آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد بھارت کا بڑا فیصلہ؛ بحری جہازوں پر بھارتی عملے کی تعیناتی روکنے کے احکامات جاری

کاشف عباسی , JULY 16,026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

عالمی سطح پر تجارتی اور بحری گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر، بھارت نے جہازوں کے مالکان اور آپریٹرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ حساس ترین سمندری راستے ‘آبنائے ہرمز’ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی عملے (سیلرز) کو تعینات کرنے سے مکمل گریز کریں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے جہاز رانی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے بحری جہازوں کے مالکان، مینیجرز اور بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو ہنگامی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز پر بھارتی عملے کی تعیناتی کو روک دیا جائے۔

تزویراتی تفصیلات کے مطابق، بھارتی حکومت کی جانب سے یہ ہنگامی فیصلہ اس ہفتے آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقے میں دو تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں افسوسناک طور پر دو بھارتی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے آفیشل حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خلیجِ فارس کے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر، یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ اس خطرناک زون میں کام کرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر اپنی خدمات انجام دینے والے بھارتی شہریوں کی زندگیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران، آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی علاقوں میں ہونے والے مختلف حملوں کے نتیجے میں اب تک بحری جہازوں کے عملے کے کم از کم 14 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں جو رواں سال 9 جون کو عمان کے ساحل کے قریب سیٹبیلو آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ بھارتی وزارتِ جہاز رانی نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں بحری سلامتی کے حالات بہتر نہیں ہو جاتے، تب تک بھارتی عملے کی اس روٹ پر تعیناتی پر پابندی برقرار رہے گی۔