

منصور احمد june 18,2026
لندن (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
پاکستان کی کامیاب ترین مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدہ نافذ العمل ہونے کے فوری بعد برطانوی حکومت نے خطے کی صورتحال کو پرامن قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیے اپنی آفیشل ٹریول ایڈوائزری کو بڑے پیمانے پر اپڈیٹ کر دیا ہے، لندن سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سفارتی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزارتِ خارجہ (فارن آفس) نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگی تنازع اور شدید کشیدگی کے باعث برطانوی شہریوں کو دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے تمام شہروں کے لیے جاری کردہ ”غیر ضروری سفر سے گریز“ کی سخت ترین ہدایت اور پابندی کو فوری طور پر واپس لے لیا ہے، برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نئی اور نرم ترین گائیڈ لائن کے تحت اب تمام برطانوی شہری اور کاروباری افراد پہلے کی طرح مکمل طور پر پرسکون ماحول میں معمول کے مطابق دبئی اور امارات کی دیگر ریاستوں کا آزادانہ سفر کر سکتے ہیں کیونکہ اب وہاں سیکیورٹی کا کوئی خطرہ موجود نہیں رہا، واضح رہے کہ یہ مثبت ترین عالمی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مقتدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان کے تیار کردہ تاریخی امن مینو پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔
اس عظیم الشان کامیابی پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دنیا بھر کو باضابطہ مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کی اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے حتمی دستخط ثبت کر دیے ہیں جس کے بعد یہ جرات مندانہ معاہدہ پوری دنیا میں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس سٹریٹجک معاہدے کی بنیادی اور اہم ترین شقوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے صراحت کی کہ اس امن فارمولے کے تحت ایران بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ مکمل کھول رہا ہے جبکہ دوسری جانب سپر پاور امریکہ ایران کے خلاف خلیج میں جاری اپنی کڑی اور جابرانہ بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے پر مکمل راضی ہو گیا ہے، وزیرِ اعظم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بطورِ ثالث اور ضامن اس تاریخی امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کی باقاعدہ توثیق کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ۱۹ جون ۲۰۲۶ء سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دونوں ممالک کے مابین تکنیکی سطح کے اگلے اہم ترین مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں معاہدے کے تمام باریک نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا، بین الاقوامی معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس عظیم الشان امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی تمام بڑی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی اور بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل (پٹرولیم) کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں بھی یکدم نیچے گر گئی ہیں جس سے عالمی معیشت کو ایک بہت بڑا بریک تھرو اور ریلیف ملا ہے۔