”اگر جنگ بروقت نہ روکی جاتی تو تیسری جنگ عظیم کے 200 فیصد امکانات تھے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پوری دنیا کے مستقل امن کی دستاویز ہے“، وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کی ’اے آر وائی نیوز‘ میں مقتدر گفتگو، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور شہباز شریف کو عظیم تاریخی ہیرو قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور اور مقتدر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین چھڑنے والی ہولناک جنگ کو اگر پاکستان اپنی دور اندیش سفارت کاری کے ذریعے بروقت نہ روکتا تو دنیا میں تیسری جنگِ عظیم (World War III) چھڑنے کے 200 فیصد امکانات موجود تھے، انٹرنیشنل پریس ایجنسی اور نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی عالمی امن کے لیے سرانجام دی جانے والی لازوال خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سٹرٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا کہ یہ امن معاہدہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقل امن اور بقا کی ایک تاریخی دستاویز ہے، انہوں نے واضح کیا کہ یہ معرکہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک محدود جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں آکر پوری دنیا کا جغرافیائی نقشہ یکسر بدل سکتا تھا اور ہر طرف تباہی پھیل جاتی، لیکن پاکستان نے مخلصانہ کردار ادا کر کے انسانیت کی بھلائی کے لیے اس جنگ کو عین اسی نازک مرحلے پر روک دیا جہاں سے پوری کائنات کو تباہی کے دہانے سے بچا لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے سفارتی کامیابی کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے فخر سے بتایا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین اس عظیم الشان امن معاہدے کا سہرا سو فیصد پاکستان کے سر سجتا ہے، انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”اس تاریخی دستاویز پر امریکہ اور ایران کے صدور نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں، اور دنیا کی ان دونوں بڑی طاقتوں کے دستخطوں کو باضابطہ طور پر ‘ویریفائی’ اور ضامن کا کردار پاکستان نے ادا کیا ہے،“ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دونوں قوم کے عظیم ہیرو بن کر ابھرے ہیں اور غیور پاکستانی قوم اپنے ان مقتدر سپہ سالاروں پر ہمیشہ خون کے آخری قطرے تک فخر کرے گی، انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تمام تاریخی و معاشی کامیابیاں معرکے کے فوراً بعد حاصل ہوئیں جو پاکستان کی عسکری و سفارتی طاقت کا عالمی لوہا ماننے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

امریکہ ایران جنگ کا باقاعدہ خاتمہ، وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر دستخط کر دیے

کاشف عباسی ,june 18,2026

اسلام آباد (قومی سرخی/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین کشیدگی، معاشی محاصرے اور ہولناک جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مخلصانہ اور انتھک سفارتی کوششیں آخرکار رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر نافذ کر دیا گیا ہے، دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے کی سب سے خاص اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اس عظیم امن مشن کا مرکز، میزبان اور ضامن خود پاکستان بنا ہے، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث باقاعدہ اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں جو کہ عالمی منظرنامے پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ پوزیشن اور امن پسند برادرانہ کردار کا ایک ناقابلِ تردید اور روشن ترین ثبوت ہے۔

سرکاری باوثوق ذرائع کے مطابق اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی حتمی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کے مراحل مکمل کر لیے تھے، ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس انقلابی معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر حتمی قانونی و بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ سٹریٹجک معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا جس سے بند پڑی سمندری تجارتی گزرگاہیں ہمیشہ کے لیے بحال ہو جائیں گی اور اس تاریخی کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور سفارتی قد کاٹھ آسمان کو چھونے لگا ہے جس پر عالمی برادری پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔