وزیراعظم یوتھ پروگرام کا ’’پیووٹ‘‘ پروگرام شروع، عالمی پاکستانی نوجوانوں کو قومی ترقی سے جوڑنے کا اقدام

محمود احمد, JULY 17,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وزیراعظم یوتھ پروگرام نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں واقع پاکستان مشن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انقلابی “پیووٹ” پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ “کنکشن ٹو کنٹری بیوشن پاکستانی یوتھ ڈائسپورا کنیکٹ” کے عنوان سے منعقدہ اس مقتدر تقریب میں امریکہ بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد، نامور کاروباری شخصیات، محققین، طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی اور پاکستان کے نوجوانوں کی رہنمائی اور علمی شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس جدید پروگرام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کو وطنِ عزیز کے نوجوان طبقے کے ساتھ مینٹورشپ، علم و تجربے کے تبادلے، پیشہ ورانہ روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں باقاعدہ طور پر منسلک کرنا ہے۔

تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ “پیووٹ” کا آغاز پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے مابین ایک شاندار تزویراتی باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے اوورسیز نوجوانوں کو “پاکستان اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم خیرات کا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کا ایک فعال تصور ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا کر ملک میں جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یوتھ پروگرام تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات جیسے بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے اور پاکستانی نوجوانوں کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں میں نمائندگی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان کے نوجوانوں اور تارکینِ وطن کو قومی ترقی کے دو سب سے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے “پیووٹ” کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تزویراتی شراکت داری قومی معیشت کو نئی رفتار دے گی اور پاکستان کا مستقل مشن نوجوانوں کی عالمی سفارت کاری میں بااعتماد شرکت کو یقینی بناتا رہے گا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن برائے یو این امور محترمہ بسمہ قمر نے “پیووٹ” کا تعارفی خاکہ پیش کیا جبکہ فوکل پرسن برائے تعلیم محترمہ سدرا قمر نے پروگرام کا جامع جائزہ پیش کیا اور کونسلر صائمہ سلیم نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔

رانا مشہود احمد خان کا خطاب؛ حکومتِ پاکستان کا سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے کا عزم، تاجکستانی وزیر عبدالرحمن زادہ اور سفیر عاصم افتخار کی شرکت

محمود احمد, JULY 16,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے موقع پر “مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کا مستقبل: جدت، شمولیت اور لچک” کے عنوان سے ایک مقتدر اعلیٰ سطحی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم ترین تقریب کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور پاکستان کے وزیرِاعظم یوتھ پروگرام نے کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلابی فوائد دنیا بھر کے تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں۔

مباحثے سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے انقلابی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے دوران وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ نئی نسل کو جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک بھر کے ہونہار طلبہ میں 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی جدید ترین تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارت کے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔

رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے طویل المدتی تزویراتی وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین اور 10 ہزار اساتذہ (ٹرینرز) تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کر کے عالمی تفاوت کو ختم کرے۔ اس موقع پر جمہوریہ تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عالی جناب عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے بھی خطاب کیا اور پائیدار ترقی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2040ء تک کے لیے قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

تقریب کے پینل مباحثے میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ماہر جینیفر لوئی، گوگل کے نمائندے ہاشم سید اور یوتھ ڈیلیگیٹ بسمہ قمر نے حصہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں سائبر سیکیورٹی جیسے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ضابطہ کار بھی ناگزیر ہے۔

اپنے اختتامی خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر سخت زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل محض ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کو تشکیل دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ڈیجیٹل خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔ سفیر عاصم افتخار نے کثیرالجہتی نظام کے تحت چار بنیادی ترجیحات پیش کیں، جن میں عالمی تفاوت کا خاتمہ، مواقع کو مساوی معاشی نتائج میں تبدیل کرنا، نوجوانوں کو تخلیق کار تسلیم کرنا اور مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر انسان دوست، اخلاقی، محفوظ اور جوابدہ بنانا شامل ہے۔