پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مستحکم؛ دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں کمی، پی ڈی ایم اے کا انتباہ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 26,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کا بہاؤ مستحکم رہا ہے جبکہ دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رکنے کے باعث طغیانی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں پانی کا بہاؤ بالترتیب 3 لاکھ 34 ہزار، 3 لاکھ 70 ہزار اور 3 لاکھ 13 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں پر سیلابی صورتحال نچلے درجے پر آ گئی ہے، جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ندی نالوں میں نارووال کے نالہ بسنتر میں درمیانے درجے جبکہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں 5 ہزار کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب رپورٹ ہوا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے پاٹ اور نشیبی علاقوں میں موجود شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے فلڈ ریلیف کیمپس اور تمام بنیادی سہولیات و ادویات کی فرہمی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

مون سون بارشوں سے ملک بھر میں سیلاب کا خطرہ شدید، این ڈی ایم اے کا فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کا بڑا الرٹ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مسلسل مون سون بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب اور طغیانی کے شدید خطرات کا انتباہ جاری کیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سنٹر کے مطابق دریائے چناب کے مختلف مقامات بشمول خانکی، قادر آباد اور چنیوٹ پل پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مرالہ، خانکی اور ترمو بیراج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی نالوں، خیبر پختونخوا کے موسمی ندی نالوں اور شمالی بلوچستان میں شدید فلیش فلڈنگ (اچانک سیلاب) کا خطرہ ہے، جبکہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، حافظ آباد، ملتان اور لاہور میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے مسافروں اور شہریوں کو سیلابی علاقوں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، ندی نالوں کو عبور نہ کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ والے حصوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ تمام ضلعی انتظامیہ اور ایمرجنسی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔

شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہوائوں کے باعث ملک بھر میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری؛ این ڈی ایم اے نے انتباہ جاری کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 22 سے 24 جولائی کے دوران ملک میں شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہوائوں کے سلسلے کے پیشِ نظر مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تیز اور موسلادھار بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی، آبشاروں کے تیز بہاؤ اور شہری علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

ہائیڈرولوجیکل پیشن گوئی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کم درجے کی سیلابی صورتحال جبکہ سوات، کابل، پنجکوڑہ اور چترال کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔

این ڈی ایم اے نے راولپنڈی، جہلم، فیصل آباد، پشاور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو اربن فلڈنگ کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تمام متعلقہ صوبائی و ضلعی اداروں کو ایمرجنسی ٹیمیں الرٹ رکھنے، شاہراہوں کی بحالی کے لیے مشینری تیار رکھنے اور پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

شہریوں کو حساس و پہاڑی علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کرنے اور بروقت آگاہی کے لیے ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ موبائل ایپ سے رہنمائی حاصل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ملک بھر میں شدید بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں طغیانی؛ بھارت نے غیر قانونی ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان بھر میں جاری حالیہ شدید بارشوں، شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے اور بھارت کی جانب سے روایتی آبی جارحیت کے تحت ڈیموں کے اسپل ویز کھولے جانے کے باعث ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی ہے. متعلقہ تزویراتی اداروں اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے صورتحال کی مسلسل کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ اس وقت 4 لاکھ 54 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے.

ملکی سیلابی صورتحال کے تادیبی حقائق کے مطابق، مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے ہیں، جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور اس وقت وہاں ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے. دوسری جانب، دریائے سندھ میں بھی پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 32 ہزار کیوسک، کالا باغ پر 2 لاکھ 43 ہزار کیوسک، چشمہ بیراج پر 2… لاکھ 47 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج پر 2 لاکھ 10… لاکھ کیوسک، گڈو بیراج پر 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج کے مقام پر 1 لاکھ 10… لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے. اس کے علاوہ دریائے جہلم میں بھی پانی کی آمد میں تیزی آئی ہے اور منگلا ڈیم پر پانی کا بہاؤ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ملکی ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 61 لاکھ ایکڑ فٹ تک جا پہنچا ہے.

ادھر اسکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر شمالی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے. اسکردو میں غیر معمولی گرمی کی وجہ سے درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں. اس ہنگامی صورتحال اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کو باقاعدہ کھول دیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے تزویراتی فیصلہ کیا ہے کہ شمالی علاقوں سے آنے والے تمام بڑے سیلابی ریلوں کو محفوظ اور تادیبی انداز میں تربیلا ڈیم میں ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ ڈاؤن اسٹریم کے میدانی علاقوں کو ممکنہ تباہی اور سیلابی نقصانات سے ہر صورت محفوظ رکھا جا سکے.