غریب اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ گئی، ملک میں سالانہ مہنگائی کی مجموعی شرح ۱۵ فیصد کے قریب پہنچ گئی، آٹا، گھی، دودھ، پیاز اور آلو سمیت ۲۲ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

ملک میں جاری معاشی بحران کے باعث غریب اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے، جہاں مہنگائی کی مجموعی شرح پندرہ فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ رواں ہفتے کے دوران آٹا، گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور ایل پی جی سمیت باقاعدہ بائیس (۲۲) انتہائی اہم اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اگرچہ حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کے انڈیکس میں صفر اعشاریہ پانچ چھ (0.56) فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم سالانہ بنیادوں پر ملک میں مہنگائی کی اصل شرح چودہ اعشاریہ سات پانچ (14.75) فیصد کی بلند سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں مجموعی طور پر بائیس اشیاء کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ ہوا، دس اشیاء کی قیمتیں تھوڑی سستی ہوئیںcell جبکہ انیس (۱۹) اشیاء کے نرخ مارکیٹ میں مستحکم رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق ایک ہی ہفتے کے دوران بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں جو نمایاں اور ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ان میں روزمرہ استعمال کا آٹا، ڈالڈا گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور گھریلو ایل پی جی سلنڈر شامل ہیں، اس کے علاوہ سبزیوں کے بازار میں پیاز کی قیمت میں ریکارڈ اٹھائیس اعشاریہ ایک چھ (28.16) فیصد جبکہ آلو کی قیمت میں اکیس اعشاریہ نو ایک (21.91) فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس نے کچن کا بجٹ تباہ کر دیا ہے، دوسری جانب رپورٹ میں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق برائلر چکن کی قیمت میں نو اعشاریہ فار آٹھ (9.48) فیصد، لہسن کی قیمت میں نو اعشاریہ ایک تین (9.13) فیصد، ڈیزل کی قیمت میں سات اعشاریہ صفر ایک (7.01) فیصد اور پٹرول کی قیمت میں چھ اعشاریہ اسی (6.80) فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، معاشی ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ پٹرولیم اور چکن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عام مارکیٹ میں آٹے، دودھ اور کوکنگ آئل جیسی سب سے بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور دباؤ کے شکار متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی میں مزید شدید مشکلات اور فاقہ کشی جیسے حالات پیدا کر رہا ہے کیونکہ ان چیزوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست عام شہری کی جیب پر اثر ڈالتا ہے، ادارہ شماریات کے حکام کے مطابق مارکیٹ میں قیمتوں کا یہ حالیہ اتار چڑھاؤ اور مسلسل بڑھتا ہوا رجحان عالمی مارکیٹ کی صورتحال، ملک میں اجناس کی رسد و طلب اور مجموعی ملکی معاشی صورتحال سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔