

محمود احمد, September 12,2026
ویانا (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء
ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس میں ایران کی نمائندگی کے لیے اہم اور انتہائی تزویراتی دورے پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔
ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کا یہ ویانا کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی مبینہ “عدم تعمیل” اور ایرانی عدم تعاون کی پاداش میں ایران کا دوسیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی تاریخی اور سخت قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی تھی۔
بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ سخت ترین بین الاقوامی قرارداد مغربی طاقتوں یعنی امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تھی، جس پر تفصیلی بحث کے بعد بورڈ آف گورنرز کے کل 35 رکن ممالک میں سے 23 نے واضح طور پر قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا تھا، جبکہ دیگر ارکان نے مخالفت يا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا راستہ اختیار کیا تھا۔
اقوام متحدہ میں معاملے کے اٹھائے جانے اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے جواب میں ایران کی جانب سے باضابطہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اس کی قومی جوہری تنصیبات پر متوقع حملوں اور خطرات کے پیشِ نظر بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی سلامتی اور تحفظ کی حتمی ضمانت دینا اب مزید ممکن نہیں رہا ہے۔
محمد اسلامی کا ویانا میں آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس کے موقع پر عالمی حکام اور ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتوں کا امکان ہے، جہاں وہ ایران کی جوہری پالیسی، سلامتی کے خدشات اور مغربی ممالک کے اقدامات پر تہران کے شدید تحفظات اور موقف کو پیش کریں گے۔