مون سون 2026ء؛ این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس، وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت

روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں مون سون 2026ء کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ادارہ جاتی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا تیسرا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی، جبکہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، مختلف وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ملک بھر کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کی آپریشنل تیاریوں، ہنگامی ریلیف کی منصوبہ بندی، ریسکیو کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس تزویراتی بیٹھک میں عوام کے لیے آگاہی مہمات چلانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی بروقت ترسیل، محفوظ مقامات پر انخلاء کے ہنگامی منصوبوں اور تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای او سی کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو ابتدائی انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی اور واپڈا کے حکام نے بھی مون سون کے دوران اپنے اپنے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے بارشوں کے دوران اہم شاہراہوں کی فوری بحالی، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے تسلسل، ڈیموں کے پانی کے انتظام اور دریاؤں میں آبی صورتحال کی نگرانی کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں، عوام کے روزگار اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے کاغذی کارروائی کے بجائے زمین پر مربوط اور موثر ترین ردعمل کو یقینی بنائیں۔