پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور؛ اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے خطاب

محمود احمد, JULY 28,2026

نیویارک/اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں جاری تصادم اور فوجی شدت میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے نہ صرف سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امداد فراہم کرنے والے والے اداروں پر ہونے والے اٹیکس کی شدید مذمت کی اور تمام متنازع فریقوں سے مطالبات کیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے اور پائیدار امن کی واحد راہ صرف اور صرف سنجیدہ، مسلسل اور باہمی سفارتی مذاکرات سے ہی نکل سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کو 17 ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2774 پر روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کروایا جائے اور خطے میں فوری و بلا مشروط جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ سفارت کاری، گفتگو اور سیاسی حل کے لیے سازگار اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس عزم کو دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور، تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے ایک منصفانہ، جامع اور جامع پرامن تصفیے کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے گا۔

سلامتی کونسل: تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 پر عمل درآمد کے لیے مؤثر میکانزم کی ضرورت ہے؛ سفیر عاصم افتخار احمد

محمود احمد, JULY 23,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لیے تنازعات کا پرامن حل اور بروقت سفارت کاری ہی واحد اور مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرارداد 2788 کے جذبے کے تحت اقوامِ متحدہ کے منشور پر اس کے حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جامع سفارشات اور قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشور کا آرٹیکل 33 اور 34 تنازعات کے حل کے لیے مکمل راستہ فراہم کرتے ہیں، تاہم اصل کمی ان طریقوں کے بروقت، غیر جانبدارانہ اور مستقل استعمال کے فقدان میں ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق پرامن حل میں مضمر ہے۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کاوشوں سے فریقین کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ طے پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کو مزید مضبوط عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں عمل درآمد کے لیے 8 اہم عملی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں کشیدگی کے ابتدائی آثار پر فوراً متحرک ہونا، قراردادوں پر عمل درآمد کا باقاعدہ فالو اَپ نظام قائم کرنا، آرٹیکل 34 کے تحت غیر جانبدارانہ حقائق کی جانچ، باب ششم کے لیے عملی گائیڈ کی تیاری، سیکریٹری جنرل کے گُڈ آفسز کی مالی و سیاسی حمایت، عالمی عدالتِ انصاف کا استعمال، علاقائی تنظیموں سے تعاون اور سلامتی کونسل کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں بھارت کی سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی غیر قانونی کوشش مسترد؛ پاکستان کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف شدید انتباہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوام متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

جمہوریہ کانگو کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مباحثے “قدرتی وسائل کی حکمرانی: امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد” میں پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن اور 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ ہے، بالخصوص جب یہ اقدامات جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں کیے جا رہے ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت ) کے فیصلے کی روشنی میں سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں فریقین پر نافذ العمل ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کے احترام، تحفظ اور مشترکہ وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھے اور پیشگی سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے اختیارات بروئے کار لائے۔

پاکستان کے مندوب نے افریقی ممالک اور بالخصوص جمہوریہ کانگو میں قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کا فراہم کنندہ بنانے کے بجائے مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور منصفانہ آمدنی میں برابر کا حصہ دار بنایا جانا چاہیے۔

قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کی سخت مخالفت؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, JULY 22,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قومی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قدرتی وسائل کو تنازعات، جبر اور استحصال کے بجائے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا وسیلہ بننا چاہیے۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کی جانب عالمی منتقلی کے باعث اہم معدنیات پر مقابلہ ایک نئی جیو پولیٹیکل حقیقت بن چکا ہے۔ کمزور طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور بیرونی مداخلت دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی اور انسانی بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے جمہوریہ کانگو اور افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کے فراہم کنندہ کے بجائے ویلیو ایڈیشن اور منصفانہ آمدنی کا برابر کا شریک بنایا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ) کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کے لیے مستقیم خطرہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کر دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں ممالک پر نافذ العمل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے استحصال اور انہیں ہتھیار بنانے کے اقدامات پر کڑی نظر رکھے اور پرامن حل کے لیے پیشگی سفارت کاری کا مؤثر استعمال کرے۔

پاکستان کا شام میں شامی قیادت میں عبوری انصاف اور قومی مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان نے شام میں عبوری انصاف کے لیے شامی قیادت اور شامی ملکیت پر مبنی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ملکیت، مفاہمت اور جامع ادارے ہی شام میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی اصل بنیاد ہیں۔

شام میں عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشنوں کے قیام اور عبوری انصاف سے متعلق مجوزہ قانون کی تیاری جیسے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی قومی اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، شامی قیادت میں جاری کوششوں کا مددگار ہونا چاہیے، جبکہ شام کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری انصاف قومی مفاہمت کے فروغ، باہمی اعتماد کی بحالی، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت اور عوام کی دیرپا امن، استحکام، قومی مفاہمت اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔