امریکہ ایران معاہدے پر نیتن یاہو مایوس، صدر ٹرمپ کا اسرائیل کو دانشمندی برتنے کا مشورہ


کاشف عباسی ,june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید مایوسی ہوئی ہے، جی سیون سمٹ کے موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب اسرائیل کو چاہیے کہ وہ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے اور کوئی بھی اگلا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مائیک پر بتایا کہ اس خطے میں امن کی بحالی اور اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پاکستان اور قطر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، پاکستانی وزیراعظم نے انہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایک ایسا بڑا کام ہونے جا رہا ہے جس پر کسی کو یقین نہیں آئے گا، صدر ٹرمپ نے اس عظیم ترین امن مشن اور سفارتی مذاکرات کے کامیاب انعقاد پر پاکستان، قطر اور سعودی عرب کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ حتمی اور باقاعدہ معاہدہ رواں اتوار تک مکمل ہو جائے گا جس کے فوراً بعد خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہو جائے گی اور بند پڑی آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیا جائے گا، انہوں نے صاف کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ یہ ڈیل نہ کرتا تو آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن تھا، صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر مکمل راضی ہو چکا ہے کہ وہ مستقبل میں نہ تو کبھی ایٹم بم بنائے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ امریکی سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی تمام جوہری تنصیبات اور یورینیم کے ذخائر کی چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہم ان کے جوہری مواد کا سراغ لگا لیں گے، انہوں نے ایرانی حکام کو سخت اور زیرک مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں ایرانی میزائل پروگرام اور اس سے وابستہ دیگر مسلح گروہوں کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت ہو گی، پریس کانفرنس کے دوران روس یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین سے زیادہ اس وقت روس اپنے فوجیوں سے محروم ہو رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یوکرین اور روس دونوں ہی یہ نہیں جانتے کہ آپس میں امن ڈیل کیسے کی جاتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے، 14 اہم نکات منظرِ عام پر آگئے

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکی میڈیا اور معتبر جریدے بلومبرگ نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اہم ترین ایم او یو فریم ورک کے 14 خفیہ اور انقلابی نکات کی مکمل تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے گی اور حتمی معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ جوہری مواد کے حوالے سے کڑی شقیں شامل کی جائیں گی، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی عالمی سفارتی تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ۶۰ روز کے اندر ایک بڑے حتمی معاہدے تک پہنچنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے اور دونوں ممالک نے جوہری امور سمیت طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کر دی ہے، طے پانے والے نکات کے مطابق خطے کے تمام فریقین ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے جبکہ اگلے 30 دنوں کے اندر سمندری حدود اور تجارتی راستوں پر لگی بحری ناکہ بندی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا اور دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں امریکی افواج کی تعداد میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، امریکہ نے تہران سے تمام معاشی پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا پکا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ایران کے منجمد اثاثے بحال ہو جائیں گے اور اسے عالمی مارکیٹ میں اپنے تیل کی برآمدات کی سو فیصد اجازت ہو گی جبکہ تجارت اور توانائی کے تمام بند روٹس بھی بحال کر دیے جائیں گے، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے خطیر مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے اہم موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایک خصوصی ملاقات کی ہے، واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد شروع دن سے ایران کو خطرناک جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا جسے ہم نے کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز جمعے کے روز تک بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران خود یہ مذاکرات چاہتا ہے تاکہ دنیا میں ایک نارمل اور پرامن ملک کی طرح رہ سکے، صدر ٹرمپ نے ایرانی محاصرے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایران ابراہم اکارڈ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا مگر اب امید ہے کہ اس امن معاہدے میں مزید اسلامی ممالک بھی شامل ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی زبردستی کی رقم ادا کرنے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ بہت جلد ایک بڑی پریس کانفرنس میں اس تاریخی معاہدے کا ایک ایک لفظ میڈیا کے سامنے لائیں گے تاکہ درست کوریج ہو سکے اور قوی امید ہے کہ ایران کے ساتھ اس ڈیل کا دوسرا مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

”جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے انتہائی دلچسپ اور طنزیہ مکالمہ، جی سیون سمٹ کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی اندرونی کہانی میڈیا پر وائرل، وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا ایران کے خلاف امریکی بحریہ کے تاریخی محاصرے کی کامیابی کا دعویٰ، آبنائے ہرمز جمعے تک عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ابراہام اکارڈز کی توسیع کی راہ ہموار

President Trump Makes First Middle East Trip Of His Second Term

کاشف عباسی ,june 16,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سیاست کے افق سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ سفارتی خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے مصروف ترین موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران اپنے مخصوص اور روایتی طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر آپ لمبی لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں‘‘، واشنگٹن کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی اندرونی کہانی کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے اماراتی صدر کو مخاطب کیا اور چٹکلا چھوڑا کہ جب کوئی شخص یا ریاست اتنی زیادہ دولت مند اور امیر ہو تو وہ طویل گفتگو کرنے کا بھی باآسانی متحمل ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس برجستہ جملے پر کمرے میں موجود دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارتکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور محفل کا ماحول انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ہو گیا۔

اس اہم ترین ملاقات کے فوراً بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچنے پر وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک کڑک اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار (ایٹم بم) حاصل کرنے سے روکنا تھا اور ہم نے اپنی سخت ترین حکمتِ عملی کی بدولت اس مقصد میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، امریکی صدر نے عالمی میڈیا کے سامنے ایک بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہ ”آبنائے ہرمز“ کو رواں ہفتے جمعے کے دن تک بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا کیونکہ ایران اب امریکی دباؤ کے بعد عالمی برادری کے ساتھ اپنے معمول کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے کا شدید خواہاں ہے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت خود مجبور ہو کر مذاکرات کی میز کی طرف آئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے خلاف قائم سخت تاثر کو بدل کر ایک پرامن ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کر سکے، انہوں نے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں ایرانی بحری ناکہ بندی کرنے پر امریکی بحریہ کی جارحانہ اور کامیاب کارروائیوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کا عسکری محاصرہ سو فیصد کامیاب رہا اور اس شاندار کامیابی پر امریکی بحریہ کے تمام کمانڈرز اور جوان پوری دنیا کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران ماضی کے دوران عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین ہونے والے تاریخی ”ابراہام اکارڈز“ کی توسیع اور امن عمل میں سب سے بڑی اور خطرناک رکاوٹ بنا ہوا تھا، تاہم اب اس تاریخی محاصرے اور نئی ڈیل کے بعد یہ قوی توقع پیدا ہو گئی ہے کہ خطے کے مزید اہم اسلامی اور عرب ممالک بھی بہت جلد اس امن اور سفارتی معاہداتی عمل کا باقاعدہ حصہ بنیں گے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی اس نئی اور مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تمام تر باریک اور حساس تفصیلات بہت جلد پوری دنیا اور امریکی عوام کے سامنے پبلک کر دی جائیں گی، انہوں نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایک خصوصی اور بڑی لائیو پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس نئے تاریخی معاہدے کو میڈیا کے سامنے ”لفظ بہ لفظ“ خود پڑھ کر سنائیں گے تاکہ عالمی میڈیا، امریکی کانگریس اور عوام اس کے مندرجات اور کڑی شرائط کو بالکل درست اور واضح انداز میں سمجھ سکیں اور کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے، اس موقع پر سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے پرانے جوہری معاہدے پر شدید ترین تنقید کے تیر چلاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کا وہ ناقص معاہدہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں ایران کو چھوٹ دی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس میرا موجودہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تمام تر چوراہوں اور راہوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے خلاف دنیا کی ایک سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر عسکری و سفارتی رکاوٹ ثابت ہو گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ ان کڑے مذاکرات کا دوسرا اہم مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن، پائیدار سلامتی اور تجارتی استحکام کے نئے اور روشن امکانات پیدا ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو فوری طور پر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ، ایرانیوں کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے اور بم برآمد ہونے کا سنسنی خیز دعویٰ، سیکیور امریکہ ایکٹ منظور جبکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی درخواست پر وقفہ دینے کا اعتراف

محمود احمد june 10,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 10جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز عسکری دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں نے حال ہی میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے جبکہ تہران کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں ہے، واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور موجودہ مجوزہ معاہدہ ایرانی حکومت کے لیے ایک آخری اور بہتر موقع ہے، پریس بریفنگ کے دوران ہیلی کاپٹر حملے سے متعلق اہم عسکری تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے جس امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اس کے اندر ایک انتہائی بڑا بم موجود تھا اور یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تباہی کے بعد وہ بم دھماکے سے نہیں پھٹا ورنہ خطے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی عسکری اثاثے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کرنا ناگزیر اور ضروری سمجھا گیا تھا، اس موقع پر امریکی صدر نے ملک کے اندرونی تحفظ کے حوالے سے سیکیور امریکہ ایکٹ پر باقاعدہ دستخط کرنے کا بھی بڑا اعلان کیا اور کہا کہ اس نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی فورسز کو مزید جدید وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں گے کیونکہ ان کی حکومت امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سرحدی نگرانی سخت کر کے غیر قانونی داخلوں کی مکمل روک تھام کی گئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس اہم گفتگو کے دوران پاکستان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایک اور بڑا انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض نازک مواقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کچھ دیر کے لیے وقفہ دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی شدید عسکری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھی امریکی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے، امریکی صدر نے آخر میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایران کو کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اب مخلصانہ طور پر سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔