رانا مشہود احمد خان کا خطاب؛ حکومتِ پاکستان کا سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے کا عزم، تاجکستانی وزیر عبدالرحمن زادہ اور سفیر عاصم افتخار کی شرکت

محمود احمد, JULY 16,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے موقع پر “مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کا مستقبل: جدت، شمولیت اور لچک” کے عنوان سے ایک مقتدر اعلیٰ سطحی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم ترین تقریب کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور پاکستان کے وزیرِاعظم یوتھ پروگرام نے کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلابی فوائد دنیا بھر کے تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں۔

مباحثے سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے انقلابی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے دوران وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ نئی نسل کو جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک بھر کے ہونہار طلبہ میں 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی جدید ترین تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارت کے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔

رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے طویل المدتی تزویراتی وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین اور 10 ہزار اساتذہ (ٹرینرز) تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کر کے عالمی تفاوت کو ختم کرے۔ اس موقع پر جمہوریہ تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عالی جناب عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے بھی خطاب کیا اور پائیدار ترقی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2040ء تک کے لیے قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

تقریب کے پینل مباحثے میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ماہر جینیفر لوئی، گوگل کے نمائندے ہاشم سید اور یوتھ ڈیلیگیٹ بسمہ قمر نے حصہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں سائبر سیکیورٹی جیسے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ضابطہ کار بھی ناگزیر ہے۔

اپنے اختتامی خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر سخت زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل محض ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کو تشکیل دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ڈیجیٹل خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔ سفیر عاصم افتخار نے کثیرالجہتی نظام کے تحت چار بنیادی ترجیحات پیش کیں، جن میں عالمی تفاوت کا خاتمہ، مواقع کو مساوی معاشی نتائج میں تبدیل کرنا، نوجوانوں کو تخلیق کار تسلیم کرنا اور مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر انسان دوست، اخلاقی، محفوظ اور جوابدہ بنانا شامل ہے۔