کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: انتظامی تاخیر ملازمین کا قانونی حق ختم نہیں کر سکتی

Spread the love

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کسی قانون میں “تصور کیے جانے کی شق موجود ہو، تو مقررہ شرائط پوری کرنے والے تمام کنٹریکٹ ملازمین قانون کے عمل سے خود بخود مستقل ملازم کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متعلقہ سرکاری یا خود مختار محکمہ مستقلی کے عمل میں انتظامی تاخیر کر کے ملازمین کا قانونی حق متاثر نہیں کر سکتا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی آف اوپتھلمولوجی (پیکو) پشاور کے ڈین کی جانب سے دائر کردہ سول پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو مکمل طور پر برقرار رکھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سال 2006ء کی ترمیمی قانون سازی کا مقصد اصلاحی اور فائدہ مند تھا، اور فائدہ مند قانون کی تشریح بھی اس انداز میں ہونی چاہیے جس سے ملازمین کو سہولت ملے، نہ کہ محدود تشریح سے ان کا حق ختم کر دیا جائے۔

عدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 3 اور 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین قانون کی حکمرانی، ہر قسم کے استحصال کے خاتمے اور آجر و ملازم کے حقوق میں منصفانہ توازن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت نے قرار دیا کہ سال 2001ء سے مسلسل فرائض انجام دینے والے ملازمین کو 2006ء کی ترمیم کے تحت قانون کی رو سے مستقل تصور کیا جا چکا تھا، اور محکمے کی جانب سے مستقلی کا عمل مصنوعی طور پر مؤخر کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔