پنجاب اسمبلی نے ‘انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026’ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا

منصور احمد, August 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پنجاب صوبائی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت دہشت گردی اور ہائی سیکیورٹی مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں، وکلاء اور گواہوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

یہ بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ اپوزیشن ارکان نے کارروائی کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا، جس کے باعث ان کی ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں اور ایوان نے بل کو اصل شکل میں پاس کر دیا۔

بل کے متن کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت حساس مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور ججز، وکلاء، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی، ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا کامل اختیار حاصل ہو گا۔ خصوصی سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات کی سماعت جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جا سکے گی اور تمام عدالتی کارروائی کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر ان کی شناخت اور چہرہ یا آواز خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بعض حساس مقدمات کی سماعت محفوظ اور مخصوص مقامات یعنی کیمرہ عدالتوں میں کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ اور مجاز افراد تک محدود ہوگی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سیکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی تھا، اسی لیے جدید تقاضوں کے مطابق یہ نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور بنیادی شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔

قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سیکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اس نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات بھی مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی۔