

کاشف عباسی ,june 20,2026
اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء
سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔