اقوامِ متحدہ: پاکستان کا نوجوانوں پر امن اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور

Spread the love

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اپنا متحرک اور قائدانہ کردار ادا کریں۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “فیوچر وی وانٹ: گلوبل انیشی ایٹو فار ینگ لیڈرز” کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو “نوجوانوں کو کثیرالجہتی نظام کے استحکام کے لیے بااختیار بنانا” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ نوجوان زیادہ پُرامن، منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں سب سے اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو یکجا کرنے پر اٹلی کے مستقل مشن اور اطالوی ڈپلومیٹک اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا۔

مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا، اور امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی آج بھی اقوامِ متحدہ کے نظام کے تین بنیادی اور باہم مربوط ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن صرف جنگ یا تنازع کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری پر استوار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا ان باہم مربوط عالمی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، جس میں مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران تحمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مضبوط موقف اور ان سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صرف کانفرنس ہالوں یا مذاکراتی کمروں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد تعلیمی اداروں، جامعات، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں، تنوع کو اپنائیں، عدم برداشت اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کریں، اور مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔