ملک بھر میں شدید بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں طغیانی؛ بھارت نے غیر قانونی ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے

Spread the love

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان بھر میں جاری حالیہ شدید بارشوں، شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے اور بھارت کی جانب سے روایتی آبی جارحیت کے تحت ڈیموں کے اسپل ویز کھولے جانے کے باعث ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی ہے. متعلقہ تزویراتی اداروں اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے صورتحال کی مسلسل کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ اس وقت 4 لاکھ 54 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے.

ملکی سیلابی صورتحال کے تادیبی حقائق کے مطابق، مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے ہیں، جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور اس وقت وہاں ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے. دوسری جانب، دریائے سندھ میں بھی پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 32 ہزار کیوسک، کالا باغ پر 2 لاکھ 43 ہزار کیوسک، چشمہ بیراج پر 2… لاکھ 47 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج پر 2 لاکھ 10… لاکھ کیوسک، گڈو بیراج پر 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج کے مقام پر 1 لاکھ 10… لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے. اس کے علاوہ دریائے جہلم میں بھی پانی کی آمد میں تیزی آئی ہے اور منگلا ڈیم پر پانی کا بہاؤ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ملکی ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 61 لاکھ ایکڑ فٹ تک جا پہنچا ہے.

ادھر اسکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر شمالی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے. اسکردو میں غیر معمولی گرمی کی وجہ سے درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں. اس ہنگامی صورتحال اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کو باقاعدہ کھول دیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے تزویراتی فیصلہ کیا ہے کہ شمالی علاقوں سے آنے والے تمام بڑے سیلابی ریلوں کو محفوظ اور تادیبی انداز میں تربیلا ڈیم میں ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ ڈاؤن اسٹریم کے میدانی علاقوں کو ممکنہ تباہی اور سیلابی نقصانات سے ہر صورت محفوظ رکھا جا سکے.