مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے نئے تین نمایاں شعبے بن گئے: عالمی سروے میں 93 فیصد سے زائد افراد کا چینی ٹیکنالوجی پر اعتماد

محمود احمد, August 01,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت ، روبوٹکس اور اختراعی ادویات اب عالمی سطح پر چین کی برآمدات کے “نئے تین نمایاں شعبے” بن کر ابھرے ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ کے معروف بین الاقوامی نیٹ ورک ‘سی جی ٹی این’ کی جانب سے دنیا بھر کے صارفین کے لیے کیے گئے ایک جامع عالمی سروے میں 93.1 فیصد جواب دہندگان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان تین نئے شعبوں کی عالمی مقبولیت اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ چینی مصنوعات اب بین الاقوامی مارکیٹ میں محض خام سامان نہیں بلکہ اصل ٹیکنالوجی، انٹیلیجنٹ سسٹمز اور جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عرصے میں انٹیلیجنٹ بائیونک روبوٹس کی برآمدات 10 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جبکہ ان جدید روبوٹس کی رسائی دنیا کے 90 سے زائد ممالک اور خطوں تک ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، چین کی اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنسنگ ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

سی جی ٹی این کے سروے میں 87.7 فیصد افراد نے رائے دی کہ یہ “نئے تین نمایاں شعبے” چین کی جدید اور مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ 83.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ اب تیزی سے ماحول دوست اور ہائی ٹیک طرزِ پیداوار کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ 91.3 فیصد افراد نے اس بات کی توثیق کی کہ عالمگیر مارکیٹ میں چینی مینوفیکچرنگ کا مقابلہ اب صرف بڑے پیمانے پر پیداوار کا نہیں رہا، بلکہ یہ معیار، اعلیٰ ٹیکنالوجی، برانڈ ویلیو اور بہترین سروسز کے مجموعی فوائد میں تبدیل ہو چکا ہے۔

سروے میں شامل 89.5 فیصد سے زائد عالمی صارفین کا کہنا تھا کہ چین کے یہ “نئے تین نمایاں شعبے” عالمی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جدت اور اپ گریڈیشن کے لیے نئے اور بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ یہ عالمی سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا، جس میں محض 24 گھنٹوں کے مختصر دورانیے میں دنیا بھر سے 3,339 افراد نے حصہ لے کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔