میں تاریخی گرمی کی لہر: اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ

منصور احمد, September 02,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پڑوسی ملک بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں رواں سال کا اگست 1901 کے بعد سے لے کر اب تک کی 125 سالہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگست کے سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سال 2023 میں قائم ہونے والا 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران پورے بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بارشوں میں اس کمی اور حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ سمندری و فضائی مظہر ’ال نینو‘ کا متحرک ہونا بتایا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ اور بارش کے قدرتی نظام میں شدید تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے۔

جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بھارت میں ال نینو کے اثرات کے باعث شدید خشک سالی اور حدت سے بھرپور موسم پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن (گیس، تیل اور کوئلے) کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ال نینو کے ملاپ نے پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت میں تباہ کن اضافہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید ترین اور غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک بھارت ان شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہروں کی زدمیں ہے، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی ریاستوں اور اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک اور نا قابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔