سعودی پائپ لائن پر حملوں کے لیے استعمال ہونے کے شبہ میں الطیب کا علاقہ سیل؛ سرحدی حقائق سامنے لانے کے لیے بغداد اور تہران کا بڑا قدم

محمود احمد, September 12,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

عراق کے وزیر اعظم علی زیدی نے ایران اور عراق کی سرحد کے قریب دریافت ہونے والے مشکوک ڈرون لانچ پیڈز کے معاملے پر مشترکہ تحقیقات کی ایرانی درخواست باضابطہ طور پر قبول کر لی ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک اہم سرکاری بیان کے مطابق، اس مشترکہ تحقیقاتی عمل کا بنیادی مقصد سرحد پر ملنے والے ان تباہ کن لانچنگ پلیٹ فارمز کی دریافت، ان سے جڑے تمام حالات اور دیگر اہم تفصیلی شواہد کا دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر باریک بینی سے جائزہ لینا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق عراقی سیکیورٹی حکام کو شبہ ہے کہ ان لانچ پیڈز کو ماضی میں سعودی عرب کی تزویراتی ‘ایسٹ۔ویسٹ’ خام تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے سنگین ڈرون حملوں کی منصوبہ بندی اور تنفیذ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس اعلیٰ سطحی پیش رفت کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے ایران کی سرحد کے قریب واقع ‘الطیب’ کے پورے حساس علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے، کیونکہ ابتدائی ڈیٹا کی روشنی میں اسی مخصوص سرحدی پٹی سے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون داغنے کا قوی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عراقی سیکیورٹی و سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ تحقیقات کا بنیادی مقصد واقعے کے تمام حقیقی اور غیر جانبدارانہ حقائق کا تعین کرنا، مشکوک عسکری عناصر کا سراغ لگانا اور پائپ لائن پر ہونے والے ان حملوں کے پسِ منظر سے متعلق تمام تکنیکی و استخباراتی معلومات یکجا کرنا ہے۔

سعودی پائپ لائن پر ڈرون حملے کا معاملہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حملے کے پیچھے تہران کے ملوث ہونے کا دعویٰ

محمود احمد, September 12,2026

ڈبلن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

آئرلینڈ کے سرکاری دورے پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی تزویراتی ایسٹ۔ویسٹ خام تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے حالیہ تباہ کن ڈرون حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر ایران کا ہاتھ ہے۔

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ تہران کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار مانتے ہیں، تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پختہ خیال ہے کہ ان حملوں کے پیچھے وہی ہیں اور غالباً وہی اس کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ سعودی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے عسکری ڈرونز کی پروازیں عراق کے اندرونی علاقوں سے روانہ کی گئی تھیں۔

ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ دنوں کے سیاسی اور بین الاقوامی مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ جنگی صورتحال نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے اختتام کے بعد مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توانائی کی عالمی منڈی سے متعلق اپنے عزم کو دہراتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خطے میں جاری اس جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اور واضح کمی واقع ہو جائے گی۔

دفاعی و تجارتی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس بیان نے ایک طرف جہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، وہاں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

سعودی تیل پائپ لائن پر حملہ: عراقی اسلامی مزاحمت نے ڈرون ڈاغنے کے الزامات کو بائلکل مسترد کر دیا

محمود احمد, September 12,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران سے ہم آہنگ اور متعدد عراقی مسلح تنظیموں پر مشتمل بااثر عسکری اتحاد “اسلامی مزاحمت برائے عراقنے سعودی عرب کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ خام تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے حالیہ تباہ کن ڈرون حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی باضابطہ اور پرزور تردید کر دی ہے۔

اسلامی مزاحمت برائے عراق نے 12 ستمبر کی شام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلیگرام پر اپنا سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ بغداد حکومت نے بغیر کسی معتبر شواہد، ٹیکنیکل ڈیٹا یا حتمی و شفاف تحقیقات کے، ان الزامات اور مغربی و خلیجی دعوؤں کو اس قدر جلدی تسلیم کر لیا۔

عراقی مسلح اتحاد نے اپنے جاری کردہ بیان میں سعودی عرب کے خلاف یمن کی حوثی فورسز کی عسکری کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یمنی عوام کو “سعودی فورسز اور ان کے اتحادیوں کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں” پر مبارکباد بھی پیش کی۔

گروپ نے بغداد انتظامیہ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات اور فیصلوں کا حصہ نہ بنے جنہیں گروپ نے “صہیونی و امریکی سازشیں” قرار دیا ہے۔ بیان کے مطابق، اس طرح کی جلد بازی عراق کو ایک ایسے نئے علاقائی بحران کی دلدل میں دھکیل سکتی ہے جو صرف اور صرف اس کے بیرونی دشمنوں کے تزویراتی مفاد میں ہے۔

تاہم، اسلامی مزاحمت برائے عراق نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس ڈرون حملے کی حقیقی نوعیت اور حقائق سامنے لانے کے لیے بغداد حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی کسی بھی باضابطہ و غیر جانبدار عسکری تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون اور گفتگو کے لیے تیار ہے۔

یہ واضح اور دفاعی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے عراقی حدود سے آنے والے متعدد مسلح ڈرونز کے ذریعے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سپلائی آپریشنز عارضی طور پر معطل کر رکھے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کی زد میں آ کر تنصیبات کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل عراقی حکومت کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے ابتدائی ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ڈرون حملے جنوبی صوبے میسان (اماراہ) کے ایک غیر آباد علاقے سے داغے گئے تھے۔ واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بغداد حکومت نے میسان آپریشنز کمانڈ کے اعلیٰ عسکری کمانڈر کو عہدے سے برطرف کرتے ہوئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

واضح رہے کہ سعودی پائپ لائن پر حملے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی علاقائی گروپ نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کی ہے، جبکہ عراقی عسکری اتحاد کے انکار کے بعد واقعے کی نوعیت مزید پیچیدہ شکل اختیار کر گئی ہے۔