دشمن کے خلاف متحد اور سخت ردِعمل کا عزم: ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں کا تہران میں اہم اجلاس

محمود احمد, September 12,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کی مسلح افواج (آرمی) اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے اعلیٰ ترین اور سینیئر کمانڈروں کا ایک انتہائی اہم اور تزویراتی اجلاس دارالحکومت تہران میں منعقد ہوا، جس میں دونوں اہم ترین عسکری اداروں کے درمیان آپریشنل تعاون، دفاعی اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو مزید نا قابلِ تسخیر بنانے پر زور دیا گیا۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس اعلیٰ سطحی عسکری ملاقات کو بیرونی دشمنوں کے معاندانہ منصوبوں، علاقائی کشیدگی اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی مسلح افواج کے درمیان مضبوط اور لازوال اتحاد کی اعلیٰ ترین علامت قرار دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ممتاز کمانڈر احمد واحدی نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی حقیقی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتیں دشمن کے تمام تر تخمینوں اور اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں، اور حالیہ عسکری و کشیدہ صورتحال کے دوران دشمن نے ایران کی بلاجواز تباہ کن صلاحیتوں کا عملی مشاہدہ کر لیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی فوج کے کمانڈر اِن چیف جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ سرزمینِ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر ملکی جارحیت یا مس ایڈونچر کی صورت میں ملکی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے ہمیشہ ایک مشت ہو کر فوری، تیز رفتار، مربوط اور نپا تلا سخت ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اپنے اعلیٰ قومی مفادات، دفاعی پالیسی اور جغرافیائی حدود پر کسی بھی سطح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی عسکری و سیاسی حکام حالیہ مہینوں کے دوران ملکی فوج اور آئی آر جی سی کے درمیان آپریشنل رابطے، ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی کی مشترکہ منتقلی اور مربوط دفاعی تیاریوں پر مسلسل اور حکمتِ عملی کے تحت زور دیتے رہے ہیں۔ اس سے قبل ستمبر کے اوائل میں بھی جنرل امیر حاتمی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کو متوقع خطرات کے مطابق اپ گریڈ کرنے پر زور دیا تھا۔

بین الاقوامی دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی باقاعدہ فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان اس اعلیٰ ترین اور قریبی رابطے کو تہران کی جانب سے شدید بیرونی عسکری دباؤ، مغربی پابندیوں اور خطے میں ممکنہ نئے حملوں کے سدِباب کے لیے ایک انتہائی اہم اور منظم دفاعی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔