وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈیرہ غازی خان کے ارکانِ صوبائی اسمبلی کی اہم ملاقات: سیاسی صورتحال، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو

منصور احمد, September 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ارکانِ صوبائی اسمبلی نے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان کے قیام اور عوام کو درپیش مسائل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق ملاقات کرنے والے وفد میں ارکانِ صوبائی اسمبلی احمد خان لغاری، علی احمد لغاری، اسامہ عبدالکریم، حنیف پتافی، اسامہ لغاری اور صلاح الدین خان شامل تھے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام ارکانِ اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ انتخابیک حلقوں میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور معیار کی کڑی نگرانی خود یقینی بنائیں۔

ملاقات کے دوران ارکانِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ان کے حالیہ کامیاب دورۂ چین پر دل سے مبارکباد پیش کی اور ڈیرہ غازی خان میں جدید الیکٹرو بس سروس شروع کرنے پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ ڈی جی خان کے لیے الیکٹرو بس سروس ایک حقیقی گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو رہا ہے اور وہاں کے عوام اس سہولت کی فراہمی پر پنجاب حکومت کے بے حد ممنون ہیں۔

ارکانِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی موثر اور حکمتِ عملی پر مبنی پالیسیوں کے باعث ڈی جی خان میں امن و امان کی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر تاریخ میں پہلی بار کچے کے حساس اور پرخطر علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال میں آنے والی نمایاں بہتری صوبے میں گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بتایا کہ ان کے دورۂ چین کا بنیادی مقصد پنجاب کو مصنوعی ذہانت کا علاقائی ہب بنانا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں بھی بہت جلد چینی طرز پر کینسر اور دیگر مہلک امراض کی قبل از وقت تشخیص کے لیے جدید ترین اور سائنسی طریقہ علاج متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں جدید الیکٹرو بسوں سے عام شہریوں کو پروقار سفر کرتے دیکھ کر انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ صوبائی تاریخ میں پہلی بار لاہور کی طرز پر جنوبی پنجاب کے اضلاع اور دیگر تمام علاقوں میں بھی یکساں طور پر بڑے اور پائیدار ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈی جی خان سمیت پنجاب کے دیگر تمام شہروں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ڈرینج سسٹم، صاف پانی کی فراہمی اور بیوٹی فکیشن کے بنیادی منصوبے تیزی سے جاری و ساریں ہیں۔

پنجاب اسمبلی نے ‘انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026’ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا

منصور احمد, August 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پنجاب صوبائی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت دہشت گردی اور ہائی سیکیورٹی مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں، وکلاء اور گواہوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

یہ بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ اپوزیشن ارکان نے کارروائی کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا، جس کے باعث ان کی ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں اور ایوان نے بل کو اصل شکل میں پاس کر دیا۔

بل کے متن کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت حساس مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور ججز، وکلاء، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی، ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا کامل اختیار حاصل ہو گا۔ خصوصی سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات کی سماعت جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جا سکے گی اور تمام عدالتی کارروائی کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر ان کی شناخت اور چہرہ یا آواز خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بعض حساس مقدمات کی سماعت محفوظ اور مخصوص مقامات یعنی کیمرہ عدالتوں میں کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ اور مجاز افراد تک محدود ہوگی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سیکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی تھا، اسی لیے جدید تقاضوں کے مطابق یہ نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور بنیادی شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔

قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سیکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اس نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات بھی مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی۔

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیل ڈیڈز کی عدم تکمیل: قومی خزانے کو 71 کروڑ روپے کے نقصان کا انکشاف

کاشف عباسی , August 08,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

لاہور کی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں معاہدوں اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے کو 70 کروڑ 96 لاکھ 64 ہزار روپے کے سنگین مالیاتی و ریونیو نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ نشاندہی پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون میں زیرِ سماعت آڈٹ رپورٹ کے دوران سامنے آئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے تحریری حقائق کے مطابق سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں مجموعی طور پر 339 صنعتکاروں کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے تھے، تاہم ان میں سے صرف 214 صنعتکاروں نے ہی باقاعدہ سیل ڈیڈز کی کاغذی کارروائی مکمل کی۔ دوسری جانب 125 صنعتکاروں نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے باوجود سیل ڈیڈز مکمل نہیں کروائیں، جس کی وجہ سے متعلقہ تمام صنعتی پلاٹس آڈٹ اعتراض کی زد میں آ گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 125 صنعتکاروں کی جانب سے سیل ڈیڈز کی عدم تکمیل کے باعث اسٹامپ ڈیوٹیز اور دیگر سرکاری ٹیکسز کی مد میں تقریباً 71 کروڑ روپے کی رقم وصول نہیں ہو سکی۔ آڈٹ کے مطابق ان نادہندہ پلاٹوں کا مجموعی رقبہ 213 ایکڑ سے زائد بنتا ہے، جبکہ علاقے کا مقررہ ڈی سی ریٹ 5 لاکھ روپے فی مرلہ تھا۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ انڈسٹریل اسٹیٹ کی انتظامیہ نے صنعتکاروں سے سیل ڈیڈز کی تکمیل کے لیے کوئی موثر اقدام یا سخت ہدایت جاری نہیں کی، جس کی وجہ سے سرکاری واجبات کی وصولی شدید متاثر ہوئی۔

اسی اثناء میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹل آڈٹ کمیٹی نے سیل ڈیڈز کی تکمیل کا معاملہ عدالتی فیصلے تک موخر کر دیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیل ڈیڈز کی جلد از جلد تکمیل کے لیے کیس کو بھرپور قانونی انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

واضح رہے کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے حکومت کے موجودہ ڈی سی ریٹ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ صنعتکاروں کا موقف ہے کہ موجودہ ڈی سی ریٹ ‘پنجاب انڈسٹریل اسٹیسٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی’ کی مقرر کردہ قابلِ اطلاق فروخت قیمت سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔