یمن میں فضائی حملوں کی نئی لہر: حوثیوں کا سعودی عرب کے 40 بمبار حملوں کا دعویٰ، باب المندب میں شدید کشیدگی

محمود احمد, September 10,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف تزویراتی (اسٹریٹجک) اور ساحلی علاقوں میں تقریباً 40 سے زائد شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب حملوں اور زمینی جھڑپوں میں یکبارگی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حوثی انتظامیہ سے وابستہ سرکاری خبر رساں ادارے سبأ کے مطابق سعودی طیاروں نے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب کے اہم صوبوں میں قائم عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 40 فضائی حملے کیے، تاہم ان شدید حملوں سے متعلق حوثیوں کے اس دعوے کی کسی بھی غیر جانبدار یا آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق یہ خطرناک پیش رفت سعودی عرب کے سرحدی و جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حالیہ تباہ کن میزائل اور ڈرون حملوں کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم قائم ملٹری اتحاد کے باضابطہ بیانات کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے گنجان آباد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد جدید بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون داغے تھے۔

یمنی دفاعی رپورٹس کے مطابق یمن میں دوبارہ سے ابھرنے والی اس بدترین عسکری کشیدگی نے سال 2022ء کے دوران فریقین کے مابین قائم ہونے والے نازک اور تاریخی معاہدے کو انتہائی شدید دباؤ اور داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان چند انتہائی اہم صوبوں اور تیل پیدا کرنے والے علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی لڑائی بار دیگر شدت اختیار کر چکی ہے۔

دریں اثنا، بحیرہ احمر کی عالمی اہمیت کی حامل باب المندب کی آبنائے کے اطراف بھی سیکورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی علاقوں اور چوکیوں پر اپنی حتمی پوزیشنز مضبوط کرتے ہوئے اس عالمی اہمیت کی حامل تجارتی بحری گزرگاہ کے بالکل قریب تک پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو باہم جوڑنے والا دنیا کا وہ اہم ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر عالمی تجارت اور خام تیل و توانائی کا ایک بڑا اور اہم حصہ دوسرے براعظموں کو منتقل ہوتا ہے۔