سعودی پائپ لائن پر حملوں کے لیے استعمال ہونے کے شبہ میں الطیب کا علاقہ سیل؛ سرحدی حقائق سامنے لانے کے لیے بغداد اور تہران کا بڑا قدم

محمود احمد, September 12,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

عراق کے وزیر اعظم علی زیدی نے ایران اور عراق کی سرحد کے قریب دریافت ہونے والے مشکوک ڈرون لانچ پیڈز کے معاملے پر مشترکہ تحقیقات کی ایرانی درخواست باضابطہ طور پر قبول کر لی ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک اہم سرکاری بیان کے مطابق، اس مشترکہ تحقیقاتی عمل کا بنیادی مقصد سرحد پر ملنے والے ان تباہ کن لانچنگ پلیٹ فارمز کی دریافت، ان سے جڑے تمام حالات اور دیگر اہم تفصیلی شواہد کا دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر باریک بینی سے جائزہ لینا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق عراقی سیکیورٹی حکام کو شبہ ہے کہ ان لانچ پیڈز کو ماضی میں سعودی عرب کی تزویراتی ‘ایسٹ۔ویسٹ’ خام تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے سنگین ڈرون حملوں کی منصوبہ بندی اور تنفیذ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس اعلیٰ سطحی پیش رفت کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے ایران کی سرحد کے قریب واقع ‘الطیب’ کے پورے حساس علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے، کیونکہ ابتدائی ڈیٹا کی روشنی میں اسی مخصوص سرحدی پٹی سے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون داغنے کا قوی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عراقی سیکیورٹی و سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ تحقیقات کا بنیادی مقصد واقعے کے تمام حقیقی اور غیر جانبدارانہ حقائق کا تعین کرنا، مشکوک عسکری عناصر کا سراغ لگانا اور پائپ لائن پر ہونے والے ان حملوں کے پسِ منظر سے متعلق تمام تکنیکی و استخباراتی معلومات یکجا کرنا ہے۔