

محمود احمد june 18,2026
تہران/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک دھماکہ خیز ٹوئٹ نے پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلے پروپیگنڈے اور سازشوں میں مصروف بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے صحافتی حلقوں میں یکسر صفِ ماتم بچھا دی ہے، تہران اور واشنگٹن سے حاصل ہونے والی تازہ ترین سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی باضابطہ مفاہمتی یادداشت کا اصل متن اور آفیشل کاپی پوری دنیا کے سامنے شیئر کر دی ہے جس پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے بطورِ ثالث اور ضامن واضح دستخط موجود ہیں، اس منظرِ عام پر آنے والی تاریخی دستخطی کاپی نے مودی سرکار اور ہندوستانی مبصرین کے تن بدن میں شدید آگ لگا دی ہے کیونکہ بھارتی میڈیا کے لیے یہ ہضم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کہ عالمی سطح پر جس پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے نئی دہلی نے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے، وہی پاکستان آج حالیہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم ترین امن معاہدے کو یقینی بنانے کا واحد ضامن اور مرکزی محور بن کر ابھرا ہے، ایرانی صدر کی اس تاریخی ٹوئٹ کے بعد دنیا بھر کے مقتدر سفارتی حلقوں میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی اعلیٰ سفارتکاری کی زبردست تعریفیں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب خطے میں امن کا روایتی دشمن بھارتی میڈیا مسلسل رونے دھونے اور مضحکہ خیز تاویلات پیش کرنے میں مصروف ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے مودی سرکار کو خفت سے بچانے کے لیے گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے دوران مسلسل یہ مضحکہ خیز اور من گھڑت جھوٹا الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس عالمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے یکطرفہ جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس معاہدے کا نام سرے سے ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس دستاویز میں پاکستان کا کوئی ذکر موجود ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی معاہدے کی لائیو تصویر نے بھارتی میڈیا کے اس مضحکہ خیز جھوٹ اور پراپوگنڈے کو سیکنڈوں میں یکسر بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ صدارتی دستاویز پر جلی حروف میں ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہی تحریر ہے جس کے نیچے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بطورِ ثالث پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل دستخط صاف چمک رہے ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عالمی پیغام میں واشنگٹن کو کڑا پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور و غیرت مند ایران کا واضح پیغام ہے کہ عالمی امن ہمیشہ صرف اور صرف باہمی احترام اور برابری کے سائے میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، انہوں نے فخر سے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا ایک ایک لفظ غیرت مند ایرانی قوم کی حقیقی آواز کا عکاس ہے اور ایرانی قوم نے کسی بھی بیرونی عسکری دھمکی، اقتصادی ناکہ بندی یا جابرانہ دباؤ کے سامنے اپنی عزتِ نفس اور قومی خود مختاری کا سودا نہیں کیا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایرانی قوم کی بے مثال استقامت، ثابت قدمی اور تہران کی ذمہ دارانہ سٹرٹیجک سفارتکاری کا شاندار نتیجہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین طے پانے والے اس ۱۴ نکاتی امن معاہدے کی پاکستان نے بطورِ ثالث باقاعدہ توثیق کر دی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ عظیم معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں مستقل امن و معاشی استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا، انہوں نے عالمی دنیا پر واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے، دونوں ایٹمی و عسکری طاقتوں کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رات دن کی انتھک مخفی محنت اور سٹرٹیجک حکمتِ عملی نے سب سے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا جبکہ وزیرِ اعظم نے اس شاندار کامیابی پر امریکی صدر ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو پاکستان کی ریاست اور عوام کی طرف سے دلی مبارکباد بھی پیش کی ہے۔