

محمود احمد june 10,2026
تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ خونریز عسکری تصادم اور بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو ایک انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنے آپ کو اور اپنے فوجیوں کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے سے اپنی عسکری موجودگی کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، تہران اور بین الاقوامی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم اور ہنگامی بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ امریکہ نے میدانِ جنگ میں ماضی کی مسلسل ناکامیوں اور ذلت سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس نے ایک بار پھر ایران کے فولادی عزم اور بے پناہ قوتِ ارادی کو آزمانے کا ایک انتہائی غلط اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں دنیا کو بتایا کہ ایرانی مسلح افواج اپنے ملک پر ہونے والے کسی بھی حملے، جارحیت یا کھلی دھمکی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کریں گی اور وطنِ عزیز کے دفاع میں کسی بھی ممکنہ امریکی مہم جوئی کا پہلے سے کہیں زیادہ بھرپور اور عبرتناک جواب دیا جائے گا، ایرانی وزیر خارجہ نے پینٹاگون کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے خطے میں موجود تمام امریکی اور دیگر غیر ملکی عسکری افواج مسلسل اور براہِ راست ایران کے دفاعی میزائلوں کے خطرے کی زد میں ہیں اور اب کسی بھی فریق کی جانب سے کیے جانے والے غلط اندازے، کسی حادثاتی واقعے یا براہِ راست تصادم کی صورت میں خطے کی صورتحال مزید سنگین اور کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے جس کی تمام تر تباہی کی ذمہ داری وائٹ ہاؤس پر عائد ہوگی، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں مستقل امن و استحکام قائم کرنے کا واحد، حتمی اور مؤثر راستہ صرف اور صرف یہی ہے کہ غیر ملکی غاصب افواج یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کر کے فوری انخلا کریں، عباس عراقچی نے اپنے بیان کے آخر میں ایرانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ حد تک جائے گا اور امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے دیے جانے والے کسی بھی قسم کے فوجی دباؤ، پابندیوں یا گیدڑ بھبکیوں کے سامنے جھکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دفاعی مبصرین کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان خطے میں امریکی اڈوں پر ہونے والے حالیہ میزائل حملوں کے بعد پینٹاگون کے لیے ایک واضح اور خطرناک پیغام ہے۔