خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کا بڑا فیصلہ: خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی (ڈی این اے) معائنہ لازمی قرار

Spread the love

محمود احمد, JULY 21,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن نے ڈبلیو ٹی اے ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والی تمام خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی معائنے (ڈی این اے ٹیسٹنگ) کو باقاعدہ طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔

‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق، 21 جولائی 2026ء سے فوری طور پر نافذ العمل ہونے والی اس نئی پالیسی کے تحت تمام خاتون کھلاڑیوں کے چیک سواب، خون یا لعاب (سلیوا) کے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔ اس ٹیسٹ کا بنیادی مقصد وائی کروموسوم پر موجود ‘ایس آر وائی’ جینیاتی مادے کی موجودگی کا پتہ لگانا ہے، جو جسمانی طور پر مردانہ خصوصیات اور نشوونما کا باعث بنتا ہے۔

ڈبلیو ٹی اے کی واضح کردہ ہدایات کے مطابق، کھلاڑیوں کا یہ جینیاتی ٹیسٹ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں صرف ایک بار (لائف ٹائم) کیا جائے گا۔ ٹیسٹ کا رپورٹڈ نتیجہ منفی آنے کی صورت میں ہی کھلاڑیوں کو ایونٹس میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مثبت نتیجہ سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ کھلاڑی کا تفصیلی طبی جائزہ لیا جائے گا۔ اس پالیسی کا احترام یقینی بنانے کے لیے تمام کھلاڑیوں سے ایک رسمی عہد نامے پر دستخط بھی کروائے جائیں گے اور ٹیسٹ کروانے سے انکار کی صورت میں سخت ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ سال 2024ء میں ڈبلیو ٹی اے کی سابقہ پالیسی کے تحت خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) خواتین کو اس شرط پر کھیلنے کی اجازت تھی کہ وہ اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو مسلسل دو سال تک مقررہ حد سے کم رکھیں۔ تاہم، ڈبلیو ٹی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس نئی جینیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ ٹینس میں تمام خاتون کھلاڑیوں کو مساوی مواقع، شفافیت اور منصفانہ کھیل کا یکساں ماحول فراہم کرنا ہے۔