

کاشف عباسی ,june 19,2026
بیروت/تہران (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے فوری بعد مشرقِ وسطیٰ کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بڑی کوشش سامنے آئی ہے جہاں جنوبی لبنان پر جابرانہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ۱۶ لبنانی شہری ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے واشنگٹن اور تل ابیب کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد معاہدے کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کی گئی یا تہران پر کوئی بھی غیر معمولی مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران سخت اور تباہ کن جواب دینے میں ایک سیکنڈ کی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرے گا، بیروت سے موصولہ تازہ ترین عسکری و سفارتی رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف رہائشی علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، لبنانی وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق ملبے تلے دبے زخمیوں کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
اس ہنگامی صورتحال اور جنیوا میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں ایرانی اعلیٰ وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے مقتدر اسپیکر محمد باقر قالیباف نے انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران بین الاقوامی امن، تجارتی بحری راستوں کی آزادی اور سفارتی حل کا خواہاں ضرور ہے، تاہم اگر کوئی بھی فریق (امریکہ یا اس کے اتحادی) اس امن معاہدے کی روح کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے یا ایران پر بلاجواز معاشی و فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر بھرپور اور کاری ضرب لگانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، محمد باقر قالیباف نے سپریم لیڈر رہبرِ معظم کے فیصلے کی روشنی میں دوٹوک الفاظ میں کہا:
”اگر دوسرے فریق کی جانب سے معاہدہ شکنی کی گئی یا حد سے زیادہ مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، تو ایران اس کا ایسا تباہ کن جواب دے گا جس کی دشمن نے کبھی توقع بھی نہیں کی ہوگی اور ہم اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔“
بین الاقوامی سیاسی و عسکری مبصرین کے مطابق ایک ایسے نازک وقت میں جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی ”اسلام آباد میمورنڈم“ پر باقاعدہ عملدرآمد کا ۶۰ روزہ حساس دورانیہ شروع ہو چکا ہے اور سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن شٹاخ میں تکنیکی وفود کے مذاکرات متوقع ہیں، جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں عالمی امن کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا اور کٹھن امتحان ثابت ہوسکتی ہیں، ادھر لبنانی حکام اور قطر سمیت دیگر علاقائی مبصرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور اسرائیل کو اس جارحیت سے روکے تاکہ خطے کو کسی نئی ہولناک جنگ اور ممکنہ جوہری تصادم سے بچایا جا سکے۔