پاکستان پارلیمانی سفارتکاری اور تجارتی روابط کے ذریعے کینیڈا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے؛ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 21,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پارلیمانی سفارتکاری، دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط کو وسعت دے کر کینیڈا کے ساتھ اپنی 8 دہائیوں پر محیط دیرینہ اور استوار دوستی کو ایک نئے اقتصادی و سیاسی باب میں داخل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ پرُتپاک استقبالیہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب اور بعد ازاں کینیڈین وفد سے تفصیلی ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کے تاریخی و دوستانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے انیتا آنند کی عوامی خدمت، قانون دان کے طور پر خدمات اور سیاسی قیادت کی تعریف کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تجارتی پیش رفت، بالخصوص 12 جنوری 2026ء کو کراچی بندرگاہ پر کینیڈین کینولا کی پہلی کھیپ کی آمد اور دوطرفہ اقتصادی مذاکرات کے مثبت نتائج کو سراہا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے زور دے کر کہا کہ دوطرفہ تجارت اور غذائی سلامتی کے شعبے میں کینیڈا پاکستان کا انتہائی قابلِ اعتماد اور تزویراتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کینیڈا کو بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں فعال شرکت کی باضابطہ دعوت دی اور پاکستان کے اندر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے فریم ورک کے تحت کان کنی، نایاب معدنیات، صاف ٹیکنالوجی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکسٹائل میں کینیڈین سرمایہ کاری کی پرزور حوصلہ افزائی کی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ کے معاہدے پر جاری پیش رفت کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کینیڈا میں مقیم متحرک اور فعال پاکستانی کمیونٹی کی معاشی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے تعلیمی وظائف، اعلیٰ تعلیم اور صحت عامہ خصوصاً پولیو کے خاتمے اور زچہ و بچہ کی صحت کے منصوبوں میں کینیڈین تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے نوبیل امن انعام یافتہ کینیڈین رہنما لیسٹر بی پیئرسن کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف اقوام کے درمیان بہتر باہمی فہم و ادراک اور مشترکہ اعتماد سے ہی ممکن ہے۔

ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس بین الاقوامی تنازع کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آرزوؤں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بھی دیرپا امن کے لیے سفارتی ذرائع اور مکالمے کو واحد حل قرار دیا۔