

منصور احمد,September 14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء
پاکستان میں زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں، غیر متوقع موسمی شدت اور قدرتی آفات کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے اور کسانوں کو آسان اور تیز رفتار مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک (HBL MfB) نے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ (SUPARCO) کے تعاون سے پنجاب بھر میں “کلائمیٹ اسمارٹ ایگری فنانسنگ” پروگرام کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
اس فلیگ شپ اور جدید تکنیکی اقدام کا بنیادی مقصد سپارکو کی سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ امیجری اور ایڈوانس مشین لرننگ ماڈلز کو بینک کے وسیع زرعی فنانسنگ نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت روایتی اور وقت طلب زمینی معائنے پر منحصر رہنے کے بجائے خلا سے حاصل ہونے والے حقیقی ڈیٹا کے ذریعے زمین کی نوعیت، فصلوں کی صحت، سبزے کی مقدار، زمین میں نمی کے تناسب اور پیداوری صلاحیت کا انتہائی درست اندازہ لگایا جائے گا۔
اوکاڑہ پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد پنجاب بھر میں توسیع:
اس شراکت داری کے ابتدائی تجرباتی مرحلے میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کو پائلٹ منصوبے کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے کھیت کی سطح پر کسانوں کی کریڈٹ ورتھ نیس (قرض کی اہلیت) کے جائزے، فصل کی متوقع پیداوار کے تخمینے اور رسک کی درجہ بندی کا کامیابی سے تجارتی جائزہ لیا گیا۔ پائلٹ منصوبے میں نہ صرف قرض کی منظوری سے قبل کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل کیا گیا بلکہ قرض دینے کے بعد بھی پورے سیزن میں سیٹلائٹ کے ذریعے فصل کی نشوونما کی مسلسل نگرانی کا نظام آزمایا گیا۔ ان مثبت نتائج کے بعد اب اس تکنیکی ماڈل کو پورے صوبہ پنجاب میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
موسمیاتی خطرات کی نشاندہی اور رسک مینجمنٹ:
پاکستان کے زرعی شعبے کو سیلاب، خشکی، خشک سالی، ژالہ باری اور بے وقت بارانی سلسلے سے شدید نقصان پہنچتا ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک کی مجموعی غذائی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ سپارکو کے ممبر اسپیس ایپلی کیشن اینڈ ریسرچ ونگ ظفر اقبال کے مطابق ادارہ اپنے ڈیپ لرننگ اور الگورتھم ماڈلز کی مدد سے کسی بھی خطے میں پیدا ہونے والے موسمیاتی خطروں کی پیشگی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو ہر انفرادی کھیت کی سطح پر خطرے کے تناسب کا جائزہ لینے اور غیر معمولی صورتحال پیدا ہونے پر فوری اور بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔
ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کی قیادت کا مؤقف:
ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطِ اول پر کھڑے ہیں۔ روایتی طریقوں کے تحت کسانوں کے حقیقی حالات کو سمجھنے اور بینکنگ کارروائی کو مکمل کرنے میں وقت درکار ہوتا تھا۔ سپارکو کی سیٹلائٹ انٹیلی جنس کو زرعی کریڈٹ سسٹم میں شامل کرنے سے بینکنگ کے فیصلے ڈیٹا اور حقیقت پر مبنی ہوں گے، جس سے چھوٹی ہولڈنگ والے کسانوں کو بلا تاخیر اور شفاف طریقے سے قرض میسر آ سکے گا۔
عام کسانوں تک معلومات کی رسائی کا نیا منصوبہ:
اس تعاون کے ساتھ ساتھ سپارکو کے ‘اسپیس فار کلائمیٹ’ (Space for Climate) اقدام کا مقصد سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے زرعی اور موسمیاتی ڈیٹا کو عام کسانوں اور عوام تک بھی پہنچانا ہے تاکہ کسان بوائی، آبپاشی اور کھاد کے استعمال سے متعلق باخبر فیصلے کر سکیں۔ دونوں اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی، جدید ڈیٹا اور مالیاتی مصنوعات کا یہ امتزاج پاکستان کی زراعت کے لیے ایک پائیدار اور مضبوط بنیاد فراہم کرے گا جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ تفصیلی رپورٹ سپارکو (SUPARCO) اور ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے مشترکہ جاری کردہ پریس ریلیز اور باضابطہ بیانات کے مکمل تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے کسانوں کے کریڈٹ اسکور اور رسک اسیسمنٹ کا نظام دونوں اداروں کے مشترکہ ایڈیٹوریل فریم ورک کے مطابق ہے۔
ماخذ: سپارکو پریس سیل، ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کارپوریٹ کمیونیکیشنز ڈیسک، قومی خبر رساں ادارہ (APP)۔