وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا مقتدر اجلاس، بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , JULY 09,026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی تزویراتی جائزہ لیا گیا۔ قومی ایکشن پلان (نیشنل ایکشن پلان) کے اس اہم ترین اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ وفاقی وزرا عطا تارڑ، احد چیمہ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام سے متعلق کئی اہم تزویراتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور آخری فسادی و دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ بلا تفریق جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں پولیس اور فوج کے جوانوں سمیت متعدد شہری شہید ہوئے ہیں، اور افواجِ پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے بڑی قربانیاں دے کر اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے، جس پر پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ وزیراعظم کا واشگاف الفاظ میں کہنا تھا کہ ان مزموم واقعات میں ہمارے مشرقی ہمسائے کا ہاتھ ہے، جہاں سے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ یہ دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں خارجی ملوث ہیں، تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کی کامیابی اور پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، مگر شہدا کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور پاکستان جلد ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، جن میں 42 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں 54 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان بزدلانہ حملوں کا بنیادی مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا اور یہ سب کچھ بھارت کی سرپرستی میں کروایا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور فورسز نے دشمن کے اس ایجنڈے کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا ہے۔