این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اجلاس: وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں ملک بھر میں مون سون اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر منعقد ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کے تسلسل میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اہم اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے، وفاقی و صوبائی حکام اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کے مطابق چیئرمین این ڈی ایم اے اور این ای او سی کی پیشہ ورانہ ٹیم نے ملک بھر میں مون سون کی تازہ ترین صورتحال، بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات، اور جاری امدادی و بحالی کی سرگرمیوں پر کمیٹی کو تفصیلی اور جامع بریفنگ دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے آگاہ کیا کہ متوقع بارشوں کے پیشِ نظر تمام ممکنہ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور مقامی انتظامیہ کو صورتحال سے بروقت اور پیشگی باخبر کر دیا گیا ہے تاکہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو حال ہی میں ہونے والی شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے بعد وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کی جانب سے کیے گئے فوری اور بروقت امدادی اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔ این ای او سی نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے شمالی و وسطی علاقوں سمیت جنوب مشرقی سندھ کے بعض مقامات پر بھی مزید بارشوں کا قوی امکان موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی ٹیم نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حالیہ مون سون کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات کچے مکانات کے گرنے اور کمزور تعمیرات کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث ہوئیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں قومی اور بین الاقوامی فلاحی و امدادی تنظیموں کے تعاون سے جاری ریلیف آپریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی ریسکیو اور ریلیف کاوشوں کو سراہا گیا، جبکہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو آپس میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے، پیشگی تیاری مکمل رکھنے اور متاثرین کی بحالی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایت کی۔

مون سون 2026ء؛ این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس، وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت

روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں مون سون 2026ء کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ادارہ جاتی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا تیسرا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی، جبکہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، مختلف وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ملک بھر کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کی آپریشنل تیاریوں، ہنگامی ریلیف کی منصوبہ بندی، ریسکیو کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس تزویراتی بیٹھک میں عوام کے لیے آگاہی مہمات چلانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی بروقت ترسیل، محفوظ مقامات پر انخلاء کے ہنگامی منصوبوں اور تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای او سی کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو ابتدائی انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی اور واپڈا کے حکام نے بھی مون سون کے دوران اپنے اپنے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے بارشوں کے دوران اہم شاہراہوں کی فوری بحالی، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے تسلسل، ڈیموں کے پانی کے انتظام اور دریاؤں میں آبی صورتحال کی نگرانی کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں، عوام کے روزگار اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے کاغذی کارروائی کے بجائے زمین پر مربوط اور موثر ترین ردعمل کو یقینی بنائیں۔