امریکا سے جنگ کا خاتمہ صرف عسکری فتح یا برتری پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مقتدر انتباہ

کاشف عباسی , JULY 20,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری تصادم کے مقتدر تناظر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تزویراتی موقف سامنے رکھا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری یہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گی، کیونکہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر برابری اور برتری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی مذاکرات کا درست وقت تب ہی ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے ملکی قیادت کی حکمتِ عملی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور تمام فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ تزویراتی جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے ملک کو فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے دنیا پر اپنے نظام کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جنگ کے مقتدر محاذ پر ایرانی فوج کے ترجمان نے ایک انتہائی سخت تادیبی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن کو سخت اور مکمل سبق نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی دشمن جنگی سامان آبنائے ہرمز کے ذریعے لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکا کے ساتھ عسکری معاونت کرنے والے تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو استعمال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب مسلسل نویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک مقتدر تزویراتی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی نشریاتی اداروں کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال 20 ہینگرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور تادیبی بیان میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

اردن اور کویت میں امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے؛ 2 امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، بلیک ہاک اسکواڈرن تباہ

محمود احمد, JULY 19,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگی کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مقتدر عسکری ٹکراؤ نے ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی جریدے “نیویارک ٹائمز” نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے تزویراتی انکشاف کیا ہے کہ اردن اور کویت میں واقع امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پورے اسکواڈرن، فائٹر جیٹس، بنکرز اور پیٹریاٹ ریڈار سسٹمز کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل تتابعی حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس نہ صرف میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، بلکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے کی اس کی صلاحیت میں بھی مقتدر اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکی عسکری حکام کی جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ 5 دنوں کے دوران ایرانی میزائلوں نے سب سے پہلے سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں 5 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک خفیہ اڈے کو نشانہ بنا کر وہاں موجود بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے کئی اسکواڈرنز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اردن کے موافق السلط ایئر بیس (ازرق) پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی گئی جس کے نتیجے میں بنکروں میں پناہ لینے والے 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ اسی اڈے پر دوبارہ ہونے والے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ امریکی عسکری کمانڈ “سینٹکام” نے 17 جولائی کو اردن میں ہونے والے ان حملوں میں اپنے 2 فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے الازرق ایئر بیس پر 2 فائٹر جیٹس، 3 امریکی طیارے، پارکنگ ریمپ اور جیٹ شیلٹرز کو کامیابی سے تباہ کیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج نے مزید بتایا کہ انہوں نے امریکی بمباری کے جارحانہ جواب میں کویت میں موجود دو بڑے امریکی اڈوں کو بھی خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے مرکزی اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلنس ریڈار کو براہِ راست ہٹ کیا گیا ہے۔ کویتی فوج نے اگرچہ کچھ حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے، تاہم جمعہ اور ہفتے کو ہونے والے ان حملوں سے کویت کے دو بجلی گھر اور تیل کی اہم تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس پر خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ان حملوں کو “جنگی جرائم” قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی یہ تازہ ترین صورتحال اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اب تک کی بلند ترین اور خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو “ناقابلِ فراموش سبق” سکھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “شیطانِ بزرگ” (امریکہ) کی جانب سے 17 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے کی جانے والی وعدہ شکنی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اس تزویراتی یادداشت کا مقصد ایرانی سرزمین پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو روکنا اور 60 دنوں کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم امریکہ کی وعدہ شکنی کے بعد ایران نے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا۔ اس عسکری بمباری کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ سخت ترین بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے۔