

محمود احمد, JULY 19,2026
واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگی کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مقتدر عسکری ٹکراؤ نے ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی جریدے “نیویارک ٹائمز” نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے تزویراتی انکشاف کیا ہے کہ اردن اور کویت میں واقع امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پورے اسکواڈرن، فائٹر جیٹس، بنکرز اور پیٹریاٹ ریڈار سسٹمز کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل تتابعی حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس نہ صرف میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، بلکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے کی اس کی صلاحیت میں بھی مقتدر اضافہ ہو چکا ہے۔
امریکی عسکری حکام کی جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ 5 دنوں کے دوران ایرانی میزائلوں نے سب سے پہلے سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں 5 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک خفیہ اڈے کو نشانہ بنا کر وہاں موجود بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے کئی اسکواڈرنز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اردن کے موافق السلط ایئر بیس (ازرق) پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی گئی جس کے نتیجے میں بنکروں میں پناہ لینے والے 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ اسی اڈے پر دوبارہ ہونے والے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ امریکی عسکری کمانڈ “سینٹکام” نے 17 جولائی کو اردن میں ہونے والے ان حملوں میں اپنے 2 فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے الازرق ایئر بیس پر 2 فائٹر جیٹس، 3 امریکی طیارے، پارکنگ ریمپ اور جیٹ شیلٹرز کو کامیابی سے تباہ کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج نے مزید بتایا کہ انہوں نے امریکی بمباری کے جارحانہ جواب میں کویت میں موجود دو بڑے امریکی اڈوں کو بھی خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے مرکزی اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلنس ریڈار کو براہِ راست ہٹ کیا گیا ہے۔ کویتی فوج نے اگرچہ کچھ حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے، تاہم جمعہ اور ہفتے کو ہونے والے ان حملوں سے کویت کے دو بجلی گھر اور تیل کی اہم تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس پر خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ان حملوں کو “جنگی جرائم” قرار دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ تازہ ترین صورتحال اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اب تک کی بلند ترین اور خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو “ناقابلِ فراموش سبق” سکھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “شیطانِ بزرگ” (امریکہ) کی جانب سے 17 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے کی جانے والی وعدہ شکنی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اس تزویراتی یادداشت کا مقصد ایرانی سرزمین پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو روکنا اور 60 دنوں کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم امریکہ کی وعدہ شکنی کے بعد ایران نے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا۔ اس عسکری بمباری کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ سخت ترین بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے۔