

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے 19 جولائی 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے کی تاریخی اور تزویراتی قرارداد کی یاد میں اتوار کے روز ملک بھر سمیت دنیا بھر میں 78 واں “یومِ الحاقِ کشمیر” مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن نے اس اہم دن کے موقع پر حقِ خودارادیت اور الحاقِ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ و اصولی مؤقف کا بھرپور اعادہ کیا۔
اس تاریخی دن کی مناسبت سے جڑواں شہروں سمیت ملک بھر میں مختلف خصوصی تقریبات، عوامی ریلیوں، تزویراتی سیمینارز، کانفرنسوں اور بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کو پاکستان اور کشمیر کے خوبصورت پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں نے 1947ء کی اصل قرارداد اور جموں و کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان یادگاری تقریبات میں مقررین نے تحریکِ آزادی میں 1947ء کی قرارداد کی کلیدی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر سخت زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کا پرامن حل صرف اور صرف وہاں کے غیور عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ 1947ء میں سرینگر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقدہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں یہ تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ الحاقِ پاکستان کی اس مقتدر قرارداد کی مضبوط تزویراتی دلیل یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کا جغرافیائی تسلسل، پاکستان کے ساتھ مشترکہ ثقافتی، لسانی، نسلی و اقتصادی تعلقات اور پنجاب کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ فطری طور پر پاکستان سے الحاق کا متقاضی ہے۔ اس تاریخی دستاویز میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت کے ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان سے قبل ہی باقاعدہ پاکستان سے الحاق کا مقتدر اعلان کرے۔
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصولی و قانونی مؤقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں (بشمول قرارداد نمبر 47 مجریہ 1948ء) کے تحت ایک غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ پاکستان اس تنازعے کے حل کے لیے 1948ء اور 1949ء کی یو این سی آئی پی کی مقتدر قراردادوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک قرار دیتا ہے۔ اگست 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بڑھتی ہوئی پابندیوں، حراستوں اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کی مقتدر بین الاقوامی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور خود اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہولناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر سفاکانہ پابندیوں اور من مانی نظر بندیوں کو دستاویزی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ان تاریخی بیانات کا حوالہ بھی دیتا ہے جس میں انہوں نے کشمیریوں کو جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ برٹرینڈ رسل، نیلسن منڈیلا، بل کلنٹن اور میری رابنسن جیسی عظیم عالمی شخصیات نے بھی ہمیشہ کشمیر کے پرامن حل اور وہاں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔