نئے ججز کی تعیناتی کی سمری روکے جانے کا تنازع: اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری

Spread the love

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی تعیناتی اور کنفرمیشن کی سمری کی منظوری نہ ہونے پر پیدا ہونے والا آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سنگین معاملے پر صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک حتمی جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار لقمان ظفر کی آئینی درخواست پر سماعت کی۔ کیس کی پیروی زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت کی عدم توجہی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ “وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ کیا آپ کی اس اہم معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی غرض ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ ہمیں امید تھی کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سمری اس وقت کس مرحلے پر رکی ہوئی ہے؟”

فاضل جج نے مزید نشاندہی کی کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ بھی روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سمری اپنے پاس رکھ کر تو نہیں بیٹھا جا سکتا، پہلے 15 دن کی آئینی مدت کا کہا جا رہا تھا لیکن اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ آئین میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار بالکل واضح ہے۔ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد صدرِ مملکت اس طرح سمری کو روکے نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو بتایا کہ قانونی و آئینی نقطہ نظر سے اب صدر اس سمری کو مسترد بھی نہیں کر سکتے۔

عدالت نے تمام فریقین اور وفاقی حکومت کو کل تک تفصیلی اور حتمی جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔