

محمود احمد, August 07,2026
تہران / برسبین (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء
ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی دو اہم کھلاڑیوں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ نے باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے رواں برس کے آغاز میں ایرانی حکومت پر شدید تنقید کی تھی جس کے بعد سے وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار تھیں۔
22 سالہ فاطمہ پسندیدہ اور 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ نے ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِ امیگریشن ٹونی برک کے ہاتھوں شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر ان کے دوست احباب اور برسبین میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے بھی شرکت کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
شہریت کا حلف اٹھانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عاطفہ رمضانی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش لمحات میں سے ایک ہے، آسٹریلیا نے انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے، تاہم ان کی ایرانی شناخت ہمیشہ ان کے وجود کا حصہ رہے گی۔ اسی طرح فاطمہ پسندیدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی مشکلات اور تشویش کے بعد یہ دن ان کے لیے بے حد خوش آئند ہے اور وہ خود کو بے حد خوش نصیب محسوس کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ان سات ایرانی فٹبالرز کے گروپ میں شامل تھیں جنہیں رواں برس مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، دیگر پانچ خواتین کھلاڑیوں نے بعد ازاں اپنا ارادہ تبدیل کر کے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان دونوں کھلاڑیوں کو شہریت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آسٹریلوی حکومت اپنے ویزا قوانین سخت کرنے اور امیگریشن کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم یہ دونوں ایرانی فٹبالرز اس وقت اے لیگ ویمنز کلب ‘برسبین روار’ کے ساتھ اپنی تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ آسٹریلیا میں ہی اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں۔