لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت کا بڑا فیصلہ: 6 سالہ بچی کے ساتھ جنسی استحصال کی کوشش پر ملزم اصغر کو 14 سال قید کی سزا

منصور احمد,September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت نے چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی استحصال اور ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے مالی جرمانے کا باضابطہ حکم سنا دیا ہے۔

یہ اہم اور عبرتناک فیصلہ خصوصی اینٹی ریپ عدالت کے فاضل ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس کا مکمل ٹرائل اور دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا۔

اس افسوسناک واقعے کا باضابطہ مقدمہ 24 مارچ 2025ء کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ چھ سالہ بچی کے والد کی مدعیت میں نامزد ملزم اصغر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں متاثرہ بچی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ 23 مارچ 2025ء کی شام جب وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کی چھ سالہ بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک محلے دار اصغر اسے بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم معصوم بچی کے بروقت شور مچانے پر ملزم گھبرا کر بچی کو اپنے گھر میں ہی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔

لاہور پولیس نے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 377 بی شامل کی تھی، جو کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ہر قسم کے جنسی استحصال اور زبردستی پر عائد کی جاتی ہے۔ یہ قانونی طور پر ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس میں قانون کے تحت کم از کم سزا 14 برس اور زیادہ سے زیادہ 20 سال قید مقرر ہے۔

کیس کی نوعیت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے اس مقدمے کا مکمل چالان خصوصی اینٹی ریپ عدالت میں بھیجا، جہاں فاضل عدالت نے ملزم پر 7 جولائی 2025ء کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی تھی۔ ٹرائل کے آغاز پر ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے باقاعدہ شہادتوں اور گوابان کی طلب کا سلسلہ شروع کیا۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے سینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بتایا کہ اس حساس کیس میں استغاثہ کی جانب سے کل 8 گواہان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے اور سائنسی و طبی ثبوت کے طور پر میڈیکل رپورٹ بھی باقاعدہ مثلِ مقدمہ کا حصہ بنائی گئی۔

دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے تمام گواہان کے بیانات، فورنسک و میڈیکل رپورٹس، دیگر ٹھوس شواہد اور پراسیکیوشن کی جانب سے دیے گئے حتمی دلائل کی روشنی میں ملزم اصغر کو بلا شبہ قصوروار قرار دیا اور اسے 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی: مزار قائد پر گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی حاضری

منصور احمد,September 11,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے پروقار اور عقیدت مندانہ موقع پر گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اراکین کے ساتھ مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک و قوم کی سلامتی و ترقی کے لیے باوقار فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ نمائندگان نے بھی مزار قائد پر حاضر ہو کر پھولوں کے گلدستے رکھے اور قومی قائد کو سلامی پیش کی۔

مزار قائد کے احاطے میں صحافیوں و میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بانیِ پاکستان قائد اعظم کے رہنما اصولوں اور افکار کی روشنی میں متحد و متفق رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنا آرام، وقت اور تمام ذاتی مفادات قربان کر دیے تھے، اس لیے اب ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ملک کے اہم فیصلوں کو باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور اتفاقِ رائے سے آگے بڑھائیں۔

پراُمن احتجاج سے متعلق ایک سوال پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری اور بنیادی حق ہے، تاہم احتجاجی سیاست کے دوران عام شہریوں، ہسپتال جانے والے مریضوں اور سکول و کالج جانے والے طلبہ و طالبات کو درپیش مشکلات کو ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے۔ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کلی طور پر آزاد عدلیہ کے اختیارات میں آتا ہے، اگر عدالت عالیہ یا عظمٰی انہیں بے گناہ قرار دیتی ہے تو انہیں باقاعدہ قانونی ریلیف مل جائے گا، جبکہ حکومتِ وقت عدالتی کارروائی اور فیصلوں میں قطعی مداخلت نہیں کر سکتی۔ نہال ہاشمی نے مزید کہا کہ وہ سندھ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام اور صوبائی حدود کے بارے میں واضح کیا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی آئینی راستے کے بغیر ناممکن ہے۔ آئینِ پاکستان میں درج طریقہ کار کے مطابق اس کے لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ باقاعدہ قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری اور آزاد معاشرے میں ہر شہری کو سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بات کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی اور قانونی قدم اٹھانے کے لیے آئینی طریقہ کار پر پورا اترنا پڑے گا۔

مراد علی شاہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان جون کے مہینے میں این ایف سی ایوارڈ پر پہلے ہی کامل اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ آئین کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر اس ملک کو تمام صوبوں کے مشترکہ تعاون سے مضبوط اور خوشحال بنانا ہے۔

گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ دونوں رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر کے خلاف پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے حال ہی میں کیے گئے کامیاب آپریشنز پر فورسز کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے ناسو سے مکمل پاکیزگی اور خاتمے تک اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ان سے بالمشافہ ملاقات کر کے گورنر سندھ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے میں فی الحال کسی نئے ملک کو شامل کرنے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر

منصور احمد,September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ کے باضابطہ ترجمان سجاد حیدر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کے تحت باقاعدگی سے باہمی مشاورت اور رابطے میں ہیں، تاہم فی الوقت اس عسکری و دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مختلف اعلیٰ انتظامی و عسکری سطحوں پر باقاعدگی سے ملاقاتیں اور تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں اور تینوں برادر ممالک مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے دفاعی اتحاد کے مستقبل اور ترجیحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تینوں ممالک کی بنیادی ترجیح مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے موجودہ تعاونی فریم ورک اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال، منظم اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اس اہم دفاعی اتحاد میں شمولیت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے جو اس معاہدے کے بنیادی اصولوں، سیکورٹی نقطہ نظر اور علاقائی ضرورتوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوں۔

سجاد حیدر کے مطابق دفاعی اتحاد میں نئے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق تمام تر اہم فیصلے مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی مشاورت اور متفقہ رائے سے ہی کیے جائیں گے۔

ترجمان نے جاری گفتگو کے دوران افواہوں کا خاتمہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ گفتگو یا بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس جاری ابتدائی مرحلے پر مکہ دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کی شمولیت کا سوال بالکل قبل از وقت اور غیر متعلقہ ہے۔

واضح رہے کہ سہ فریقی تاریخی مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین رواں برس 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا بنيادی مقصد ان تینوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سیکیورٹی، عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو ایک نئے جدید اور ناقابلِ تسخیر موڑ پر لانا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفیز پر تاحکمِ ثانی مکمل پابندی عائد: انتظامیہ کا بلاامتیاز سیلنگ اور مقدمات درج کرنے کا انتباہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل اور سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، جس کا بلاامتیاز اطلاق سابقہ این او سی رکھنے والے کیفیز اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر یکساں طور پر ہوگا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس پابندی پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفیز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر گرینڈ آپریشنز اور کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ اس مکمل قدغن کا اطلاق ان ڈور اور آؤٹ ڈور، دونوں طرح کی سائٹس پر قائم شیشہ کیفیز پر ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح اور سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سرکاری پابندی کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفے کو موقع پر فوری سیل کر دیا جائے گا، جبکہ کیفے کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقائی دائرہ کار میں باقاعدگی سے ہنگامی انسپکشن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انتظامیہ کا یہ حتمی اور سخت فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفے کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق دائر کی گئی اہم درخواستوں کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی اعلیٰ سطحی سماعت کی، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل ذاتی طور پر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے عدالت کو باضابطہ آگاہ کیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں شیشہ کیفیز کے خلاف گرینڈ ایکشن لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو کیفے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اہم ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں شیشہ کیفے کے حوالے سے فی الوقت کوئی قانونی یا باقاعدہ قواعد و ضوابط (رولز) موجود نہیں ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ باقاعدہ رولز اور قانونی فریم ورک وضع کیے بغیر شیشہ کیفے کے اس کاروبار کو اس طرح بے لگام جاری رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسلام آباد کی مقامی ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کی قانونی تنظیم سازی اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ حکم کے تحت فی الحال شہر کا کوئی بھی شیشہ کیفے، خواہ وہ کسی قسم کا این او سی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یا ان ڈور و آؤٹ ڈور لوکیشن پر قائم ہو، صارفین کو شیشہ فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ یہ سخت پابندی قانون سازی اور نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل تک تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔

سمندر میں گشت کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پاک بحریہ کے 2 اہلکار ہلاک

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر نیوی) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سمندری حدود میں معمول کے گشت اور سکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے کے دوران پاک بحریہ کے دو جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاک بحریہ کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سمندر میں پیٹرولنگ اور وطنِ عزیز کی آبی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمان اور غفران نثار کے ناموں سے ہوئی ہے۔

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدھ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک مختصر بیان میں دونوں جوانوں کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کیا، تاہم اس المناک واقعے کے پیچھے پیش آنے والے حالات اور حتمی وجوہات کے حوالے سے فی الوقت مزید تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی باضابطہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاک بحریہ کے انتہائی سینئر بحری افسران اور جوانوں نے دونوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ہلاک ہونے والے اہلکار شعیب الرحمان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے تلہ گنگ میں ادا کی گئی جبکہ غفران نثار کی نمازِ جنازہ ضلع بھمبر میں ادا کی گئی۔

نمازِ جنازہ کے ان روح پرور اجتماعات میں پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران، جوانوں، شہداء کے لواحقین اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں دونوں جوانوں کے جسدِ خاکی کو مکمل فوجی اعزاز، سلامی اور عقیدت کے ساتھ ان کے آبائی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تھیٹر ہال کا شاندار افتتاح

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی اکیڈمک کمپلیکس میں علم و ادب، ثقافتی اقدار اور تخلیقی سرگرمیوں کے ہمہ گیر فروغ کے لیے تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک وسیع تھیٹر ہال کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

افتتاح کیا جانے والا یہ جدید تھیٹر ہال یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آزادانہ اظہارِ خیال، پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں، فنونِ لطیفہ اور متنوع ثقافتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بلاشبہ موثر اور جدید ترین قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس پروقار افتتاحی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، یونیورسٹی کے سرکردہ اساتذہ، اور شعبہ جات کے پرنسپل افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس نو تعمیر شدہ تھیٹر ہال میں پہلی علمی و ادبی تقریب کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس اور ممتاز ترین ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی شہرہ آفاق کتاب “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس کی صدارت کا اعزاز چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سنبھالا۔

تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کے اندر معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے باصلاحیت، جدید تربیت یافتہ اور بلند کردار استاد کا ہونا بنیادی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ استاد صرف کتابی معلومات کا امین یا ناقل نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے طلبہ، ان کے والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک عملی نمونہ اور حقیقی رول ماڈل ہونا چاہیے۔ دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے عالمی اور تعلیمی تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اساتذہ کی علمی، تدریسی اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر بلا تعطل مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” ایک بلاشبہ معرکہ الآرا کتاب ہے جو اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، ان کے معاشرتی کردار اور پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی پہلوؤں کو باریک بینی سے سمجھنے میں مشعلِ راہ ثابت ہوگی، جس کا تمام اساتذہ کو لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا ملکی تعلیم و تدریس کے میدان میں ایک نہایت معتبر، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریر کردہ کتاب ان کی سالہا سال کی فکری کاوش، عمیق تجربے اور سائنسی بصیرت کا بہترین مظہر ہے جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔

افتتاحی تقریب سے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین، پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم، سابق وائس چانسلر و پروفیسر ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے اس کتاب کو ملک میں اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ایک انتہائی جامع اور بروقت تحقیقی کاوش قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

تارکینِ وطن ملک کا قیمتی اثاثہ، سفری دستاویزات کی فوری تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل قائم کرنے کی ہدایت: سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔

وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے: وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی تحریری فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔

بلوچستان میں خواتین اور کمسن بچیوں پر تشدد، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات پر شدید تشویش: حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف مبینہ تشدد، بدترین قتل، تیزاب گردی، اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ہونے والے خطرناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں دونوں معتبر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے کچلاک میں 15 سالہ کمسن لڑکی کے مبینہ قتل، مستونگ کے علاقے کلی ببری میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے اور شدید تشدد، تربت کے علاقے سے ایک خاتون کی لاوارث لاش ملنے، اور ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ معصوم بچی کے مبینہ جنسی استحصال، بے دردی سے قتل اور لاش چھپانے کے دلخراش واقعات کو معاشرے اور ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے سفاکانہ مظالم کا بڑھنا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے صرف ابتدائی اطلاع یعنی مقدمات (ایف آئی آر) کا درج کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری، سائنسی و جدید بنیادوں پر تفتیش، تیز ترین عدالت انصاف اور متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور قائم بالذات نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات کا سخت نوٹس لے کر ملزمان کو فوری کٹہرے میں لایا جائے۔

طبی اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں بنیادی طبی اور فرانزک سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال نوشکی میں ضروری پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی سرجن یا ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور بلوچستان کے تمام دیگر اضلاع میں پولیس سرجنز کی شدید قلت ایسے حساس ترین اور سنگین مقدمات کی سائنسی تحقیقات اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے۔

متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط نظام کی ضرورت

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خلاف ایک ایسا جامع قانونی و انتظامی ردِعمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں متاثرین کا مکمل تحفظ، ان کی رازداری، مفت طبی علاج، نفسیاتی علاج، اور مکمل قانونی امداد شامل ہو۔ دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پولیس، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، محکمہ سماجی بہبود، اور محکمہ حقوقِ نسواں کے درمیان ایک ایسا مضبوط آن لائن اور عملی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ حساس مقدمات کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ پریس ریلیز کے اختتام میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین پر بغیر کسی سیاسی و قبائلی مراعات کے، بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل: کئی اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

محمود احمد, September 09,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور احتجاجی تحریک کو مسلسل تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تحریک کے نوے دن پورے ہونے پر خطے کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس سے عوامی و تجارتی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے رواں برس 9 جون کو بھمبر کے مقام سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جسے آج 9 ستمبر کو پورے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

اس طویل احتجاجی سلسلے کو مزید تیز کرنے کے لیے تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو اپنے مطالبات کے حق میں پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا نیا اعلان کیا تھا۔

اس ہڑتال کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے پلیٹ اپر اڈہ میں واقع تمام بڑی مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ دوسری جانب بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس ضلع باغ اور ضلع کوٹلی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جہاں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

احتجاج اور ہڑتال کے باعث خطے بھر میں سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی روانی معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہریوں اور مسافروں کو شديد دشواری کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع باغ میں مقامی ضلعی انتظامیہ نے ہڑتال کرنے اور دکانیں بند رکھنے والے متعدد تاجروں کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں انتظامیہ اور تاجروں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ: پٹرول پر 134 روپے اور ڈیزل پر 118 روپے سے زائد کے ٹیکس عائد ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں ایندھن کی حتمی قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیوی، کسٹم ڈیوٹیز اور تجارتی مارجنز پر مشتمل ہونے کی تحریری دستاویزات سامنے آئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر پاکستانی عوام مجموعی طور پر 134 روپے 60 پیسے کا بھاری ٹیکس اور اضافی اخراجات ادا کر رہے ہیں، جبکہ فی الوقت پٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔

دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور تقریباً 3 روپے پریمیم بھی فی لیٹر قیمت میں پہلے سے شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں پٹرول کی حتمی فروخت کی رقم میں 7 روپے 60 پیسے ریفائنری و فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مقررہ منافع اور 9 روپے 98 پیسے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔

دوسری جانب معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے ڈائریکٹ ڈیزل کی بات کی جائے تو ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکسز اور اخراجات کی رقم 118 روپے 55 پیسے بتائی گئی ہے، جو کہ ڈیزل کی کل فروخت کی قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ڈیزل کی اصل بنیادی قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور ایک روپیہ پریمیم کی مد میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 2 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل کمپنیوں کا منافع اور 9 روپے 98 پیسے ڈیلرز کا کمیشن و مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین اور رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی، کسٹم ڈیوٹیز، کمپنیوں کے منافع اور دیگر اخراجات ہی عوام کے لیے ایندھن کی حتمی مہنگی قیمت اور ملک میں افراطِ زر کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔

ٹیلی میڈیسن عوامی صحت کا اہم انقلابی منصوبہ، شہریوں کو علاج کی سہولیات دہلیز کے قریب ملیں گی: وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن کا قیام ایک انتہائی اہم اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جس کے زبردست ثمرات کے ذریعے عام شہریوں کو ان کے گھروں اور دہلیز کے بالکل قریب جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور معمولی عوارض یا بیماریوں کے علاج کے لیے انہیں دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے عام شہریوں کو ماہر ترین ڈاکٹروں اور طبی معالجین کی فوری مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیرضروری بوجھ اور رش بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے تمام والدین سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کے لیے ہر مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر نونہال کو پولیو سے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے بچوں کو 13 دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی مفت اور موثر سہولت قائم کر رکھی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کسی بچے کا بھی کوئی حفاظتی ٹیکہ کورس سے چھوٹ نہ جائے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریاں پھیلنے سے قبل ہی اگر بروقت، مناسب اور سائنسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچوں کو بعد میں شدید بیمار ہونے، ڈسپنسریوں یا ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کا رخ کرنے کی ضرورت کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ ایک صحتمند اور فعال معاشرے کی تعمیر کے لیے بیماریوں سے پہلے ہی بچاؤ، باقاعدہ ویکسینیشن اور بروقت تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے پہلے مرحلے کے آخری اور مرکزی ہیلتھ سینٹر کے باضابطہ افتتاح اور اس ابتدائی فیز کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر سارہ، ان کی پوری تکنیکی ٹیم، ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ انجم اور تمام متعلقہ انتظامی افسران اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز سے فائدہ اٹھانے والے غریب و مستحق مریضوں کی خدمت کرنا ایک عظیم انسانی اور دینی عمل ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی بہبود اور بلا معاوضہ علاج کے اس سلسلے کو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا کر مزید موثر اور وسیع بنایا جائے گا۔

بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی اور فراڈ کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے کا بڑا اقدام: غیر فعال سمز پر چلنے والے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور مالیاتی و ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام کے لیے غیر فعال، منسوخ شدہ اور طویل عرصے سے زیرِ استعمال نہ رہنے والی سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

پی ٹی اے کے اعلیٰ حکام کے مطابق، موبائل آپریٹرز کی جانب سے منسوخ یا بند کی جانے والی سمز کے نمبرز پر پہلے سے بنے ہوئے واٹس ایپ اکاؤنٹس اکثر ناپسندیدہ اور غیر قانونی سرگرمیوں، آن لائن مالیاتی فراڈ، اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سیکیورٹی روزن کو بند کرنے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی اے نے ان تمام اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی پالیسی مرتب کی ہے۔

پی ٹی اے حکام نے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کسی بھی وقت بلاکنگ کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام موبائل صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر اپنے موجودہ، فعال اور ذاتی نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبرز کے ساتھ منسلک کریں تاکہ ان کا اکاؤنٹ بغیر کسی پریشانی کے فعال رہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق جو صارفین اپنا پرانا موبائل نمبر تبدیل کر چکے ہیں یا ان کی سم غیر فعال ہو چکی ہے، وہ واٹس ایپ کی ترتیبات میں جا کر “چینج نمبر” کا آپشن فوری استعمال کریں۔ بروقت نمبر تبدیل کرنے سے صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کا کنٹرول بحال رکھ سکیں گے اور ان کے ڈیٹا کا تحفظ بھی یقینی ہو سکے گا۔

پی ٹی اے نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نام پر درج سمز کی موجودہ حیثیت کی باقاعدگی سے تصدیق کریں اور غیر فعال نمبرز کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر ضروری قانونی و انتظامی اقدامات مکمل کریں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور حتمی مقصد سائبر کرائمز پر قابو پانا، جعلی و گمراہ کن پیغامات کا سدباب کرنا اور ملکی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

عالمی یومِ خواندگی پر اہم پیغام؛ بلوچستان کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کے لیے 23 ہزار سے زائد اسکالرشپس کی فراہمی مکمل

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بی ای ای ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی اور معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سماجی استحکام کی بنیاد ہیں۔

خالد ماندائی نے واضح کیا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بنیادی مقصد صوبے کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو مالی مشکلات سے بالاتر ہو کر تعلیم کے حصول اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ای ای ایف حکومتِ بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کا ایک انتہائی مؤثر، شفاف اور جامع نظام فراہم کر رہا ہے۔ میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے تحت فراہم کی جانے والی ان اسکالرشپس کا مقصد نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینا اور انہیں مستقبل کا خودمختار و ذمہ دار شہری بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت صوبے میں تعلیم کو ترقی کے بنیادی محرک کے طور پر خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں یہ امر نمایاں ہے کہ صوبے کا کوئی بھی باصلاحیت بچہ محض مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ ادارہ اسی وژن کے تحت اسکول سے لے کر اعلیٰ ترین تعلیمی سطح تک اسکالرشپ اسکیمز کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سی ای او بی ای ای ایف نے بتایا کہ ادارے کے مختلف پروگرامز کے تحت اب تک 23 ہزار 520 اسکالرشپس طلبہ و طالبات کو فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان میں بی ایس، یونیورسٹی و کالج کی جزوی اسکالرشپس، اے ڈی پی، اے ڈی ای، انٹرمیڈیٹ، ڈی اے ای، میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز، کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام، خصوصی طبقات کے لیے اسکالرشپس، بیرونِ صوبہ تعلیم، آکسفرڈ پاکستان پروگرام اور فارن پی ایچ ڈی پروگرامز شامل ہیں۔

خالد ماندائی نے زور دے کر کہا کہ اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ بلوچستان کے انسانی سرمائے میں ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ ایک طالب علم کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا دراصل ایک پورے خاندان کو مضبوط بنانے اور صوبے کے مستقبل کو روشن کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرے گا تاکہ کوئی بھی طالب علم مالی مجبوری کے باعث تعلیم سے دور نہ رہے۔

واپڈا کی جانب سے ملک کے اہم دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی روزانہ رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے منگل کے روز ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی مجموعی آمد، اخراج اور ریزروائر میں ذخیرہ شدہ پانی کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

واپڈا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک اور اخراج بھی 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد اور اخراج 23 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 37 ہزار 400 کیوسک درج کیا گیا ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 12 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 9 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 42 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 700 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 1 لاکھ 93 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک، اور تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 16 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 800 کیوسک رہا۔ جنوبی حصوں میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 2 لاکھ 65 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 34 ہزار 500 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 3 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 50 ہزار 500 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 87 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ تریموں بیراج پر آمد 27 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 200 کیوسک، اور پنجند بیراج پر آمد 27 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 200 کیوسک رہا۔

آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال سے متعلق بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح بھی 1550 فٹ ہی ہے اور اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ تربیلا میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 1222.35 فٹ، انتہائی گنجائش 1242 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 5.755 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح چشمہ میں کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 648.30 فٹ، انتہائی گنجائش 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.274 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

ایف بی آئی ایس ای کا ایچ ایس ایس سی پارٹ اول اور دوم کے سالانہ نتائج 9 ستمبر کو جاری کرنے کا اعلان

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) اسلام آباد ایچ ایس ایس سی (انٹرمیڈیٹ) پارٹ اول اور پارٹ دوم کے فرسٹ اینول امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان 9 ستمبر بروز بدھ کو کرے گا۔

فیڈرل بورڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، امتحانات کے نتائج کا باضابطہ اعلان صبح 11:30 بجے بورڈ کے مرکزی دفتر میں ایک پروقار تقریب کے دوران کیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ تمام طلبہ و طالبات، والدین اور اساتذہ نتائج کے اعلان کے فوری بعد فیڈرل بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر اپنے رول نمبرز کی مدد سے آن لائن رزلٹ چیک کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی رہنمائی، معلومات یا شکایت کی صورت میں بورڈ کی مخصوص ہیلپ لائن UAN: 051-111-473-032 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی بورڈ کے تحت ہر سال ہزاروں طلبہ و طالبات ایچ ایس ایس سی کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، اور نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ اور پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا بھی باضابطہ اجرا کیا جائے گا۔

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایک روزہ سروس ڈلیوری رپورٹ جاری: ایک دن میں تقریباً دو لاکھ مریضوں کو طبی سہولیات فراہم

کاشف عباسی , September 08,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے تمام اہم سرکاری ہسپتالوں اور ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی ایک روزہ شاندار سروس ڈلیوری رپورٹ باقاعدہ طور پر جاری کر دی ہے۔

رسمی رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 7 ستمبر کو صوبہ پنجاب کے مجموعی طور پر 57 مختلف سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 98 ہزار 637 مریضوں کو بہترین اور مفت طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں سے 1 لاکھ 37 ہزار 997 مریضوں کا آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کے اندر علاج معالجہ کیا گیا، جبکہ 60 ہزار 640 انتہائی تشویشناک اور ہنگامی نوعیت کے مریضوں کو مختلف ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں فوری اور بروقت طبی خدمات مہیا کی گئیں۔

رپورٹ کے تفصیلی خاکہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت تمام اضلاع میں قائم سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں محض ایک دن کے دوران 2 ہزار 221 مریضوں کی مختلف ہنگامی و معطل شدہ سرجریز کامیابی سے انجام دی گئیں، 693 سی ٹی سکینز اور 1 ہزار 959 ایم آر آئی ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ دل کے عارضے میں مبتلا 454 مریضوں کی انتہائی پیچیدہ انجیوگرافیز کے عمل کو مکمل کیا گیا۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اس کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 77 ہزار 800 مریضوں کے تفصیلی تشخیصی و لیبارٹری ٹیسٹ بھی انجام دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی پالیسی کے تحت ہسپتالوں میں آنے والے مستحق اور عام شہریوں کو 59.8 ملین روپے کی خطیر رقم کی مالیت کی ادویات بالکل مفت فراہم کی گئی ہیں تاکہ عوامی سطح پر صحت کے معیار کو بہتر اور آسان بنایا جا سکے۔

وفاقی حکومت میں بھرتیوں کا نظام جدید اور شفاف بنانے کی منظوری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اصلاحاتی رپورٹ منظور کر لی

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وفاقی حکومت میں سرکاری ملازمین کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور ‘نیشنل جاب پورٹل’ کو مزید جامع و مؤثر بنانے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا دوسرا اور حتمی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے وفاقی وزارتی و انتظامی محکموں میں بھرتیوں کے نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پورٹل کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مبنی تفصیلی کام کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی اور تجاویز کو سراہتے ہوئے حتمی رپورٹ کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جن اہم تکنیکی و انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا، ان تمام قیمتی تجاویز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ منظوری کے لیے حتمی مسودہ فوری طور پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کیا جا سکے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت میں بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف، میرٹ پر مبنی، تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام تر اصلاحات کے باوجود بھرتیوں کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا، تاہم تمام تر نظام کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے لیس کر کے زیادہ باصلاحیت اور فعال بنایا جائے گا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وزراتوں و اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان اور کویت کا دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کویتی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں پاکستان اور کویت کے تاریخی دوطرفہ تعلقات، تجارتی و معاشی شراکت داری، اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں میں جاری پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم سیاسی و سفارتی پیش رفتوں کے حوالے سے اپنے خیالات اور مواقف کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت کے عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار اور شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں اور تعمیری مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ رواں ماہ نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک باقاعدہ دوطرفہ تفصیلی ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی برادرانہ تعلقات، پائیدار اعتماد اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے۔