امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے، 14 اہم نکات منظرِ عام پر آگئے

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکی میڈیا اور معتبر جریدے بلومبرگ نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اہم ترین ایم او یو فریم ورک کے 14 خفیہ اور انقلابی نکات کی مکمل تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے گی اور حتمی معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ جوہری مواد کے حوالے سے کڑی شقیں شامل کی جائیں گی، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی عالمی سفارتی تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ۶۰ روز کے اندر ایک بڑے حتمی معاہدے تک پہنچنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے اور دونوں ممالک نے جوہری امور سمیت طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کر دی ہے، طے پانے والے نکات کے مطابق خطے کے تمام فریقین ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے جبکہ اگلے 30 دنوں کے اندر سمندری حدود اور تجارتی راستوں پر لگی بحری ناکہ بندی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا اور دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں امریکی افواج کی تعداد میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، امریکہ نے تہران سے تمام معاشی پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا پکا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ایران کے منجمد اثاثے بحال ہو جائیں گے اور اسے عالمی مارکیٹ میں اپنے تیل کی برآمدات کی سو فیصد اجازت ہو گی جبکہ تجارت اور توانائی کے تمام بند روٹس بھی بحال کر دیے جائیں گے، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے خطیر مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے اہم موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایک خصوصی ملاقات کی ہے، واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد شروع دن سے ایران کو خطرناک جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا جسے ہم نے کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز جمعے کے روز تک بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران خود یہ مذاکرات چاہتا ہے تاکہ دنیا میں ایک نارمل اور پرامن ملک کی طرح رہ سکے، صدر ٹرمپ نے ایرانی محاصرے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایران ابراہم اکارڈ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا مگر اب امید ہے کہ اس امن معاہدے میں مزید اسلامی ممالک بھی شامل ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی زبردستی کی رقم ادا کرنے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ بہت جلد ایک بڑی پریس کانفرنس میں اس تاریخی معاہدے کا ایک ایک لفظ میڈیا کے سامنے لائیں گے تاکہ درست کوریج ہو سکے اور قوی امید ہے کہ ایران کے ساتھ اس ڈیل کا دوسرا مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔