ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بدترین شکست: انگلینڈ کے باؤلرز کی تباہ کن باؤلنگ، گرین شرٹس کو اننگز اور 103 رنز سے ناکامی کا سامنا

محمود احمد, August 22,2026

لیڈز (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز 1-1 سے ڈرا کرنے کے بعد انگلینڈ کے دورے پر موجود قومی کرکٹ ٹیم کو ہیڈنگلے کے تاریخی میدان پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انگلینڈ کی تیز رفتار باؤلنگ جوڑی اولی رابنسن اور جوش ٹونگ کی شاندار اور تباہ کن باؤلنگ کی بدولت میزبان ٹیم نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر سیریز میں فتح اپنے نام کر لی ہے۔ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستانی بلے باز انگلش تیز باؤلرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پوری ٹیم محض 171 رنز کے معمولی مجموعے پر ڈھیر ہو گئی۔ اولی رابنسن اور جوش ٹونگ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 5،5 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی اننگز کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم نے جاندار بیٹنگ لائن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 409 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے علی عثمان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، لیکن انگلش بلے بازوں نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ انگلینڈ کی جانب سے جارڈن کاکس، تجربہ کار جو روٹ، ہیری بروک اور ڈین لارنس نے عمدہ نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا اور پاکستان پر 238 رنز کی بھاری برتری حاصل کر لی۔

پاکستان کو اننگز کی ہزیمت سے بچنے کے لیے دوسری اننگز میں 238 رنز کا خسارہ ختم کرنا تھا، لیکن قومی بلے باز دوسری اننگز میں بھی انگلش باؤلنگ کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر ائے۔ پوری پاکستانی ٹیم صرف 37.3 اوورز میں 135 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، جس کے نتیجے میں انہیں اننگز اور 103 رنز سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ کی سرزمین پر 2000ء کے بعد یہ پاکستان کا چھٹا سب سے کم ترین ٹیسٹ اسکور ہے۔ اس سے قبل 2010ء میں ایجبسٹن کے مقام پر 72 رنز پر آل آؤٹ ہونا انگلینڈ میں پاکستان کا اب تک کا سب سے کم ترین ٹیسٹ اسکور ہے، جبکہ لارڈز میں 74، ٹرینٹ برج پر 80، اولڈ ٹریفورڈ میں 119 اور ہیڈنگلے میں 134 رنز شامل ہیں۔

یہ تاریخی بیٹنگ ناکامی پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اننگز کے اعتبار سے چھٹی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے قبل 2010ء کے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز اور 225 رنز کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں 1954ء میں ٹرینٹ برج پر اننگز اور 129 رنز، 2006ء میں اولڈ ٹریفورڈ میں اننگز اور 120 رنز، 1978ء میں لارڈز کے مقام پر اننگز اور 120 رنز اور 1962ء میں ہیڈنگلے میں اننگز اور 117 رنز سے شکستیں پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اننگز کی بڑی ناکامیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ اس میچ کی ہار نے ایک بار پھر بیرونِ ملک ٹیسٹ میچز میں پاکستانی بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں اور فاسٹ باؤلنگ کے خلاف سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ورلڈ کپ ہاکی 2026ء: بھارت کے خلاف ’ڈو یا ڈائی‘ مقابلے سے قبل پاکستان ہاکی ٹیم کا پریکٹس سیشن منسوخ

محمود احمد, August 19,2026

ایمسٹرڈیم (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں جاری ایف آئی ایچ مردوں کے ہاکی ورلڈ کپ 2026ء کے اہم ترین میچ سے قبل پاکستان ہاکی ٹیم نے اپنا پریکٹس سیشن منسوخ کر دیا ہے۔ ایمسٹلوین کے تاریخی ویگنور اسٹیڈیم میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کا آمنا سامنا پاکستانی وقت کے مطابق شام 6:00 بجے ہوگا۔

گروپ “ڈی” کی موجودہ صورتحال کے مطابق انگلینڈ کی ٹیم دو کامیابیوں کے ساتھ پہلے ہی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے۔ گروپ سے دوسری ٹیم کے اگلے مرحلے میں جانے کا انحصار اب پاک بھارت میچ کے نتیجے پر ہوگا۔ پاکستان کو اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ ویلز کے خلاف مقابلہ 3-3 سے برابر رہا تھا۔ دوسری جانب بھارت نے ویلز کو 1-3 سے ہرایا تھا اور انگلینڈ کے خلاف اسے 2-4 سے ناکامی ہوئی تھی۔ پوائنٹس ٹیبل کی اس صورتحال میں بھارت کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے صرف میچ ڈرا کرنا ہوگا جبکہ پاکستان کے لیے اگلے مرحلے کی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے یہ میچ ہر صورت جیتنا لازمی ہے۔

ایمسٹرڈیم میں منگل کے روز پاکستان ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کے پریکٹس سیشن کو منسوخ کر کے انہیں ہوٹل میں ہی مکمل آرام فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیم مینجمنٹ کے مطابق اس ہائی وولٹیج اور اعصاب شکن مقابلے سے قبل کھلاڑیوں پر سے دباؤ ختم کرنا اور انہیں پرسکون ماحول فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ قومی کھلاڑی تروتازہ ذہن کے ساتھ میدان میں اتر کر بہترین حکمتِ عملی کے تحت کھیل کا مظاہرہ کر سکیں۔

ایرانی ویمن فٹبالرز فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ کو آسٹریلیا کی شہریت مل گئی

محمود احمد, August 07,2026

تہران / برسبین (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی دو اہم کھلاڑیوں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ نے باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے رواں برس کے آغاز میں ایرانی حکومت پر شدید تنقید کی تھی جس کے بعد سے وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار تھیں۔

22 سالہ فاطمہ پسندیدہ اور 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ نے ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِ امیگریشن ٹونی برک کے ہاتھوں شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر ان کے دوست احباب اور برسبین میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے بھی شرکت کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

شہریت کا حلف اٹھانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عاطفہ رمضانی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش لمحات میں سے ایک ہے، آسٹریلیا نے انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے، تاہم ان کی ایرانی شناخت ہمیشہ ان کے وجود کا حصہ رہے گی۔ اسی طرح فاطمہ پسندیدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی مشکلات اور تشویش کے بعد یہ دن ان کے لیے بے حد خوش آئند ہے اور وہ خود کو بے حد خوش نصیب محسوس کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ان سات ایرانی فٹبالرز کے گروپ میں شامل تھیں جنہیں رواں برس مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، دیگر پانچ خواتین کھلاڑیوں نے بعد ازاں اپنا ارادہ تبدیل کر کے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان دونوں کھلاڑیوں کو شہریت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آسٹریلوی حکومت اپنے ویزا قوانین سخت کرنے اور امیگریشن کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم یہ دونوں ایرانی فٹبالرز اس وقت اے لیگ ویمنز کلب ‘برسبین روار’ کے ساتھ اپنی تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ آسٹریلیا میں ہی اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں۔