

محمود احمد june 19,2026
واشنگٹن/تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین سٹرٹیجک تلخی برقرار ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کے بعد اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت ترین الفاظ میں وارننگ جاری کر دی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک مقتدر اور دوٹوک بیان میں یائر لیپڈ نے خبردار کیا ہے کہ ”پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی نائب صدر پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزرا اسموٹریچ اور بین گویر پر شدید برہم ہوئے، جبکہ ہمارے وزیرِ خارجہ جدعون سار نے یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ سے تعلقات منقطع کر لیے اور دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کو لبنان میں غیر ذمہ داری دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے؛ اگر ہم نے اس انتہا پسند حکومت کو فوری طور پر اقتدار سے نہ ہٹایا تو اسرائیل کے بین الاقوامی خارجہ تعلقات دنیا بھر میں یکسر مٹ جائیں گے۔“
یہ سنگین سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نئی امریکی خارجہ پالیسی پر کی جانے والی ذاتی و تند و تیز تنقید کا انتہائی سخت اور کرارا جواب دیا، جے ڈی وینس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”اگر میں خود اسرائیلی کابینہ کی کرسی پر بیٹھا ہوتا تو دنیا میں اپنے سب سے مخلص، طاقتور اور اہم ترین دفاعی اتحادی کو اس طرح سرِعام نشانہ بنانے کی حماقت کبھی نہ کرتا،“ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو زمینی حقائق کا آئینہ دکھاتے ہوئے سنسنی خیز یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری رہنے والے ہولناک معرکوں میں اسرائیل کے دفاع اور سیکیورٹی میں استعمال ہونے والے کل ہتھیاروں کا دو تہائی حصہ خالصتاً امریکہ نے فراہم کیا ہے، جنہیں رات دن محنت کر کے امریکی ماہرین نے تیار کیا اور جس کے اربوں ڈالر کے فنڈز امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ممکن بنائے گئے تھے۔
امریکی نائب صدر نے کڑے الفاظ میں کہا کہ بعض اسرائیلی وزرا کے بیانات انتہائی افسوسناک اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے امریکی صدر کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ہمیشہ سے اسرائیل کے لیے ہمدردانہ اور حفاظتی مؤقف رکھتا ہے، انہوں نے نیتن یاہو کے وزرا کو مقتدر مشورہ دیا کہ وہ خوابوں کی دنیا سے باہر نکلیں اور خطے کی نئی سٹرٹیجک تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمہ دارانہ بین الاقوامی طرزِ عمل اختیار کریں، واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کے بعض سخت گیر ارکان امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے پر مسلسل آگ بگولا ہیں اور انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ اعظم یائر لیپڈ، نفتالی بینیٹ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو اسرائیل کے لیے عالمی سفارتی تنہائی کا سبب قرار دے دیا ہے۔